08:01 am
گویا ہے قیامت کا کوئی دِن اور!

گویا ہے قیامت کا کوئی دِن اور!

08:01 am

٭مقبوضہ کشمیر: مزید8کشمیری شہیدO ڈالر 150 روپے ابھی اور اوپر جائے گا O ٹرین حادثے، پڈعیدن، شاہدرہO پاک پتن: گندم کی27 ہزار بوریاں پکڑی گئیںO پاک عرب سوسائٹی 30 ارب کا فراڈO زرداری کیخلاف ایک اور ریفرنس، شدید غصہ، نیب کو دھمکیاں، آئندہ پیش نہ ہونے کا اعلانO حمزہ شہباز کی اپوزیشن لیڈری ختم کی جائے: پیپلزپارٹی Oسابق گورنر عشرت العباد کا بھائی گرفتار، جعلی چیکO ایران امریکہ کشیدگی بڑھ گئی، کسی بھی وقت صورت حال بگڑنے کا خدشہ!
 
٭ڈالر کو نیب کی ہدائت پر کھلا چھوڑ دیا گیا، تادم تحریر150 روپے کا ہو گیا، سٹاک ایکس چینج مزید نیچے گر کر 33 ہزار پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اربوں کا نقصان! گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ بتایا گیا کہ ڈالر کی قیمت زیر بحث آئے گی۔ وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے بتایا ہے کہ اجلاس میں تو ڈالر کا کوئی ذکر ہی نہیں ہوا! ہو بھی کیسے سکتا تھا؟ آئی ایم ایف کے حکم کے سامنے کیسے دَم مار سکتے تھے؟پورا ملک اس کے قدموںمیں رکھ دیا، پھر حکم عدولی کیسی؟ قارئین کرام! اس باب میں خبریں، تبصرے، تجزیے اخبارات کے صفحات میں پڑھ لیجئے! میرا سر چکرانے لگا ہے۔ غالب نے کہا تھا ’’گویا ہے قیامت کا کوئی دِن اور!‘‘
٭راولپنڈی کی ریلوے خور لال حویلی کچھ عرصے سے حیران تھی کہ ٹرینوں کی آمد و رفت ٹھیک ہو رہی ہے، کوئی گڑ بڑ کیوںنہیں ہورہی؟ گزشتہ روز ایک ہی دن، ایک ہی وقت میں دو دو جگہ، پڈ عیدن اور شاہدرہ میں دو واقعات پیش آ گئے۔ پڈ عیدن کے نزدیک ابراہیم شاہ کے مقام پر کراچی سے لاہور جانے والی مال گاڑی پٹڑی سے اُتر گئی، اس پر لدے ہوئے 13 بھاری کنٹینر گر گئے۔ ریلوے لائن بند ہونے سے دونوں طرف مین لائن کی تمام ٹرینیں رک گئیں، صورت حال ایسی تھی کہ ریلیف ٹرین وہاں نہ پہنچ سکی۔ تادم تحریر دونوں طرف ٹرینوں میں بند ہزاروں مسافر سخت مشکلات سے دوچار تھے۔ ٹیلی ویژن مسلسل خبریں دے رہے ہیں مگر لال حویلی کی طرف سے کوئی خبر، اظہار افسوس بھی نہیں! غالبؔ نے کہاتھا کہ کچھ تو ہنگامہ چاہئے، جشنِ طرب نہ سہی نوحہ غم ہی سہی! پڈ عیدن میں تو حسب معمول ٹرین پٹڑی سے اتری (غیر ضروری وزن تھا) شاہدرہ میں راولپنڈی سے لاہور آنے والی سبک رفتار ٹرین کا انجن فیل ہو گیا۔ ریلوے انجن عام طور پر نارووال سیکشن کی گاڑیوں کے فیل ہوا کرتے ہیں۔ اس سیکشن پر کبھی کوئی اچھی حالت والا انجن نہیں لگایا جاتا مگر اس بار یہ سانحہ شاہدرہ کی مین لائن پر پیش آیا۔ لال حویلی کی حیرانی دور ہو گئی ہو گی! اس سبزقدم کے آنے کے بعد اب تک ریلوے کے 15 حادثے ہو چکے ہیں، ایک ٹرین بند ہو چکی ہے، دوسری (جناح ایکسپریس) کروڑوں کے شدید خسارے کے باعث بند ہونے والی ہے۔ لال حویلی کیا کرے؟ وزیراعظم کی نیاز مندیوں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔
٭نئے دور کے آصف جاہ، آصف زرداری، نیب کے سامنے بھڑک اُٹھے۔ شدید غصہ کے عالم میں فرمایا کہ ’’تمہاری یہ جرأت کہ مجھ سے سوال پوچھو، ایسی کی تیسی! آج آخری بار آیا ہوں، آئندہ نہیں آئوں گا۔ میں کسی نیب کو نہیں جانتا، (ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں جانتا،میں نہیں مانتا! حبیب جالب) اور ہاں سنو! یہ کیا جعلی اکائونٹس کی رٹ لگا رکھی ہے،  ہر کاروباری شخص کے پاس بلیک منی اور بزنس اکائونٹس ہوتے ہیں، خبردار جو آئندہ مجھے بلایا۔‘‘ اور…اور نیب نے آصف زرداری کو 26 مئی کو پھربلا لیا ہے!!گزشتہ روز موصوف سے ڈیڑھ گھنٹہ تفتیش کی، 26 سوالات پوچھے، 50 کا تحریری جواب طلب کیا اور ہریش کمپنی نام کا ایک اور ریفرنس دائر کر دیا اب ریفرنسوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے (ایک اطلاع کے مطابق 17) پرانی کہانی: ایک کنوئیں کے پاس کھڑا ایک شخص آواز لگا رہا تھا، چھ، چھ، چھ! ایک راہگیر نے پوچھا کیا مسئلہ ہے؟ اس نے کہا کنوئیں کے اندر جھانک کر دیکھو! راہ گیر نے جھک کر کنوئیں میں دیکھا تو اسے دھکا دے دیا اور آواز لگا دی، سات، سات، سات!
