07:15 am
    چو طرفہ   یلغار   اور  میر کا  شعر   !  

    چو طرفہ   یلغار   اور  میر کا  شعر   !  

07:15 am

 گوادر کے ہوٹل پر دہشت گرد حملہ ناکام ہوا۔ تین دہشت گرد واصل بہ جہنم ہوئے ۔ راہ چلتا بچہ بھی آنکھیں بند کر کے بتا سکتا ہے کہ حملے کا ہدف کیا تھا ؟ دہشت گردوں کے مقاصد کیا تھے ؟ اور ان دہشت گرد کٹھ پتلیوں کی ڈوریں کون سی قوتیں ہلا رہی ہیں ؟ پی سی ہوٹل گوادر میں مقیم چینی مہمان ہی دہشت گردوں کا بنیادی ہدف تھے ۔  حملے کے ذریعے دشمن نے کثیرالجہتی پیغامات دیئے ہیں  ! اول، بلوچستان خصوصاً گوادر اور  اُس کے گردو نواح غیر ملکیوں کے لیے محفوظ نہیں ۔ دوم ، سی پیک منصوبہ ہمہ وقت حریفوں کی زد میں ہے۔ شاہراہیں اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر ہو بھی گیا تو مسلسل دہشت گرد حملوں کی وجہ سے بھر پور سرمایہ کاری کی راہ روکی جائیگی  ۔ سادہ لفظوں میں دشمن نے  اس منصوبے کی ایسی موت کی دھمکی دی ہے جو چین اور پاکستان دونوں کے مفادات کو شدید زک پہنچا سکتی ہے۔  سوم، پی سی ہوٹل حملہ بلوچستان میں ہونے والے  اُن حالیہ حملوں کا تسلسل ہے جن میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں بشمول نیوی اہلکاروں ، ہزارہ برادری اور ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ دشمن بڑی دیدہ دلیری سے دہشت گردی کے ذریعے  ملک کے طول و عرض میں ریاستی رٹ کو  للکار رہا ہے ۔  یہ بات کوئی راز نہیں کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت اور امریکہ کا ہاتھ ہے ۔
 
