07:59 am
رمضان المبارک کا حاصل

رمضان المبارک کا حاصل

07:59 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
 ’’وہ تیار کی گئی ہے (اور سنواری گئی ہے) اہل تقویٰ کے لیے۔‘‘ (آل عمران)
 ’’یقینا اہل ِتقویٰ کے لیے کامیابی ہو گی۔‘‘(النباء)
 
’’یقینا متقی لوگ باغات میں اور نعمتوں میںہوںگے۔‘‘(طور)
’’اور وہ (اہل جنت) ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے باہم سوال کریں گے۔وہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے اہل و عیال میںڈرتے ہوئے رہتے تھے۔‘‘(طور)
یعنی ہم ڈرتے رہتے تھے اس خیال سے کہ کہیں اللہ کا عذاب ہمیں نہ پکڑ لے اور اس وجہ سے ہم گناہوں سے بچتے تھے ۔توا للہ کا فضل ہوا ہے کہ آج ہم یہاں پر جمع ہیں ۔
اس وقت مسلمان تو دنیا میں اربوں کی تعداد میں ہیں لیکن تقویٰ کہاں ہے ؟قرآن مجید کے جس مقام پر  روزے کے سارے احکام بیان ہوئے ہیں وہیں پر  تقویٰ کا  لٹمس ٹیسٹ بھی بیان ہوا ہے ۔
’’اور تم اپنے مال آپس میں باطل طریقوں سے ہڑپ نہ کرو اور اس کو ذریعہ نہ بنائو حکام تک پہنچنے کا تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہّ ہڑپ کر سکو گناہ کے ساتھ اور تم اس کو جانتے بوجھتے کر رہے ہو۔‘‘ (البقرہ:188)
روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے اور تقویٰ کا معیار یہ ہے کہ آپ حرام سے بچیں۔کئی لوگ جانتے بوجھتے حرام کما رہے ہوتے ہیں اور اس کو وہ گناہ بھی نہیں سمجھتے ۔ جیسے ہمارے ہاں رشوت کا چلن عام ہے ۔ جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہیںہوتے ۔ پھر کتنے ہی لوگ رشوت دے کر عہدے اور ترقیاں حاصل کرتے ہیں اور اس طرح وہ دوسروں کا حق غصب کرتے ہیں ۔لیکن اس آیت میں ایک لٹمس ٹیسٹ دے دیا گیا کہ اگر اس معاملے میں انسان نے اپنی اصلاح نہیں کی تو گویا رمضان سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا کیونکہ تقویٰ حاصل نہیں ہوا ۔اس حوالے سے مولانا ابو الحسن علی ندوی نے بڑے خوبصورت انداز سے یہ بات بیان کی کہ روزے دو طرح کے ہیں ۔ایک روزہ تو وہ جو ماہ رمضان میں رکھا جاتا ہے ۔ اس کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ اس میں کیا کرنا ہے ۔لیکن ایک روزہ وہ ہے جو انسان کی زندگی کے آخری سانس تک چلتا ہے ۔جس طرح ہم رمضان کے روزے میں اپنے اوپر کچھ چیزوں کی بندش عائد کرلیتے ہیں اسی دوسرے روزے یعنی ساری زندگی کے روزے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں حرام کردی ہیں ان کی طرف جانا ہی نہیں ہے۔ یہ روزہ موت تک چلتا ہے ۔ قرآن وحدیث میں جن چیزوں سے بچنے کاحکم ہے ان سے بچنا بھی روزہ ہے۔رمضان کا روزہ دوسرے روزے کی ٹریننگ کے لیے ہے ۔ہم رمضان کے روزے میں بعض جائز چیزیں بھی اللہ کے حکم سے اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں لیکن دوسرے روزے کاخیال ہمیں نہیں رہتاجو اس پہلے روزے کا منطقی نتیجہ ہونا چا ہیے ۔یعنی پوری زندگی کے روزے میں حرام کاموں کو چھوڑنے کے لیے اللہ کا حکم نہیں مانتے ۔