٭ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی محبت پیار کی زنجیر ٹوٹ گئی۔ پیپلزپارٹی جنوبی صوبہ مانگ رہی ہے۔ ن لیگ اور ق لیگ صوبہ بہاول پور (صرف تین اضلاع) کا راگ الاپ رہی ہیں۔ اس معاملہ پر سوتیلی بہنیں ن لیگ اور ق لیگ ہم آغوش ہو گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے غصے میں آ کر مطالبہ کر دیا ہے کہ حمزہ شہباز سے پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کا منصب واپس لیا جائے، وہ ہر وقت عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے میں مصروف رہتے ہیں، اسمبلی میںاپنے کام پر توجہ نہیں دے سکتے۔ جواب آں غزل کے طور پر ن لیگ کے ایک رہنما نے پیپلزپارٹی  کو مشورہ دیا ہے کہ آصف زرداری اور بلاول ہر روز نیب کے حضور حاضریاں اور عدالتوں میں ضمانتوں کے چکرمیں گھوم رہے ہیں، یہ لوگ پارٹی پر کوئی توجہ نہیں دے رہے انہیں ان کے عہدوں سے فارغ کیا جائے۔ پیپلزپارٹی نے اس بات پر بھی سخت اعتراض کیا ہے کہ اس نے سخت محنت یا کوشش اور ہنگامہ آرائی کے بعد شہباز شریف کو قومی اسمبلی کی اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنوایا مگر موصوف نے لندن پہنچ کر، پیپلزپارٹی سے مشورہ کئے بغیر اس عہدے سے استعفا دے دیا! ایسی بے وفائی!!
٭ایک قاری نے عجیب سا سوال پوچھا ہے کہ فردوس عاشق اعوان صرف وزیر مملکت اورڈاکٹر ثانیہ مکمل وزیر کا درجہ؟ یہ کیوں جب کہ دونوں ڈاکٹر ہیں؟ ایک پرانا محاورہ ہے کہ’ سکھی وہ جسے پیا چاہے‘ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ فردوس عاشق صرف ایم بی بی ایس اور ثانیہ نشتر ایم بی بی ایس لندن کے کنگز کالج سے میڈیسن کی پی ایچ ڈی اور رائل میڈیکل سوسائٹی لندن کی ایف آر سی ایس کی اعلیٰ میڈیکل ڈگری! فردوس کبھی کسی بیرونی ملک کی کانفرنس میں نہیں گئیں، ثانیہ ایسی دو سو سے زیادہ کانفرنس سے خطاب کر چکی ہیں اور اقوام متحدہ کے اہم عہدے پر فائز ہیں۔
٭قارئین کرام! اس کالم میں آپ نے شہد کی مکھیوں کی ملکہ کی داستان پڑھی، وہ جب تک انڈے نہیں دیتی، نئی ملکہ کے آنے تک شاہانہ کروفر کے ساتھ زندگی گزارتی ہے، اعلیٰ ترین شہد ہر وقت پروں سے ہوا دینے والی خادم مکھیاں، زبردست حفاظت، اور جب اس ملکہ مکھی کے انڈوں سے نئی ملکہ مکھی وجود میں آتی ہے تو یہی مکھیاں اس پرانی ملکہ کو دھکے دے کر باہر نکال دیتی ہیں۔ وہ اس کی زندگی کا آخری دن ہوتا ہے۔ (تحریر بانو قدسیہ، داستان گو 1964ء) آج محترم قارئین کو سمندر کی تہہ میں رہنے والے ہشت پا (آٹھ ٹانگوں والا) کیکڑوں کی ایسی ہی عجیب داستان سنا رہا ہوں۔ امریکہ کی ریسرچ سوسائٹی کے مطابق سمندروں کی تہہ میں، بہت گہرائی پر ایک ایک جگہ پر آٹھ ٹانگوں والے لاکھوں کیکڑے پھر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں ’آکٹوپس‘ کہتے ہیں۔ کیکڑے کی آٹھ ٹانگیں دراصل منہ پر لگی ہوئی ہاتھی جیسی آٹھ سونڈیں ہوتی ہیں۔ ان کے منہ کھلے ہوتے ہیں۔ ان آٹھ سونڈوں سے کیکڑا اپنے شکار کو پکڑ لیتا ہے۔ عجیب داستان یہ ہے کہ مادہ ’کیکڑی‘ ایک مدت میں تقریباً 50 ہزار انڈے دیتی ہے۔ اور تقریباً 50 ماہ (چار سال سے زیادہ) کچھ کھائے بغیر ان انڈوں کی حفاظت کرتی ہے۔ مقررہ مدت کے بعد جب ایک انڈے سے نئی ملکہ نکلتی ہے تو یہ ملکہ ماں مر جاتی ہے۔ یہ داستان یہاں ختم ہے۔ قارئین جو مرضی سیاسی معنی نکال لیں۔

تازہ ترین خبریں