 سی پیک منصوبے پر یہی دونو ں ممالک سب سے زیادہ معترض ہیں ۔ صد شکر ! حملہ آور دہشت گرد کسی غیر ملکی مہمان کا بال بھی بیکا نہ کرسکے ۔ حسب روایت فرض شناس فرزندان وطن نے اپنا لہو بہا کے ارض وطن کے مفادات کا تحفظ کیا ۔ ہوٹل پر تعینات چار سیکورٹی گارڈ سلام عقیدت کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کر کے دہشت گردوں کی پیش قدمی کو ابتدائی مرحلے پر ہی مسدود کیا ۔ ان چاروں شہداء کے لواحقین کی بہترین کفالت اور مکمل  سر پرستی میں حکومت ذرہ برابر کوتاہی نہ ہونے دے ۔ پاک نیوی کے ایک اہلکار نے بھی جام شہادت نوش کیا جبکہ پاک فوج ، بحریہ اور ہوٹل کے مجموعی طور پر چھ اہلکار زخمی ہوئے ۔ گو کہ حملہ آور دہشت گرد جہنم رسید کر دیئے گئے لیکن ان کے غیر ملکی  آقا اور مقامی سہولت کار  تا حال متحرک ہیں ۔ قرائن بتا رہے ہیں کہ دہشت گردی کا سلسلہ دراز ہو گا ۔
 لاہور میں سید ہجویر داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر ہونے والا خود کش حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ جان لیوا حملے سے کچھ دیر بعد زائرین نے مسجد میں باجماعت نماز ظہر ادا کی ۔ رب کائنات کی توحید  و کبریائی کا  اعلان ہوا ۔ سیدالمرسلینﷺ کی رسالت کی گواہی دی گئی ۔ پاکستانی قوم متحد ہے ۔ خوف کا دور دور شائبہ نہیں ۔ مساجد ، خانقاہیں ، مزارات اور مدارس اتحاد ملت کی علامت ہیں ۔ یہ ریاست کے وفاداروں کے گڑھ ہیں ۔ اسی لیے دشمن انہیں بار بار ہدف بنا رہا ہے ۔    بھارت اور امریکہ مل کے پاکستان کی شہ رگ پر پھندا کس رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کیا ہیں ؟ قرض دینے والا مالیاتی ادارہ حساس دفاعی معاملات کی ٹوہ کیوں لگا رہا ہے ؟ ایف اے ٹی ایف کے فورم پر پاکستان کے خلاف رائی کے پہاڑ کیوں بنائے جا رہے ہیں  اور بھارت اس سارے معاملے میں کیا گھنائونا کردار ادا کر رہا ہے ؟  یاد رکھیے ! 
امریکہ جیسی عالمی طاقتیں  اپنے ہدف کو عسکری حملوں سے ہی شکار نہیں بناتیں بلکہ بین الاقوامی اداروں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے بھی زیر کر تی ہیں ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف ، یو این او  اور ایف اے ٹی ایف جیسے نام نہاد عالمی ادارے مکمل طور پر امریکہ کے زیر اثر ہیں  ۔ پاکستان کے گھٹنے لگانے کے لیے چو طرفہ یلغار جاری  ہے ۔ مشرقی اور مغربی سرحدات پر  بھارت اور افغانستان نے  جنگ کی آگ دھکا رکھی  ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال سے وابستہ پیچیدگیاں مجموعی طور پر بھارت کو بد حواس کیے ہوئے ہیں ۔  ایران سے ملحق سرحد پر  ہر دو جانب  بتدریج دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایران پر امریکی پابندیوں نے خطے میں کشیدگی کی ایسی لہر پیدا کی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے ۔ 
اندرونی محاذ پر سرحد پار دہشت گردی ، معاشی ابتری ، لسانی گروہوں کی منفی سر گرمیاں‘ سیاسی عدم استحکام اور حکومتی بد انتظامی جیسے سنگین مسائل در پیش ہیں ۔  محب وطن طبقوں کو سر جوڑ کے بیٹھنا ہوگا ۔  تمام اراکین پارلیمان اپنے آئینی  حلف کی پاسداری کریں ۔  ملک حالت جنگ میں ہے ۔ حکومت اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرے ۔ اپوزیشن گروہی مفادات اور چند سیاسی شخصیات کی ترجمانی سے اوپر اُٹھے اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے وسیع تر کردار ادا کرے ۔ حساس قومی معاملات پر مشترکہ موقف اپنایا جائے۔ ان اہم پہلووں پر پارلیمان کی اشد  توجہ  درکا ر ہے ۔ اول، دہشت گردوں کے خلاف پولیس اور سول خفیہ ایجنسیاں غیر فعال کیوں ثابت ہو رہی ہیں ؟ دوم، بھارتی سفارتی جارحیت  اور سرحد پار دہشت گردی کے مقابل پاکستانی دفتر خارجہ روایتی مجرمانہ سستی  ترک کیوں نہیں کر رہا ؟  سوم، لسانی نفرت کا پرچار کرنے والے گروہوں کو سوشل میڈیا پر زہر آلود پروپیگنڈا کرنے کی کھلی چھوٹ کیوں  دی جا رہی ہے ؟ اگر نیشنل ایکشن پلان کے تحت لائوڈ سپیکر پر اذان  دینے ، نعت پڑھنے  اور قرات کرنے والوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے تو پھر ریاستی اداروں کے خلاف غیر ملکی سرمائے سے  زہر اگلنے والے جعلی پشتون و  بلوچ  قوم پرستوں اور  اُن کی حمایت میں بھونک بھونک کے نفرت پھیلانے والے   لبرل ٹوڈیوں کے گلے میں ریاست پٹا کیوں نہیں ڈال رہی ؟ کیا یہ اتفاق ہے کہ عین حالت جنگ میں  جس پی ٹی ایم پر ریاستی ادارے ملک دشمن قوتوں سے خفیہ تعلقات کا الزام لگائیں اسے سندھ پر حکمراں جماعت کے بعض قائدین اپنی گود میں لیے پھر رہے ہیں ۔ 
کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ جونہی بلوچستان اور کے پی کے میں لسانی بنیادوں پر دہشت گردی اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے نے زور پکڑا اسی وقت کراچی پر ماضی میں غنڈا راج قائم کرنے والی جماعت کو صوبہ سندھ لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا دورہ پڑ گیا ۔ کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ پاکستان میں  لسانی نفرت اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرنے والے ہر کردار کو  آج کل  وائس آف امریکہ پر بھر پور کوریج دی جاتی  ہے ؟  قوم منتظر ہے کہ کب  پارلیمان کو ان  موضوعات پر غور فرمانے کی فرصت ملتی ہے ! پارلیمان کی  اس بے رخی پر استاد میر تقی میر کا یہ شعر یاد آیا ! 
پِھر گئیں  آنکھیں تم نہ آن پھرے 
دیکھا تم کو بھی واہ واہ  صاحب  

تازہ ترین خبریں