07:09 am
امریکی چال بازی

امریکی چال بازی

07:09 am

برابرتشریف فرماصاحب بہت دیر سے شائد کچھ بات کرناچاہ رہے تھے جہاز محوے پرواز تھا میں اخبار پڑرہاتھا آخر ان سے برداشت نہ ہوا تو بولے
برابرتشریف فرماصاحب بہت دیر سے شائد کچھ بات کرناچاہ رہے تھے جہاز محوے پرواز تھا میں اخبار پڑرہاتھا آخر ان سے برداشت نہ ہوا تو بولے کیا میں کچھ بات کرسکتاہوں۔ میں نے اخبارتہہ کرکے سامنے سیٹ کی جیب میں رکھتے ہوئے انھیں دیکھا جی فرمائے ۔آپ نے دیکھی امریکہ کی چال بازی کیسے ہمارے ملک کو اپنے بچھائے جال میں پھنسایاہے ،میں سمجھا نہیں آپ کیاکہنا چاہ رہے ہیں،بولے ابھی تو آپ اخبار میں آئی ایم ایف کی خبر پڑھ رہے تھے آپ کاکیا خیال ہے۔ عمران خان جوکل تک یہ کہہ رہاتھاکہ چاہے کچھ بھی ہوجائے میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوںگا اس سے بہتر ہے کہ بندہ خودکشی کرلے آپ نے دیکھا کہ عمران خان نے اپنی بات کوسچ ثابت کرنے کیلئے سعودی عرب جس کے طعنے میاں نواز شریف کودیاکرتے تھے سب سے پہلے اسی سعودی عرب کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ اقامہ کیس جس پر خلائی مخلوق نے انہیں نااہل کراکے برطرف کرایاتاکہ عمران کے راستے کی بڑی رکاوٹ دور کردی جائے۔ میاں کواقامہ دینے والے نے ملک سے بھی قرضہ لینے میں کوئی جھجک محسوس نہ کی۔ چین کے ساتھ مل کر بنائی جانے والی پاک چین راہداری کے خلاف پہلے توآسمان سر پراٹھارکھا تھا جب چین کے صدر کوآناتھا تو دھرنا دے کر بیٹھ گئے تھے اب اس کے آگے ہاتھ پھیلاتے بھی ذراشرم نہیں آئی وہاں سے بھی قرض لے لیا اس کے باوجود کیوں پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑگیا کیوں خودکشی نہیں کی اگر مخالفین نے یاد بھی دلایا توان سنی کرگئے۔ دراصل یہ ساراڈرامہ جوبقول میاں نوازشریف کے خلاف مخلوق کاکیا دھرا تھا امریکیوں نے انہیں بھی ناکام کردیا اور ان فرنٹ مینوں کومجبور کردیاکہ وہ امریکی یہودیوں کی تنظیم جوامریکہ پربھی اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہے کے سامنے سرنگوں ہوں اور ہمارے حکمران سرنگوں ہوگئے یہاں تک کی اب ملک چلانے کے احکام وہ دیں گے۔ خلائی مخلوق اور ان کے نمائندے حکم کی تعمیل کریں گے اور عوام کونچوڑاجائے گا آخرایسا کب تک چلے گا۔ ہمارے ملک کی معیشت جب تک ڈالر کی محتاج رہے گی ہم لوگ اسی طرح جوتے کھاتے رہیں گے ۔
میں خاموشی سے پوری توجہ سے انہیں دیکھ رہاتھاکچھ بولنے کی گنجائش ہی نہیں تھی آپ نے دیکھا ڈالر آسمان سے باتیں کررہاہے ایسا تو کبھی ماضی میں چاہے کیسے ہی خراب حالات رہے ہوں نہیں ہوا کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ عمران خان یہودی لابی کی نمائندگی کررہاہے؟ ان کے پوچھنے پربھی میں چپ ہی رہاوہ بولتے رہے میں سنتارہا۔ آپ کومعلوم ہے کہ اس کی بیوی اس کاسسرال یہودی ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ بیگم بیٹوں کی طرف سے بھی کوئی دبائوآیا ہو۔ آپ کیا کہتے ہیں کیا پاکستان اسرائیل کو قبول کرلے گا  ویسے ایسا کرناتو نہیں چاہیے ۔ وہ صاحب مسلسل بولے جارہے تھے یہی دیکھ لیجئے ڈالرایک سو پچاس کاہورہاہے کوئی سننے کوتیار ہی نہیں‘ قرضوں کاحجم خود بخود بڑھ جاتاہے  مزید قرضہ لیے بغیر اور مقروض ہوجاتے ہیں کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہرطرف خاموشی ہے تمام اہم اور بڑے لیڈرنیب کے حوالے کردیئے گئے ہیں وہ اپنے گلے پڑنے والے پھندوں سے بچنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔حزب اختلاف کا منہ بند رکھنے کیلئے ساری کارروائی ہورہی ہیں۔ سب اوپر والی طاقت کررہی ہے چونکہ اسے بھی سیاسی چالوں کا ایسا اندازہ نہیں ہے جیسا سی آئی اے کوہے وہ لوگ تو پوری دنیا کی سیاست اورسیاست دانوں اور حکومت کے کار پردازوں سے ہروقت جڑے رہتے ہیں سیاست دانوں کواپنے قابو میں رکھنے کاہنر خوب جانتے ہیں کب کہاں کس کاتختہ الٹنا ہے اور کس کو حکومت دینی ہے اور جب کوئی سیاست دان ان کی چالوں کوسمجھ لیتا ہے ان کے جھانسے میں نہیں پھنستا اس کی چھٹی کرادیتے ہیں ۔
