07:07 am
زکوٰۃ  قرآن و حدیث کی روشنی میں

زکوٰۃ قرآن و حدیث کی روشنی میں

07:07 am

زکوٰۃ ادا کرنا اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن اور عبادات میں اہم عبادت ہے‘ قرآن کریم میں صرف وہ مقامات جہاں نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم ہے
زکوٰۃ ادا کرنا اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن اور عبادات میں اہم عبادت ہے‘ قرآن کریم میں صرف وہ مقامات جہاں نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم ہے اسی(80) سے زائد ہیں‘ جبکہ وہ مقامات جہاں منفرد طورپر زکوٰۃ کا حکم ہے اس کے علاوہ ہیں... عبادات بنیادی طور پر دو قسم کی ہیں (۱) بدنی عبادات مثلاً نماز (۲) مالی عبادت مثلاً زکوٰۃ‘ اسی لئے قرآن وحدیث میں عام طور سے عبادت کے بیان میں نماز اور زکوٰۃ کے تذکرے کو ترجیح دی جاتی ہے‘ سورۂ بقرہ کے آغاز میں اہل تقویٰ کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان میں بھی نماز اور انفاق کو اہمیت سے ذکر کیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
’’(قرآن کریم) ہدایت ہے اہل تقویٰ کے لئے ، جوغیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے اور جو رزق ہم نے دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘
یہ مشہور حدیث تو ہر مسلمان کو یاد ہونی چاہئے اور دل میں اس پر کامل یقین ہو تاکہ اسلام کی بنیاد کمزور نہ ہو۔ وہ حدیث نبی کریمﷺ کا یہ فرمان ہے:
’’اسلام کی بیناد پانچ چیزوں پر ہے(۱) لا الہ الا اﷲمحمد رسول اﷲ کا اقرار(۲) نماز قائم کرنا(۳) زکوٰۃ ادا کرنا(۴) رمضان کے روزے رکھنا(۵) بیت اﷲ کا حج کرنا۔
نمازاور زکوٰۃ کا باہمی اس قدر گہرا اور مضبوط تعلق ہے کہ جو شخص نماز ادا کرتا ہو مگر زکوٰۃ نہ دیتا ہو، اس کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ:
’’ اﷲ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتے جو زکوٰۃ ادا نہ کرے، اس لئے کہ اﷲتعالیٰ نے(قرآن میں) زکوٰۃ کو نماز کے ساتھ جمع کیاہے، پس ان دونوں میں فرق نہ کرو‘‘۔(کنزل العمال)
زکوٰۃ مال کا وہ حصہ ہے جس کا ادا کرنا فرض ہے اور آج مسلمانوں کی شومئی قسمت کہ وہ اس فرض سے نہ صرف غافل ہیں بلکہ مسلمان کہلانے والوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس فرض کا نام سن کر، اس کا تذکرہ سن کر تنگ دل ہونے لگتا ہے... اسے اﷲ کے نام پر مال کی ادائیگی گراں لگتی ہے، بہت سے مسلمان زکوٰۃ کی فرضیت سے غافل ، بہت سے لوگ حیلوں اوربہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس کی بدولت زکوٰۃ سے بچ جائیں، کچھ مسلمان زکوٰۃ ادا کرتے ہیں مگر پورا حساب کتاب کئے بغیر محض اندازے سے یا ذوق کے مطابق کچھ مال زکوٰۃ کے نام سے نکال دیا حالانکہ یہ بھی بڑی کوتاہی ہے، زکوٰۃنکالنے کے لئے پہلے پورا حساب کتاب کیا جائے تاکہ زکوٰۃ کی اصل رقم معلوم ہو اور پھر اس کی ادائیگی کی ترتیب بنائی جائے ۔
