07:56 am
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 

07:56 am

محبت کے بارے بھی عجیب مٹی سے بنے ہوتے ہیں نہ انہیں روناآتا ہے اور نہ ہنسنے کا موقع ملتا ہے یوں اس کشمکش ميں انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کے ساتھ بیتی کیا ہے چہ جائیکہ وہ آئندہ بیتنے والی کا تصور بھی کر سکیں۔ وطن عزیز کے میرے ہم وطن ایک عرصے سے خوشحالی کا خواب آنکھوں میں سجائے منتظر تھے کسی ایک مسیحا کے جو ان کے لیے ستار ے توڑ کر لے آتا انکی سونی مانگ میں چاند سجاتا۔ انگریز بہادر تو چلا گیا ۔ لاچار اور بے بس رعایا نے سوچا شاید آزاد ہو گئے ہیں جبکہ ا نہیں تو ادراک ہی نہیں تھا کہ آزادی ہوتی کیا ہے آزادی کا مفہوم کیا ہے اس کے محاسن کیا ہوتے ہیںلیکن انہیں بتایا گیا کہ وہ آزاد ہو گئے ہین لیکن جب تھانے کچہری گئے تو پتہ چلا کہ آزاد تو تھانے کچہری والے ہوئے ہیں سائل تو مزید غلام ہو گئے ہیں۔ انگر یز بہادر تھانے کچہری میں بھی انصاف یقینی بناتا تھا مگر اب تو وڈیرہ اور جاگیردار انصاف کا ترازوپکڑے کہیںدور چھپا بیٹھا ہے ۔ لیکن آزادی کے متوالوں نے اس سے بھی کمپرو مائیز کرلیا ۔ حکومتیں بدلتی رہیں ۔ اسی رعایا کے نام پر عدالتیں اسمبلیاں اور کچہریاں بنتی بگڑتی رہیں ۔ انہیں بتایا جاتا رہا خوشحالی آگئی ہے وہ سن کر ہی خوش ہوتے رہے ان کی خوشحالی تنور کی روٹی اور پیاز کی چٹنی کے ساتھ چھاچھ تک محدود رہی پھر مزید خوشحالی آئی بڑے لوگوں نے سوچا ڈیری تو بڑا بزنس ہے اور اس سے مزید خوشحالی آئیگی اس طرح مزید خوشحالی آئی اور اس مزدور سے وہ چھاچھ بھی چھن گئی کہ گھر کی روٹی چلانے اور بھینس کا چارہ پورا کرنے کے لئے دودھ ڈیری والوں کو دینا پڑا۔ مگرجمہوریت پروان چڑھتی رہی ۔خوشحالی اور ترقی کے دس سال بھی گزر گئے پھر نئی جمہوریت آئی اور اس نئی جمہوریت نے کسان کا رات کادودھ کا پیالہ بھی واپس لے کر چائے کی پیالی تھما دی کہ بدن میں چستی لاتی ہے ۔
 
22 سال سے عمران انہی لاچار اور بے بس لوگوںکی شریک اقتدار کرنا چاہ رہا تھا۔ اس نے لوگوں کی آنکھوں میں چمک دیکھی ۔ کرکٹ چونکہ بالعموم شہری نوجوانوں کی فیورٹ کھیل ہے اور عمران لاکھوں کروڑوں نوجوان لڑکوں لڑکیوں کی آنکھ کا تارہ بنے ۔ جو کہتا ہے وہ کرتا ہے ا س نے کینسر ہسپتال کے لیے جھولی پھیلائی لڑکیوں نے کانوں کی بالیا ںاتار کر دان دیں بچوں نے اپنی پاکٹ منی وار دی ۔ اس نے یونیورسٹی بنانے کیلئے ہاتھ پھیلائے لوگوں نے ایک وقت کا فاقہ کرکے اس کی آواز پر لبیک کہا ۔ پھر جب اس نے سسٹم کے خلاف آواز اٹھائی لوگ اس کے دیوانے ہو گئے گویا انہیں مسیحا مل گیا ۔ شاید اب لوگوں کو آزادی کا مفہوم معلوم پڑنے لگا تھا انہوں نے سوچا عمران انہیں آزاد کرائے گا پرانے نظام سے فرسودہ نظام سے غربت سے جہالت سے محرومی سے اس لئے وہ اس کا ہر اول دستہ بن گئے شاید یہ بھول گئے کہ صاحبان ثروت ہی صاحبان اقتدار ہوا کرتے ہیں وہ جنہیں حکومت کرنے کی سائنس سے آگاہی ہوتی ہے وہی حکومت کیا کرتے ہیں۔ عمران کی محبت اپنی جگہ اس کی خواہش یقینا ًہے کہ وہ عام آدمی کا بھلا کر ےمگر وہ بھی اسی سسٹم کو لیکر چل پڑا ہے ۔ جسے وہ ناپسند کرتا تھا۔ عمران یقینا سرکار مدینہ کا چاہنے والا ماننے والا ہے مگر نیو ورلڈ طبقاتی نظام کے سامنے بے بس نظر آرہا ہے ۔ عمران کی شدید خواہش ہے ملک میں سرمایہ کاری بڑھے نوکریاں پیدا ہوں ساتھ ہی ساتھ یہ بھی چاہتے ہیں کرپشن کا خاتمہ ہو ۔ سرمایہ کاری تو سرمایہ کاروں نے کرنی ہے اور جب کرنی ہے جب انہیں سرمایہ کاری کے لیے ساز گار خوشگوار ماحول میسر ہو گا جب ہر سُو دہشت اور خوف کی فضا ہو گی تو کون سرمایہ لگائے گا۔ بچت کے مشورے تو سبھی دیتے ہیں لیکن آمدنی بڑھانے روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے ساز گار ماحول پیدا کرنے کے لیے بزنس فرینڈلی پالیسیاں لانا ہوں گی ۔ سرکار مدینہ نے عام معافی کا اعلان کرکے مکہ میں اپنے بدترین دشمنوں کو بھی اپنا فدائی بنا لیا تھا اور وہی وہی فدائین رسول کی حرمت اور عظمت پر قربان ہونے میں سب سے آگے ہوا کرتے تھے۔
 ہمارے محترم وزراء ابھی خوشخبریاں دے رہے ہیں کہ محض چند سال مشکل ہیں پھر خوشحالی ہوگی شاید انہیں اندازہ نہیں 40 فیصد سے زائد لوگوں کے پاس آئندہ ہفتے کے لئے اندرختہ نہیں وہ کہاں سالوں انتظار کریں ۔ ایک وقت میں ایک کام کریں اولیں ترجیح سرمایہ کار کا فروغ ہے تاکہ اکنامک ایکٹوٹی شروع ہو ۔ ذرائع آمدنی بڑھیں لوگوں کو روزگار ملے۔ باقی سب کام موخر کرلیں تاکہ لوگ جینا تو سیکھ لیں ۔ جئیں گے تو کچھ کریں گے۔ عمران ان کا ہیرو ہے ان کا مسیحا ہے اسے خود آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھامنا ہے ۔ زراعت برباد ہو رہی ہے ۔ کوئی پرسان حال نہیں ۔ بڑے زمیندار کا رولا نہیں وہ دو سال کمائی نہیں کرے گا اپنے لئے خوراک بہت ہوگی مگر کسان رُل رہا ہے ۔ مزدور کو روزگار نہیں مل رہا ہے ٹاسک فورسز اور کمیٹیاں کچھ نہیں کریں گی ۔ کپتان کو خود Initiative لینا ہوگا۔