08:00 am
پاکستانی روپے کی قدر بڑھ سکتی ہے

پاکستانی روپے کی قدر بڑھ سکتی ہے

08:00 am

 ملکی پیداوار میں کمی  اور درآمدات میں اضافہ سے ڈالر مہنگا ہو جا تا ہے۔غیر یقینی سیاسی صورتحال اور سرمایہ داری میں کمی بھی ملکی اقتصادی حالت کو مزید ابتر بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ملک دشمنوں کا نشانہ خاص طور پر سی پیک بھی بن رہا ہے۔چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی کرنسی یو آن یا  آر ایم بی میں  تجارت کی خواہش کا اظہار اسی وجہ سے کیا تھا۔ سی پیک اور گوادر کے حوالے سے چین ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کو ترجیح دینا چاہتا تھا۔1994میں یوآن کی قدر کم ہو کر7یو آن(آر ایم بی) فی ڈالر ہوئی تو پھر اس ڈالر کے خلاف ہنگامی اقدامات کئے گئے۔چین نے ڈالر کی قدر کم کر دی ہے۔جب کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھی ہے۔ یہ67روپے سے150پر پہنچ چکا ہے۔کرنسی کی قدر میں کمی یا اضافے کا اثر کمزور معیشت پر زیادہ ہوتا ہے۔ جب کہ جاپان جیسی مضبوط معیشت اس کا اثر قبول نہیں کرتی۔امریکی ڈالر109ین کا ہے۔مگر انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔  آج چین اور جاپان دنیا کی پہلی اور دوسری مملکتیں ہیں جن کے زرمبادلہ کے ذخائر سب سے سے زیادہ ہیں۔ امریکہ 22ویں نمبر پر ہے۔پاکستان کی رینکنگ کم ہوئی ہے۔ہماری غیر ملکی کرنسی کی کمائی میں کمی آ رہی ہے۔ہماراغیر ملکی قرضہ ہماری آمدن کی رفتار سے بہت زیادہ ہے۔ڈالر کی قدر میں اضافہ پہلے سے ہو رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ٹماٹر اور ڈالر کی قیمتیں برابر ہو گئیں۔اس کی بھی کئی وجوہات تھیں۔سب سے بڑی وجہ ہماری پیداوار میں جمود ہے۔آج16 مئی 2019میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈالر کی زر مبادلہ اور در آمدات برآمدات کے لئے طلب ہے۔  ہماری ترسیلات زر میں اضافہ بھی اس رفتار سے نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی کہ ہوم ریمیٹنس اضافہ چاہتی ہیں۔ اس میں تیز رفتاراضافہ کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ بینک کا اعتراف ہے کہ ملکی زر مبادلہ کے زخائر میںکمی ہو رہی ہے۔ اگر زر مبادلہ کے ذخائر ہوتے ہی ہمارے روپے کی قدر میں کمی آ رہی ہے۔ ڈالر کی طلب بہت زیادہ اس لئے ہے کہ ملکی بر آمدات اور در آمدات کا انحصارڈالر پر ہی ہے۔ ہم باہر سے اتنا مال منگواتے ہیں کہ ڈالر میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔  وزیر اعظم عمران خان  نے جب حکومت سنبھالی ، اس وقت  زرمبادلہ کے زخائر اتنا کم نہ تھے۔ دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ چین کے پاس ہے۔ 30کھرب  ڈالر۔ امریکہ سوا کھرب ڈالر کا زرمبادلہ رکھتا ہے۔ہماری نظریں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر ہیں۔ وہ ہماری معیشت کو اوپر لے جا سکتا تھا۔ اس میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ ہمارے لئے زیادہ اہمیت خود انحصاری کی ہو گی۔یہی ہمیں معاشی پاور بنا سکتی ہے۔بیرونی سرمایہ کاری  اس میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔بھارت نے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کی وجہ سے ایک سال میں اپنے ذخائر میں بھاری اضافہ کیا ہے۔
 