زکوٰۃکے بارے میں قرآن وحدیث میں کثرت اور وضاحت کے ساتھ تمام ضروری احکام و ہدایات موجود ہیں اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر بہت سخت وعیدات و تنبیہات سنائی گئی ہیں اور یہ سب اہتمام ہم جیسے ایمان والوں کے لئے کیا گیا ہے جو نفس اور شیطان کے بہکاوے میں آکر اسلامی احکامات سے دور ہو جاتے ہیں تو اﷲ اور اس کے رسولؐ نے مختلف عنوانات اور قسما قسم کی ترغیب سے ان احکامات پر عمل کا شوق ابھارنے کا سامان فراہم کیا ہے‘ یوں تو قرآن وحدیث میں اس موضوع پر بہت سا مواد موجود ہے  لیکن یہ خاکسار یہاں محض ترغیب اورشوق دلانے کے لئے زکوٰۃ ادا کرنے کے حکم پر مشتمل احکام و فضائل والی چند آیات و احادیث کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے‘  اللہ کرے ان کی برکت سے ہماری ہدایت کا سامان ہو جائے‘  ارشاد خداوندی ہے۔
’’ اور قائم کرو تم لوگ نماز کو اور زکوٰۃ ادا کرو اور عاجزی کرو عاجزی کرنے والوں کے ساتھ۔‘‘(سورہ بقرہ) حضرت تھانویؒ نے اس آیت کی تفسیر میں جو تحریر فرمایا، اس کا خلاصہ یوں ہے کہ اسلامی احکام میں اعمال دو قسم کے ہیں‘ ظاہری اعمال اور باطنی اعمال‘ پھر ظاہری اعمال کی دو قسمیں ہیں بدنی عبادات اورمالی عبادات گویا اب تین کلیات ہو گئیں‘(۱)بدنی عبادات(۲) مالی عبادات(۳) باطنی اعمال... اﷲ تعالیٰ نے درج بالا آیت میں ان تینوں کلیات کی  اہم جزئیات  بیان فرما دی ہیں‘ بدنی عبادات کے سلسلے میں نماز کا ذکر کر دیا۔ مالی عبادات کے سلسلے میںزکوٰۃ کا ذکر کر دیا اورباطنی اعمال کے سلسلے میں عاجزی و تواضع کا ذکر کردیا‘ اس سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ جس طرح بدنی عبادات میں نماز سب سے مقدم اور اہم ترین ہے اسی طرح مالی عبادات میں زکوٰۃ سب سے مقدم اور اہم ترین ہے‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور میری رحمت(ایسی عام ہے کہ) تمام چیزوں کو محیط ہے ، پس اس کو(کامل طور پر خاص کر کے) ان لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘(سورۂ اعراف)
بزرگوں نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں ہرشخص کے ساتھ ہے، نیک ہویا بد سب اس رحمت سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، لیکن آخرت میں یہ رحمت خاص متقی لوگوں کو ملے گی، جیسا کہ درج بالا آیت میں ارشاد ہوا اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ متقی لوگوں کا ایک وصف اور ایک خاص پہچان یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اس آیت سے بھی زکوٰۃ کی اہمیت پوری طرح واضح ہے۔
  ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جو چیز تم اس غرض سے دو گے کہ سود بن کر لوگوں کے مال میں بڑھوتی کا سبب بنے تو یہ (چیز) اﷲ کے نزدیک نہیں بڑھتی اور جو زکوٰۃ( یا دیگر صدقات وغیرہ) دو گے جس سے تمہیں اﷲ کی رضاء مقصود ہو توایسے لوگ اپنے دیئے ہوئے مال کو اﷲ تعالیٰ کے پاس بڑھاتے رہیں گے‘‘۔(سورہ روم)
اس آیت میں سود اور زکوٰۃ کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے اور دونوںمیں فرق بیان کیا گیا ہے کہ سود سے بظاہر مال بڑھتا ہے لیکن اﷲ کے ہاں ایسے مال کی کوئی قدر و قیمت نہیں ‘اس کے برعکس زکوٰۃ جو محض اﷲ کی رضاء کے لئے دی جائے بظاہر اس میں اپنا مال کم ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ عمل ان کے لئے بہت مفید ہے اس طرح ان کا مال اﷲ کی ہاں بڑھتا رہتا ہے اور قیامت کے دن جب اہل ایمان اپنے اموال کا ثواب دیکھیں گے تو ان کی خوشی دوگنا ہو جائے گی۔
(جاری ہے)

 

تازہ ترین خبریں