07:23 am
چینی بندرگاہوں اور بلوچستان و گوادر میں منفی بھارتی کردار

چینی بندرگاہوں اور بلوچستان و گوادر میں منفی بھارتی کردار

07:23 am

بدھ مت اکثریتی مذہب کے سری لنکا کا جرم صرف یہ تھا کہ ہندتوا کے بھارت کی ناراضی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی بندرگاہ چین کی تحویل میں دے دی تھی۔ چین نے بہت سرمایہ کاری کی سری لنکا میں اس بندرگاہ حصول کے سبب۔ چنانچہ بھارت کے پڑوس میں ہوتے ہوئے نہایت مختصر جغرافیے کی بدھ مت اکثریت رکھتے عوام کی ریاست نے بھارتی عزائم اور توقعات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے معاشی اور جغرافیائی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے سری لنکا نے سمندر کو چین کی تحویل میں دے دیا تھا۔ سری لنکا بندرگاہ حصول میں کامیابی کی طرح چین نے یمن کے باب المندب کے پار بحر احمر کے اسٹرٹیجک محل  وقوع کے کنارے‘ یمن کے بالکل متوازی‘ نہایت مختصر اور معاشی طور پر بہت کمزور جبوتی سے بھی بندرگاہ حاصل کی تھی۔ چین کو بندرگاہ دے کر جبوتی نے اپنی معیشت اور محل  وقوع کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔ 
 
جبوتی ‘ صومالیہ اور ماضی کے حبشہ وغیرہ جو افریقی  پٹی ہے یہاں پر اسرائیل کا فوجی وجود  ہے۔ سوڈان (پرانا حبشہ) اور ایری ٹیریا ماضی میں ایک ہی ملک تھے۔ اب الگ الگ  ہیں۔ بیس سال تک اریٹریا اور سوڈان میں جنگ ہوتی رہی تھی کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے دونوں عرب افریقی  معاشی طور پر تباہ ریاستوں میں صلح کروائی تھی۔ سری لنکا اور جبوتی کی اہم ترین بندرگاہوں کے حصول کے بعد درمیان میں گوادر پر موجود نادر محل وقوع پر مبنی بندرگاہ پاکستان نے چینی اشتراک میں دے دی تاکہ بلوچستان کی ترقیاتی ضرورتوں کو جلد پورا کرکے گوادر بندرگاہ کو بلوچستان کے عوام کے لئے بالخصوص اور پاکستانی عوام کے لئے بالعموم معاشی طور پر سچ مچ نعمت خداوندی کے مرتبے پر فائز کیا جاسکے۔  یوں سری لنکا سے گوادر اور گوادر سے جبوتی کی بندرگاہ تک چین کو بحری طور پر بھارت پر منفرد فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اب ہمیں آسانی سے سمجھ آگئی ہوگی کہ جنوبی بھارت میں انتہاپسندی اور تشدد کی تعلیم و تربیت کے جو بھی مراکز ہیں وہاں سے ہی سری لنکا میں عدم استحکام لانے کا جو ہندتوا بھارت نے کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ کیوں نمودار ہوگیا؟ وجہ اور سبب کہ سری لنکا نے چین کو کیوں اپنی بندرگاہ  دی اور  یوں بھارتی اہمیت بہت کم ہوگئی ہے اب گوادر بندرگاہ اور بلوچستان کے حوالے سے انتہا پسندی‘ تشدد‘ سرکشی اور بغاوت کو دیکھیں جو مقامی چند لالچی اور حریص سرداروں کے سبب موجود ہے۔
ماضی میں گریٹ گیم میں بلوچستان‘ قلات اور گوادر کی باتیں ہوتی تھیں مگر پاکستان بن جانے‘ بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کے بعد خودغرض سرداروں کی امیدیں خاک میں مل گئیں تھیں۔ پھر بھی کچھ سردار سوویت یونین آف رشیاء کے ساتھ مل کر بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چلاتے رہے تھے۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد یہ معاملات ختم ہوگئے مگر گوادر کے چین کو دیئے جانے اور سی پیک کے سبب اب پھر سے مایوس سرداروں کے خانان بیرونی مدد اور تخریب کاری تربیت کے سبب گوادر اور سی پیک کو ناکام بنانے میں باغیانہ طور پر متحرک ہیں۔ اگر سری لنکا کو یہ سزا ہندوا کے بھارت کی طرف سے مل چکی ہے۔ انتہا پسند چند مسلمانوں کے استعمال سے ایسٹر کے موقعہ پر دھماکوں کے ذریعے تو بھلا گوادر‘ سی پیک اور بلوچستان میں یہی ہندتوا کا بھارت کیوں متحرک نہیں ہوگا؟ لہٰذا گوادر‘ سی پیک ‘ بلوچستان میں جو بھی تخریب کاری ہوتی ہے اور اس میں کچھ انتہاپسند اور پرتشدد ذہن رکھنے والے مسلمان اور بلوچی استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح قبائلی علاقوں میں عدم استحکام کے لئے کچھ پختون اذاہان استعمال ہوتے ہیں تو یہ سب کچھ اسی ہندتوا بھارت کی کارستانی ہے جو سری لنکا کی بندرگاہ پر چین کو دیکھنے پر ناراض ہے۔ پاکستان کا جرم یہ ہے کہ وہ گوادر کو اور بلوچستان کو ترقی دیکر علاقائی طور پر معاشی اور سٹرٹیجک مقاصد حاصل کررہا ہے۔ اس عمل کو ناکام بنانے کے لئے بھارت کے غلط طور پر ایران سے مل کر چابہار بندرگاہ کو حاصل کرکے افغانستان تک بحری رسائی حاصل کر رکھی ہے تاکہ سینٹرل ایشیا تک بھارت کو رسائی ہو جائے۔ 
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ معاشی پابندیاں لگاتا ہے مگر بھارت کے قبضے میں موجود اسی چاہ بہار بندرگاہ کو معاشی پابندیوں سے آزاد رکھتا ہے۔ کیا امریکہ بھارت کے پاکستان مخالف ہر کھیل میں شامل ہے؟ اگر پاکستان نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ صدر زرداری کے زمانے میں کیا تھا جو اگرچہ بہت غلط شرائط کے ساتھ پاکستانی مفادات کے بھی خلاف تھا تب بھی اس کی پاکستانی تعمیر میں امریکہ کیوں اب تک رکاوٹ ہے؟ اگر ایران پر پابندیاں ہیں تو چاہ بہار پر بھارت اور افغانستان کے لئے کیوں پابندیاں نہیں؟ ایران کے حوالے سے صرف پاکستان پر کیوں ہیں؟ ایران کی طرف سے چاہ بہار اور گوادر کو سسٹر بندرگاہیں بنانے کی تجویز آتی رہی ہے۔ کیا ایران چاہ بہار بھارت سے واپس لیکر چین کو دے  سکتا ہے؟ اگر ایران چاہ بہار سے بھارت کو نکال دے گا اور چین کو یہ  ایرانی بندرگاہ دے گا تو گوادر ‘بلوچستان اور سی پیک کے خلاف بھارتی کوششوں سے توانا بنی بغاوت ‘ سرکشی‘ عدم استحکام اور پرتشدد ملک دشمن کارروائیاں بھی رک جائیں گی تو مایوس کچھ مطلبی سرداروں کے غبارے سے بھارتی مددگار ہوا بھی نکل جائے گی۔ کیا ایران ایسا کرسکتا ہے؟

تازہ ترین خبریں