07:57 am
مسائل اعتکاف

مسائل اعتکاف

07:57 am

 اعتکاف میں یہ ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد کے اندر بہ نیت اعتکاف موجود ہو اور انتیس کے چاند کے بعد یا تیس کے غروب آفتاب کے بعد مسجد سے باہر نکلے۔ (بہار شریعت حصہ۵ ص۱۵۱) اگر ۲۰ رمضان المبارک کو غروب آفتاب کے بعد مسجد میں داخل ہوئے تو اعتکاف کی سنت موکدہ ادانہ ہوئی بلکہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مسجد میںتو داخل ہوچکے تھے مگر نیت کرنا بھول گئے تھے یعنی دل میں نیت ہی نہیں تھی (نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں) تو اس صورت میں بھی اعتکاف کی سنت مؤکَّدہ ادا نہ ہوئی۔ اگر غروب آفتاب کے بعد نیت کی تو نفلی اعتکاف ہو گیا‘ دل میں نیت کرلینا ہی کافی ہے‘ زبان سے کہنا شرط نہیں البتہ دل میں نیت حاضر ہونا ضروری ہے‘ ساتھ ہی زبان سے بھی اس طرح کہہ لینا زیادہ بہتر ہے۔
 
اعتکاف کی نیت اس طرح کیجئے،’’میں اللہ عزوجل کی رضا کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں۔‘‘
فنائے مسجد میں جانے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا‘ معتکف بغیر کسی ضرورت کے بھی فنائے مسجد میں جاسکتا ہے۔ فنائے مسجد سے مراد وہ جگہیں ہیں جو احاطہ مسجد (عرفِ عام میں جس کو مسجد کہا جاتا ہے) میں واقع ہوں اور مسجد کی مصالح یعنی ضروریات مسجد کے لیے ہوں‘ جیسے منارہ‘ وضوخانہ‘ استنجاخانہ‘ غسل خانہ‘ مسجد سے متصل مدرسہ‘ مسجد سے ملحق امام و موذن وغیرہ کے حجرے‘ جوتے اتارنے کی جگہ وغیرہ یہ مقامات بعض معاملات میں حکم مسجد میں ہیں اور بعض معاملات میں خارج مسجد۔ مثلاً یہاں پر جنبی (یعنی جس پر غسل فرض ہو) جا سکتا ہے۔ اسی طرح اقتداء اور اعتکاف کے معاملے میں یہ مقامات حکمِ مسجد میں ہیں۔ معتکف بلا ضرورت بھی یہاں جاسکتا ہے۔ گویا وہ مسجد ہی کے کسی ایک حصے میں گیا۔
حضرت مولانا محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ’’فنائے مسجد ‘ جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریاتِ مسجد کیلئے ہے‘ مثلاً جوتا اُتارنے کی جگہ اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا‘‘۔ مزید آگے فرماتے ہیں ’’فنائے مسجد اس معاملے میں حکم مسجد میں ہے‘‘۔ (فتاویٰ امجدیہ ج۱  ص۳۹۹)
اسی طرح منارہ بھی فنائے مسجد ہے اگر اس کا راستہ مسجد کی چاردیواری (بائونڈری وال) کے اندر ہو تو معتکف بلاتکلف اس پر جاسکتا ہے اور اگر مسجد کے باہر سے راستہ ہو تو صرف اذان دینے کیلئے جاسکتا ہے کہ اذا ن دینا حاجتِ شرعی ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ’’بلکہ جب وہ مدارس متعلق مسجد حدود مسجد کے اندر ہیں‘ ان میں راستہ فاصل نہیں (جو ان مدارس کو مسجد کی چاردیواری سے جدا کردے) صرف ایک فصیل (یعنی دیوار) سے صحنوں کا امتیاز کردیا ہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جانا ہی نہیں‘ یہاںتک کہ ایسی جگہ معتکف کا جانا جائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ (یعنی حصہ) ہے‘‘۔ ’’رد المختار‘‘ میں ’’بدائع الصنائع‘‘ کے حوالے سے ہے اگر معتکف منارہ پر چڑھا تو بلا اختلاف اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیوں کہ منارہ (معتکف کے لیے) مسجد ہی (کے حکم) میں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ۳ ص۴۸۴)
صحن مسجد کا حصہ ہے لہٰذا معتکف کو صحن مسجد میں آنا جانا بیٹھے رہنا مطلقاً جائز ہے۔ مسجد کی چھت پر بھی آجاسکتا ہے لیکن یہ اس وقت ہے کہ چھت پر جانے کا راستہ مسجد کے اندر سے ہو۔ اگر اوپر جانے کیلئے سیڑھیاں احاطہ مسجد سے باہر ہوں تو معتکف نہیں جاسکتا۔ اگر جائے گا تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ معتکف، غیر معتکف دونوں کو مسجد کی چھت پر بلاضرورت چڑھنا مکروہ ہے کہ یہ بے ادبی ہے۔ 
اعتکاف کے دوران دو وجوہات کی بنا پر مسجد سے باہر نکلنے کی اجازت ہے۔ (۱) حاجت شرعی (۲) حاجت طبعی۔ حاجت شرعی یعنی جن احکام و امور کی ادائیگی شرعاً ضروری ہو اور معتکف‘ اعتکاف گاہ میں ان کو ادا نہ کرسکے‘ ان کو حاجات شرعی کہتے ہیں مثلاً نماز جمعہ اور اذان وغیرہ۔ اگر منارے کا راستہ خارج مسجد(یعنی احاطہ مسجد سے باہر) ہو تو بھی اذان کے لیے معتکف بھی جاسکتا ہے کیونکہ اب یہ مسجد سے نکلنا حاجت شرعی کی وجہ سے ہے۔ (از ردالمحتار ج ۳ ص ۴۳۶)
اگر ایسی مسجد میں اعتکاف کر رہا ہو جس میں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو معتکف کیلئے اس مسجد سے نکل کر جمعہ کی نماز کیلئے ایسی مسجد میں جانا جائز ہے جس میں جمعہ کی نماز ہوتی ہو اور اپنی اعتکاف گاہ سے اندازاً ایسے وقت میں نکلے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے وہاں پہنچ کر چار رکعت سنت پڑھ سکے اور نماز جمعہ کے بعد اتنی دیر مزید ٹھہر سکتا ہے کہ چار یا چھ رکعت پڑھ لے اور اگر اس سے زیادہ ٹھہرا بلکہ باقی اعتکاف اگر وہیں پورا کرلیا تب بھی اعتکاف نہیں ٹوٹے گا لیکن نماز جمعہ کے بعد چھ رکعت سے زیادہ ٹھہرنا مکروہ ہے۔ (درمختار مع رد المحتار ج ۳ ص ۴۳۷)

تازہ ترین خبریں