07:04 am
  سندھ ہائی کورٹ سے عرض‘ گزارش

سندھ ہائی کورٹ سے عرض‘ گزارش

07:04 am

یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ معاشرے میں جائز طریقے سے کام کرنا دشوار تر ہو چکا ہے جبکہ قانون کی پاسداری کرنے والوں کے لیے زندگی اجیرن بنتی جا رہی ہے
 یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ معاشرے میں جائز طریقے سے کام کرنا دشوار تر ہو چکا ہے جبکہ قانون کی پاسداری کرنے والوں کے لیے زندگی اجیرن بنتی جا رہی ہے ۔ اس طوائف الملوکی کی ذمہ داری سابقہ و حالیہ حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے اداروں پہ عائد ہوتی ہے۔ ابن انشاء کی یاد آگئی ! صاحب طرز ادیب  نے  اردو کی آخری کتاب میں منفی  سماجی رویوں کو مختلف تہذیبی ادوار سے جوڑ کے طنز کیا تھا ۔ پتھر کا دور ، دھات کا دور ، خلائی دور ، کاغذ کا دور ۔  موجودہ دور کو کرپشن کا دور  کہہ لیں ! منی لانڈرنگ کا دور کہہ لیں یا تجاوزات کا دور کہہ لیں ! قطعاً مبالغہ نہیں ہو گا ۔ ایک برادر عزیز نے تجاوزات کے مرض کی جانب نشاندہی کی جو بتدریج  ناسور بن کے  پورے سماج میں جڑیں  پھیلا چکا ہے۔ عام شہری ، کاروباری برادری  ، ملازمت پیشہ طبقہ اور ریاستی ادارے صبح و شام ان تجاوزات کی بدولت  ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔  صرف محکمہ  ریلوے کی ہزاروں ایکڑ اراضی پہ تجاوزات ر یاست کا منہ چڑا رہی ہیں ۔ معاملہ عدالت عظمیٰ کے زیر غور آیا ۔
 تجاوزات ختم کروانے کا حکم جاری ہوا ۔ عملدرآمد تا حال ندارد!   ہر بڑے شہر میں مصروف شاہرائوں پہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ۔ پیدل راہ گیروں کے لیے بنائے گئے فٹ پاتھ پہ دھڑلے سے کاروبار جاری ہے ۔ کھوکھے بنے ہیں ، پتھارے لگے ہیں اور بعض حضرات تو  کسی تکلف کے بغیر چادر یا چھابڑی سجائے  کاروبار میں مصروف ہیں ۔  اس چوری سینہ زوری کا نتیجہ ہے کہ بازاروں اور مارکیٹوں میں جانے والے مرد و زن دشواری کا شکار ہوتے ہیں ۔ سڑکوں پہ ٹریفک جام رہتا ہے ۔ پارکنگ کی جگہ  دستیاب نہیں رہتی ۔ مریض ، طالبعلم  اور نوکری پیشہ لوگ سردی و گرمی میں خوار ہوتے اور منزل مقصود پہ تاخیر سے پہنچتے ہیں ۔ مجال ہے کہ  شہری انتطامیہ کوئی نوٹس لے ۔  حکومت میں آنے کے فوراً بعد پنجاب کی صوبائی حکومت نے اس سنگین مسئلے پہ کچھ سرگرمی دکھائی اور لاہور سمیت بعض بڑے شہروں میں تجاوزات کے خلاف قابل قدر کام ہوتا دکھائی دیا ۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جا بجا تجاوزات کا مشغلہ  پھر شروع ہو گیا ۔ کون نہیں جانتا کہ تجاوزات کے  ناجائز دھندے کی گنگا سے  سب سے  پہلے  سرکاری ادارے ہی  ہاتھ دھوتے ہیں ۔
پنجاب حکومت نے  خواہ  دکھاوے کے  لیے  ہی   سہی   کچھ نہ کچھ  سرگرمی تو دکھائی تھی ۔ سندھ حکومت کا معاملہ البتہ بالکل مختلف بلکہ فہم سے بالاتر ہے ۔  سندھ ہائی کورٹ نے کراچی شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کا واضح حکم جاری کر دیا ۔  ریاستی اراضی واگزار کروانے میں اب کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں ۔ رونے کا مقام یہ ہے کہ  اس حکم پہ عملدرآمد کے خلاف خود سندھ حکومت خم ٹھونک  کے کھڑی ہے۔ ایک جیالے ترجمان  نے چند روز  قبل یہ کہہ کے  سندھ ہائی کورٹ کو للکارا کہ  بے شک حکومت چلی جائے لیکن  شہر سے تجاوزات نہیں گرائی جا ئیں گی ۔  