زرمبادلے کے زخائر میں اضافہ یا کمی کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ اگر بارٹر سسٹم کے تحت مال کے بدلے مال کی تجارت ہو تو پاکستان کے لئے یہ بہتر تھا۔ ہم باہر سے تیل منگواتے، یا دفاعی ٹیکنالوجی یا آئی ٹی کا ساز و سامان ۔ اس کے بدلے یہاںسے اپنی مصنوعات بر آمد کر سکتے تھے۔ لیکن ہم اب اس زرعی پیداوار سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ کبھی اس کی وجہ سیلاب بتائی جاتی رہی۔ دوسری وجہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے یہاںسے مال افغانستان جاتا ہے۔ اس لئے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم دن بدن آرام طلب بن رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری طلب بڑھ رہی ہے اور رسد میں کمی ہو رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بیٹھے بٹھائے ہمیں سب کچھ مل جائے گا۔ دھرنے، ہڑتالیں، کشیدگی کچھ کام نہ  آئے گی۔
 پی پی پی کے بعد مسلم لیگ ن نے بھی عید کے بعد ہڑتالوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ سیاسی کشیدگی کی صورتحال بھی معیشت کو مزید لڑکھڑا دے گی۔ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ پتھر میں کیڑے مکوڑے تک کو رزق دیتا ہے۔ وہ رزاق ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہی نے تلاش معاش اور رزق حلال کے لئے محنت کرنے حکم دیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں کمی  کی وجہ ملکی پیداوار میں کمی ہے۔ ملکی پیداوار بڑھانے کے لئے حکومت ہی زمہ دار نہیں ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہر فرد کو کام کرنا ہے۔ گھر کا ہر فرداپنے اپنے کام کے ساتھ انصاف کرے۔ ہماری تعلیم کا نظام بھی عجیب ہے۔لوگ ماسٹرز، پی ایچ ڈی تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن کام نہیں کرتے۔ ہم پڑھتے ہی ملازمت کے لئے ہیں۔ ڈاکٹر ، انجینئر ، منیجرزبننے کے لئے ڈونیشن دیتے ہیں۔ ڈگریاں خرید کر ڈاکٹر بنیں گے تو انجام یہی ہو گا۔ لوگ چل کر ہسپتال جاتے ہیں۔ اور ان کی لاشیں اٹھا کر لائی جاتی ہیں۔ بعض ڈاکٹر بھی دو نمبر اورزیادہ تر ادویات بھی دو نمبر۔اگر ٹماٹر پیاز کی ملک میں پیداوار نہ ہو تو ہم اسے باہر سے منگواتے ہیں۔ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تو بھارت نے ٹماٹر کی سپلائی بند کر دی۔ ضروری نہیں کہ مہنگی اشیاء استعمال کی جائیں۔ جو بھی چیز مہنگی ہے۔ یا ملکی پیداوار نہیں تو ضروری نہیں اسے کھائے بغیر چین نہیں آئے گا۔ مہنگی چیز کو بھول جائیں ۔ قیمت خود بخود کم ہو جائے گی۔ باہر سے درآمد کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ لوگ اپنے گھروں میں کچن گارڈن کی روایت ختم کر چکے ہیں۔ ہمارے لوگ گائوںمیں کئی کئی کنال زمین کے مالک ہیں۔ لیکن کام نہیں کرتے۔ فصل نہیں اگاتے۔ پودے نہیں لگاتے۔ ہم پھل دار پودوں کے بجائے سدا بہار پودوں کو ہی پسند کرتے ہیں۔ سدا بہار پودے گرمیوں میں ٹھنڈک دیتے ہیں۔ پھل دار پودے بھی سایہ دیتے ہیں۔یہ بھی کسی سے کم نہیں۔ لیکن چونکہ پھل دار پودے پھل بھی دیتے ہیں، اس لئے ہم ان کی اہمیت سے انکار کر دیتے ہیں۔شجر کاری کے موسم میں ہم  پھل دار پودے لگا سکتے ہیں۔ لوگ دیہات سے بلا وجہ شہروں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔حکومت سہولیات فراہم کرے تو یہ منتقلی رک سکتی ہے۔۔ دیہات میں صاف ستھرا ماحول چھوڑ کر شہر کی بھاگم دوڑ، دھواں، آلودگی،  ہر قسم کا پولوشن،شہر میں سبزیاں، فصل، پھل کی پیداوار کے ساتھ ساتھ دودھ کی مصنوعات کی طرف توجہ دے سکتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں پال سکتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کا یہ مطلب یہ نہیں کہ آپ کا مقصدصرف نوکری ہو۔آپ گائوں میں بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ صرف لگن کی ضرورت ہے۔ کام کی ضرورت ہے۔ آپ سردیوں اور گر میوں میں فصلیں پیدا کر سکتے ہیں۔ تازہ دودھ، سبزیاں کھا سکتے ہیں۔ اپنے تازہ میوے خود بھی کھا سکتے ہیں اور انہیںفروخت کر کے اپنی آمدن میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہر ایک فرد جس کے پاس چند مرلے زمین ہے،یا وہ ملازم پیشہ ہے، وہ ملکی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔ وہ بوجھ بننے کے بجائے قومی بوجھ کم کر سکتا ہے۔ آگاہی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ملکی پیداوار میں اضافے کے لئے اپنا حصہ، جس قدر بھی ہو ، ڈالنے کا عزم کر لیا تو ٹماٹر، انڈے، دودھ، سبزیاں، پھل، آٹا ہی کیا ڈالر سمیت ہر چیز کی قیمت کم ہو گی۔ کیونکہ پیداوار میں اضافہ آمدن کو بڑھا سکتا ہے۔ آپ تازہ اشیاء استعمال کریں گے تو جعلی ڈاکٹروں اور  ادویات کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔  یہی مہنگے ڈالر کا علاج ہے۔ڈالر کی قدر کم کرنے اور پاکستانی روپے کی قدر بڑھانے کاطریقہ  ملکی پیداوار میں اضافہ ہے۔ 

تازہ ترین خبریں