جو چھینا چھپٹی ہمارے ہاں ہوتی ہے ، ہر شخص دائو پر ہوتا ہے ۔رشوت دے کر دوسروں کا حق مار رہے ہوتے ہیں ،رشوت دے کر سرکاری ٹھیکے لے رہے ہوتے ہیں ، سب کو پتا ہے۔یہاں تو مقصد حیات ہی یہ ہے کہ جہاں سے ہاتھ لگے مال نکالو ، میرٹ پر پورے اُترتے ہو نہیں اُترتے لیکن رشوت دے کر کوئی بھی عہدہ اور ملازمت حاصل کر لو ۔سرکاری محکموں کے اندر آج کشش ہی یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہاں لوگوں سے ’’مال ‘‘نکالنے کا موقع ملتا ہے۔اب رمضان کے روزے میں ہم اگر جائز چیزیں چھوڑ بھی دیں لیکن پوری زندگی کے روزے میں ہم حرام کو بھی نہ چھوڑیں تو رمضان کا مقصد کیسے پورا ہو گا؟ 
رمضان میں دن کے روزے کا مقصد یہ ہے کہ انسان پرہیز گاری اختیار کرے اور رمضان کے بعد بھی حرام کاموں سے بچے ۔ اسی طرح رات کے قیام یعنی تراویح کی نماز کا بھی ایک مقصد ہے ۔تراویح کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت قرآن کے ساتھ گزارا جائے ۔ اس کو پڑھا جائے ، اس کو سمجھا جائے اور اس کی آیات میں غور وفکر کیا جائے ، پھر اس سے باقی زندگی کے لیے راہنمائی حاصل کی جائے ۔پھر یہ کہ قرآن مجید کے ساتھ ہمارا یہ تعلق صرف رمضان تک محدود نہ ہو جائے بلکہ رمضان میں ہمارا قرآن کے ساتھ جوتجدید تعلق ہو اہے اسے مزید آگے بڑھایا جائے ۔کیونکہ قرآن کتاب ہدایت ہے جو ہماری راہنمائی کے لیے اُتاری گئی ہے ۔زندگی کے ہر ہر گوشے کے لیے اس میں ہدایت موجود ہے ۔اگر ہم اس کی ہدایت پر چلیں گے تو انشاء اللہ اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی کی طرف لے جائے گا۔جو اصل کامیابی ہے۔ لیکن ہم نے اسے کتاب مقدس بنا کر ایک ریشمی جزدان کے اندر لپیٹ کر طاق کے اوپر سجا دیا ۔کھلتا کب ہے ؟ اس حوالے سے اقبال فرماتے ہیں   
بآیاتش ترا کارے جز ایں نیست
کہ از یٰسین او آساں بمیری
اے مسلماں! یہ قرآن جو ایک زندہ کتا ب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے اعلیٰ ترین تحفہ ہے لیکن تو نے اسے ایسی کتاب بنادیا ہے کہ جو صرف مرتے ہوئے شخص کے لیے کھولی جاتی ہے تاکہ یٰسین پڑھ کر اسے سنا دی جائے تاکہ جان آسانی سے نکل جائے ۔ آج ہم ایک قدم اورآگے نکل گئے ہیں ۔ شاید اقبال کے زمانے میں قرآن کا یہ نیا مصرف ایجاد نہیں ہوا تھا ورنہ وہ اس کا بھی ذکر کرتے ۔وہ نیا مصرف بھی ہم نے مُردوں کے لیے ہی ایجاد کیا ہے زندوں کے لیے نہیں ۔وہ یہ ہے کہ جب کوئی بندہ مرجائے تو اس کے تیسرے دن قرآن خوانی کر دی جائے ۔گویا ہم نے سمجھ رکھا ہے کہ یہ کتاب صرف مُردوں کے لیے ہے زندوں کے لیے نہیں۔ حالانکہ صحابہ کرامؓ کا قرآن کے ساتھ طرز عمل یہ تھا کہ ان کا معمول تھا کہ وہ ایک ہفتے میں قرآن کی تلاوت مکمل کرتے تھے ۔یہ قرآن کے سات حصے (حزب)اسی وجہ سے ہیں اور اکثرصحابہؓ  تہجد کی نماز میں پڑھتے تھے ۔رمضان میں قرآن سے تعلق قائم کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ قرآن کی تلاوت او ر اس کو سمجھ کر پڑھنایہ صرف رمضان کے لیے ہی نہ ہوبلکہ اس کو آگے بڑھایا جائے۔

تازہ ترین خبریں