07:24 am
اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

07:24 am

برکاتِ آلِ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:ایک سفر میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہوگیا، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم نے اس منزل پر پڑاؤ ڈالا تاکہ ہار مل جائے، نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس، لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکایت لائے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے،دیکھا کہ راحت العاشقین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپر سختی کا اظہار کیا لیکن سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے آپ کو جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم  ی چشمانِ مبارکہ خواب سے بیدا رہوجائیں چنانچہ صبح ہوگئی اور نمازکیلئے پانی عدم دستیاب ، اس وقت اللہ عزوجل نے اپنے لطف و کرم سے آیت تیمم نازل فرمائی اور لشکر اسلام نے صبح کی نماز تیمم کے ساتھ ادا کی، حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’اے اولاد ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے‘‘۔ (مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں) سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اسکے بعد جب اونٹ اٹھایا گیا تو ہار اونٹ کے نیچے سے مل گیا( گویا حکمت الٰہی عزوجل یہی تھی کہ مسلمانوں کیلئے آسانی اور سہولت مہیا کی جائے۔ (صحیح البخاری،کتاب التیمم،باب التیمم، الحدیث ۳۳۴،ج۱،ص۱۳۳ملخصاً)
 
ارفع شان:اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:قبل اسکے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم میرے لئے پیام نکاح دیں، جبرئیل علیہ السلام نے ریشمی کپڑے پر میری صورت حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کودکھائی۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۰)
اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی تھیں : بیشک اللہ عزوجل کی نعمتوں میں سے مجھ پریہ بھی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کا وصال میرے گھر میں اور میری باری میں، میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے میرے اوران کے لعاب کوان کے وصال کے وقت جمع فرمایا، عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم مجھ پرٹیک لگائے ہوئے تھے تومیں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کودیکھاکہ مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں، میں نے پہچاناکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم مسواک کوپسندفرماتے ہیں، میں نے پوچھا :آپ کیلئے مسواک لے لوں؟ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم نے سر انور سے اشارہ فرمایاکہ ہاں! میں نے مسواک لی (مسواک سخت تھی) میں نے عرض کی: اسے نرم کردوں؟ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم نے سرسے اشارہ فرمایا کہ ہاں! تومیں نے (اپنے منہ سے چبا کر) اسے نرم کر دیا، پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم نے اس کواپنے منہ میں پھیرا۔ اس طرح میرا اورسرور دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کالعاب جمع ہوگیا۔ (صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث ۴۴۴۹،ج۳، ص۱۵۷)
خلفائے مسلمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ایمان افروز اقوال:مروی ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم سے عرض کی: (اُم المؤمنین پر افترا کرنے والے) منافقین قطعاً جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کواس سے محفوظ رکھاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کے جسم اطہرپرمکھی بیٹھے، اسلئے کہ وہ نجاست پر بیٹھتی اوراس سے آلودہ ہوتی ہے، توجب اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کواتنی سی بات سے بھی محفوظ رکھاپھر یہ کیسے ہوسکتاہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کو ایسے کی صحبت سے محفوظ نہ فرماتاجوایسی بے حیائی سے آلودہ ہو۔ (تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲)
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کے سائے کو زمین پر نہیں پڑنے دیااسلئے کہ کوئی شخص اس سائے پراپناپاؤں نہ رکھے توجب کسی کوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کے سائے پرپاؤں رکھنے کابھی موقع نہ دیاتو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کی زوجہ کی آبرو پرکسی کوکیسے اختیار دے دیتا۔ (تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲)
حضرت سیدناعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: بیشک جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کواس بات پربھی مطلع کیاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم کی نعلین پرمیل لگاہواہے اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم سے عرض کی کہ اسے اپنے پاؤں سے اتاردیجئے کیونکہ اس میں میل لگاہواہے،لہٰذا اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو الگ کردینے کا حکم بھی نازل ہوجاتا۔ (تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲)
وصال:سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں ۵۷ھ میں ۶۶ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ (شرح الزرقا نی علی المواہب،المقصدالثانی،الفصل الثالث،عائشۃ اُم المؤمنین،ج۴،ص۳۹۲)

تازہ ترین خبریں