یہ وہی  ترجمان ہیں  جو کہ اکثر ٹی وی چینلز پر سندھ کی  حکمران جماعت کے فضائل بیان کرنے کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت  تجاوزات جیسے جرم میں ملوث با اثر  عناصر کی  نمائندہ ہے یا کہ قانون پسند بے بس شہریوں کی ؟  سندھ ہائی کورٹ نے جس صوبائی حکومت کو تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا  وہ گذشتہ دس برس سے کراچی شہر سے کچرا اٹھانے کی روادار نہیں ۔ اقبال ؒ کا مصرعہ یاد آگیا ۔۔میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں !   کراچی سرکلر ریلوے کا معاملہ دوبارہ زیر غور ہے ۔ گاہے بگاہے اس مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ دو رکاوٹیں عدلیہ اور حکومت کا منہہ چڑاتی ہیں ۔ سرکلر ریلوے کے روٹ پہ تجاوزات اور ٹرانسپورٹ  مافیا ۔ رمضان کے ماہ مقدس میں گرانی ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے علاوہ تمام بڑے شہروں میں پتھارا مافیا سرگرم ہوتا ہے ۔  یہ مافیا تمام بڑی مارکیٹوں میں ایک  عارضی متوازی مارکیٹ قائم کر کے قانون پسند کاروباری طبقے اور عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے ۔ رمضان کے دوسرے عشرے سے مارکیٹوں میں پارکنگ اور پیدل راہ گیروںکیلئے مختص مقامات پہ پتھارے لگ جاتے ہیں ۔  گو یہ بیماری پورے ملک میں عام ہو چکی ہے  لیکن کراچی شہر خصوصاً لیاقت آباد ، حیدری اور لانڈھی کے علاقوں میں تو پتھارا مافیا    مارکیٹوں کے مستقل دکانداروں کا معاشی قتل عام کر رہا ہے ۔
یہ پتھارے دار کنڈے ڈال کے بجلی چوری کرتے ہیں ۔ ان کی وجہ سے مارکیٹ میں نقل و حرکت میں دقت پیدا ہوتی ہے ۔ غیر معیاری اور جعلی مصنوعات کی فروخت سے مارکیٹ کی شہرت بھی خراب ہوتی ہے اور گاہکوں کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ ایک اہم پہلو یہ کہ بیشتر پتھارے دار وہ  افغانی شہری ہیں  جو غیر قانونی طور پہ کراچی میں مقیم ہیں اور سرکاری اہلکاروں کو رشوت دے کے شہر میں دندناتے پھرتے ہیں ۔ شہر کی ہر چھوٹی بڑی مارکیٹ میں یہ گینگ بنا کے مستقل دکانداروں اور خواتین کے ساتھ بر سرعام غنڈہ گردی پہ اُتر آتے ہیں ۔ مستقل دکاندار حکومت کو  ٹیکس دیتے ہیں !  بجلی کے بل بھرتے ہیں ۔ تما م سرکاری واجبات بھرتے ہیں ۔ اس قانون پسندی کا انعام یہ ہے کہ  عید سے پہلے ا ہم کاروباری موقع پہ حکومت مستقل دکانداروں پہ   بجلی اور ٹیکس چور پتھارا مافیا مسلط کر دیتی ہے جو سرکاری اہلکاروں کی مٹھی گرم کر کے قانون کو اپنے جوتوں کی نوک پہ رکھ لیتے ہیں ۔  یہ گھنائونا  دھندہ   مقامی پولیس  اور  مارکیٹوں میں فعال  بعض جعلی یونینوں کے گٹھ جوڑ سے جاری و ساری ہے ۔   کراچی شہر کی کاروباری برادری سندھ ہائی کورٹ سے دردمندانہ اپیل کرتی ہے کہ اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لے کے  پتھارا مافیا ، جعلی یونینوں اور  کرپٹ مقامی پولیس کے ہاتھوں قانون پسند دکانداروں کا معاشی قتل عام رکوایا جائے۔  اگر یہ ممکن نہیں تو پھر مارکیٹوں  میں قائم دکانوں  پہ بل ڈوزر چلا دیں ، بجلی  گیس  کے بل  معاف کر دیں  اور تمام  ٹیکسز سے چھوٹ کا اعلان  کر دیں ۔  آخر دنیا کو پتا چلے کہ اکیسویں صدی میں بھٹو کی نام لیوا جیالی حکومت کے زیر سایہ پتھارا کلچر کیسے پھل پھول رہا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں