07:11 am
ایک فرض شناس خاتون آفیسر

ایک فرض شناس خاتون آفیسر

07:11 am

کچھ لوگ ماں کی دُعائوں کی طرح مخلص ہوتے ہیں جن کے اخلاص اور فرض شناسی پر ذرّہ برابر بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے
 کچھ لوگ ماں کی دُعائوں کی طرح مخلص ہوتے ہیں جن کے اخلاص اور فرض شناسی پر ذرّہ برابر بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ مگر ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہو رہی ہیں ورنہ جس قدر حالات خراب دکھائی دیتے ہیں ایسے حالات میں ایسے معاشرے قعرِ مذلّت میں گر جاتے ہیں۔ قومیں دیوالیہ ہو جاتی ہیں اور ریاستیں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ شر اور خیر کی روزِ ازل سے ہی آپس میں جنگ جاری ہے۔ اور یہ جنگ تا ابد جاری و ساری رہے گی، ایک طرف طاغوتی اور شیطانی قوتیں اور دوسری طرف فرشتہ صفت، نیک عمل بجالانے والے لوگ۔ شائد! کارخانہ قدرت کا حسن بھی اِسی فلسفے کے گرد گھومتا ہے۔
دِن اور رات کا آنا جانا بلاشبہ عقلمندوں کے لئے نشاناتِ الٰہی ہیں۔ مثبت اور منفی، دھوپ اور چھائوں، پانی اور خشکی، بحرو بر، سنگ و خشت، ظالم اور مظلوم، سفاک اور رحیم ہر طرح کے خواص سے مزین یہ کائنات کروڑ ہا سال سے اسی طرح چلتی آ رہی ہے اور تا قیامت اِسی طرح رواں دواں رہے گی۔ ہر دُکھ کے بعد ایک سُکھ، ہر رات کے بعد ایک صبح، ہر برائی کے بعد اچھائی، یہ گردشِ دوراں یونہی چلتی رہی ہے۔ یونہی چلتی رہے گی، جو اعمال صالح بجا لاتے ہیں تاریخ اُنہیں زندہ رکھے گی اور شائد وہ لوگ بھی عبرت کے نشان کے طور پر تاریخ کے اوراق پرمرقوم رہیں جنہیں کبھی اعمال صالح بجا لانے کی توفیق نہیں ملتی۔
ہمارے مشرقی معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں گناہ و ثواب، اچھائی برائی اور نیکی اور بدی کے معیار ازخود مرتب کرلئے گئے ہیں، ہر مذہب اور ہر مسلک سے وابستہ لوگوںکے نیکی بدی کے معیار اپنے اپنے ہیں۔ حالانکہ اسلام آفاقی مذہب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور یونیورسل اقدار پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک ایسا ضابطہ حیات پیش کرتا ہے جس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی، کچھ لوگ نماز روزے کی تو بڑی پابندی کرتے ہیں مگر اپنے فرائض میں غفلت برتنے کو اِنسانی لغزش قرار دیتے ہیں۔ اسلام نے حقوق العباد کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے ہوئے اِس ضابطہ زندگی کو طشت ازبام کیا ہے۔ آپ معاشرے میں بہت سارے ایسے لوگوں کو دیکھیں گے کہ جو حقوق اللہ تو بہت احسن انداز سے سرانجام دے رہے ہوتے ہیں مگر حقوق العباد ادا کرنے میں ضعف کا شکار دِکھائی دیتے ہیں۔ میں بہت سارے ایسے سرکاری افسران کو ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جو پابندِ صوم و صلوٰۃ ہونے کے باوجود اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے میں دیانتداری سے کام نہیں لیتے۔ سرکاری افسروں کا تذکرہ کرتے ہوئے  میں ایک ایسی خاتون آفیسر کو بھی جانتا ہوں جو ایمانداری اور فرض شناسی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی ہیں۔ اِن کا نام محترمہ بشریٰ نصیر صاحبہ ہے۔ یہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ (پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیز) کے عہدے پر متمکن ہیں۔ لاہور سمیت قصور، ننکانہ اور ضلع شیخوپورہ کی پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیز کی غیر قانونی سرگرمیوںکے خلاف برسرپیکار یہ خاتون آفیسر اپنی مثال آپ ہیں۔ ایسے عہدوں پر اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے والے آفیسرز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی دبائو یا لالچ کا شکار ہو کر اپنی عاقبت گنوا بیٹھتے ہیں۔ مگر محترمہ بشریٰ نصیر نے ہمیشہ سچ کا علم بُلند کیا ہے۔ ہمیشہ غلط کو غلط کہا اور صحیح کو صحیح گردانا۔   ہمارے ہاں صحافت کا بھی یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم خبر کی ایک ایسی تعریف کر بیٹھے ہیں جس نے ہماری صحافتی اقدار کو داغ دار کر کے رکھ دیا ہے۔ معاشرے میں جرم کی نشاندہی کرنا اپنی جگہ پر بجا مگر یہ بات بھی انتہائی ضروری ہے کہ صحافی معاشرے کی تربیت کے لئے ایک مربی کا کردار بھی ادا کرے۔ معاشرے کے وہ لوگ جو نافع الناس وجود بن کر ملک و ملت کی خدمت میں مصروف ہیں اُن کی خبریں، انٹرویوز بھی شائع ہونے چاہئیں یا ٹیلی ویژن پر ایسے لوگوں کے بارے میں نشر ہونا چاہئے کہ معاشرے کے یہ لوگ کس قدر عظمت کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں روزانہ جب آفس آتا ہوں تو معمول کی میٹنگ سے پہلے دیگر اخبارات کا مطالعہ ضرورکرتا ہوں۔ ٹینشن ہونے لگتی ہے کہ ہر ایک صفحہ پر منفی خبریں، ہر سطر، ظلم، جبر، استبداد کے لفظوں میں پروئی ہوئی۔ لفظ لفظ نوحہ کناں، حرف حرف ماتم کرتا ہوا دِکھائی دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے آج نہیں تو کل قیامت برپا ہونے والی ہے۔ کسی قلمکار کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ کچھ اچھی خبروں کے لئے بھی تگ و دو کرے۔ محترمہ بشریٰ نصیر صاحبہ جیسے دیانتدار اور فرض شناس آفیسرز کے بارے میں بھی لکھا جائے اور نشریاتی ادارے ایسے افسران کے بارے میں کھوج لگا کر اُن کے کردار کو بھی اپنی نشریات کا حصہ بنائیں تا کہ ہماری نسل نو کو پتہ چل سکے کہ ہمارے معاشرے میں بُرے لوگوں کا ہی بسیرا نہیں ہے بلکہ بہت بہت اچھے لوگ بھی اِس معاشرے کے وہ افراد ہیں جن کے نقشِ قدم پر چل کر ہم اپنے مستقبل کو سنوار سکتے ہیں۔ صحافی معاشرے کے کان، آنکھ اور زبان کا کردار ادا کرتے ہیں اور ایک پیشہ ور صحافی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اگر وہ اپنے وطن سے سچی محبت کرتا ہے تو پھر اپنے وطن کے اچھے لوگوںکا تذکرہ بھی ضبطِ تحریر میں ضرور لائے۔ صحافی کا کام صرف برائیاں اجاگر کرنا ہی نہیں ہے۔ مثبت اندازِ فکر قوموں کی تقدیر سنوار دیتا ہے۔ اِسی لئے تو کہتے ہیں کہ بدصورت چہرہ منفی سوچ سے بہتر ہوتا ہے اور خوبصورت لب و رُخسار خوبصورت خیال سے زیادہ حسین نہیں ہوسکتے ۔  کاش کہ میرے ساتھیوں کو  اللہ تعالیٰ یہ توفیق دے کہ وہ مثبت انداز فکر اپناتے ہوئے مثبت صحافت کو فروغ دیں اور قلم کے ذریعے ملک و ملت کی خدمت کریں۔ اِس وطن کے اچھے لوگوں، اچھے افسروںکا تذکرہ کریں۔ ایسی خبریں، فیچرز اور آرٹیکلز شائع کریں جس سے امن، آشتی اور محبت کی فضا قائم ہو سکے۔ آخر میں، میں حکومت پنجاب کے اُن ارباب اختیار کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے محترم بشریٰ نصیر جیسی  دیانتدار اور فرض شناس آفیسر کو اتنی اہم سیٹ پر تعینات کیا ہے۔ اے کاش کہ میرے وطن کا ہر ایک آفیسر بشریٰ نصیر کی طرح نیک سیرت اور پاک طینت ہو جائے تو یہ وطن اقوام عالم کے لئے ایک مثال بن جائے۔

 

تازہ ترین خبریں