 آپ کوپتہ ہے جنرل ضیاالحق کوکیوں شہید کیاگیااسی لئے کہ اس نے ان کی چالوں کوسمجھ لیاتھا اسے اپنی طاقت کابھی خوب اندازہ تھا۔بھارت کے راجیوگاندھی کوبھی اس لئے ہی مروایاکہ وہ بھی امریکہ کے قابو نہیں آرہاتھا۔  آپ دیکھے ان کی چالاکی  دونوں جگہ اپنے سفیروں کوبھی مروا دیاتاکہ کوئی یہ نہ کہ سکے کہ ان قاتلوں میں امریکہ یااس کی ایجنسی ملوث ہے اور آپ نے دیکھاکہ ایساہی ہوا نوازشریف کوہٹانے‘ اسے سزا دلوانے اور زرداری  اور دوسرے اہل سیاست کو سمجھانے کے لئے کہ اگر کسی نے کبھی بھی ان کے احکام سے سرتابی کی کوشش کی تو اسے ان لوگوں سے عبرت حاصل کرلینی چاہیے ورنہ انجام کیلے تیار رہناہوگا۔
  ہمارے اہل سیاست کو71 برس بیتنے کے باوجود اندازہ ہی نہیں ہوسکا کے ہمارے خطے کی کیااہمیت ووقعت ہے اگر ہمارے حکمرانوں میں دم خم ہوتا توامریکہ کیادنیاہمارے آگے سرتسلیم خم کرتی بلکہ مجبور ہوتی ۔ اللہ نے ہمارے ملک کامحل وقوع ایسا دیاہے کہ جتنا شکر کریں وہ کم  ہے اگر میاں صاحب کے دماغ میں خناس نہ سماتااور وہ فوج سے بناکررکھتے انہیں اگر قابو ہی کرناتھا تو اس کے لئے بہت برداشت بہت تحمل کی ضرورت تھی جو میاں نواز شریف میں نہیں ہے وہ خود کو کسی فوجی آمر سے کم نہیں سمجھتے کیونکہ ان کی سیاسی تربیت توآمرنے ہی کی تھی اتنے طویل عرصہ کی سیاست سے بھی انہوں نے سیاست کی الف ب تک نہیں سیکھی۔ یہی عالم زرداری کاہے وہ بھی بنیادی طورپروڈیرے ہیں جو کہہ دیا وہی درست ہوتاہے گو کہ ان کی سیاست میاں صاحب سے بہت بہتر ہے وہ موقع اور فرد کوخوب سمجھتے ہیں اگر میاں صاحب عقل سے کام لیتے تو ابھی وہی حکومت میں ہوتے لیکن ان کی کھوپڑی میں جوبڑائی تکبر بھرا ہے وہ بڑے منتقم مزاج والے ہیں وہ عسکری قوت سے ازخودپنگالیتے ہیں ان کابس چلے تو تمام فوج کی چھٹی کردیں اور اس کی جگہ بھارت سے دوستی مفاہمت کرکے مشترکہ فیڈریشن بنالیتے ان کے خیال میںاگرایساکرلیاجائے توپھر فوج کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اس طرح فوج پرخرچ ہونے والے اربوں کی بچت الگ ہوگی،اگرخدا نخواستہ ایسا ہوجاتا تو میاں صاحب اور ان کے حواریوں کے چودھ طبق روشن ہوجاتے۔ اب تومعطل ہوکربھی جیل میں ہیں یہ اور بات ہے کہ اب بھی وہ اپنی ضداورانا کے مارے مشکل میں پھنسے ہوے ہیں۔  انہیں سمجھائے کون وہ تواپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے باہر نکلنے کوتیار ہی نہیں ہوں گے اپنی ذاتی انا کے لئے وہ اپنی بھرپور جماعت کو ختم کررہے ہیں۔ دانشورلوگ کہتے ہیں  جب عقل ماری جاتی ہے توالٹا بھی سیدھا دکھائی دیتاہے آپ کاکیاخیال ہے شاید انہیں بہت دیر بعد خیال آیا کہ وہی بولے جارہے ہیں پھر خود ہی بولے کیا آپ نہیں سمجھ رہے ساری سیاسی تگڑم امریکی ہے وہ ہمیشہ سے یہی کرتا آرہا ہے جب چاہتاہے فوجی آمر بیٹھادیتا جب ان سے کچھ اونچ نیچ ہوجاتی ہے ملک میں ہنگامہ فساد کراکے یا آمر کومجبور کرکے اسے چلتا کردیاجاتا ہے۔ جمہوریت نافذہوجاتی ہے اب بھی کچھ ایسا ہی ہوتادکھائی دے رہاہے اگرآئی ایم ایف نے قدم جمالے‘ عوام خاموش رہی تو پھر سب ٹھیک رہے گا ورنہ کچھ بھی ہوکررہے گا۔  اتنے میں اعلان ہوگیا ہم اسلام آباد کے ایئرپورٹ پراترنے والے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں