07:24 am
رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں

رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں

07:24 am

  ہم پررمضان المبارک کا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہے۔ اس ماہ مبارک کو نیکیوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں کا خصوصی مظہر ہے کہ اس ماہ میں ہر نیک عمل کا ثو اب کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے۔
رمضان کے بابرکت مہینے کے حوالے سے یہ بات تو مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ رمضان میں دن کا روزہ اور رات میں تراویح ہوتی ہے۔ تاہم ضرورت اِس بات کی ہے کہ رمضان کے تعلق سے قرآن مجید اور احادیث رسولؐ کی تفصیلی رہنمائی کو واضح کیا جائے۔
 قرآن مجید میں روزے کی عبادت کا تفصیلی ذکر سورۃ البقرہ کے 23ویں رکوع میں ہے۔ اس رکوع میں روزے کی حکمت‘ غرض و غایت‘ قرآن مجید کے ساتھ تعلق ‘ اس کا اصل حاصل اور احکام اور اعتکاف کے مسائل جیسے موضوعات کو جمع کر دیا گیا ہے۔ فرمایا:  ’’اہل ایمان! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیاجیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا۔‘‘(روزہ کی غرض و غایت یہ ہے کہ) تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو‘‘۔(آیت ۔۱۸۳) 
اس آیت میں روزے کی فرضیت کا ذکر ہے۔ اور ترغیب و تشویق کے لیے فرمایا کہ روزہ صرف تمہی پر فرض نہیں کیا گیا ہے‘ بلکہ سابقہ اُمتوں پر بھی فرض تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی اکرمﷺ تک جو دین بھیجا ہے وہ اصلاً ایک ہی ہے‘ یعنی دین توحید۔ اس کے اہم ارکان میں روزہ ہمیشہ سے شامل رہاہے۔
فرضیت روزہ کے ساتھ ساتھ ساتھ اس کی حکمت بھی بتا دی گئی کہ روزہ کی یہ مشقت کیوں ڈالی گئی ہے۔ روزہ کا مدعا یہ ہے کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ وہ شے ہے جو آخرت کی کامیابی کی کلید ہے۔ تقویٰ اِس احساس کا نام ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے‘ اور ایک دن مجھے اللہ کے حضور حاضر ہو کر اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔ یہ احساس پیدا ہو گا توپھر ا نسان اپنے طرزعمل کو صحیح بنیادوں پر استوار کرے گا۔ آدمی نماز پڑھے گا تو اس میں خشوع و خضوع ہو گا‘ شریعت پر نیک نیتی سے عمل کرے گا۔ورنہ وہ شریعت کو بھی بازیچۂ اطفال بنا لے گا‘ جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔ الغرض انسان کو صراطِ مستقیم پر گامزن رکھنے والی چیز تقویٰ ہے۔ 
تقویٰ مسلمان کی دنیاوی اور اُخروی بھلائی کے لیے ایک ناگزیر وصف ہے۔ اگر ایک شخص ایمان تو لے آئے مگر اُس میں تقویٰ نہ ہو تو نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی ایمان کے ثمرات سے محروم رہے گا۔ اگر مسلمان کے دل میں تقویٰ ہے تو اس دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک مثالی معاشرہ وجود میں آئے گا، اللہ کی رحمتیں ہوں گی، برکات ہوں گی، امن و خوشحالی ہوگی، ایک دوسرے پر اعتماد ہوگا، ایک دوسرے کا احترام ہوگا۔ اور اگر تقویٰ نہیں ہوگا تو دنیا میں معاشرہ کا وہی حال ہوگا جو آج پاکستانی معاشرہ کا ہے کہ 97 فی صد مسلمان ہیں، پھر بھی کرپشن آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ جھوٹ، دھوکہ، فریب، بداعتمادی، عہد شکنی تو گویا ہمارے قومی شعائر بن چکے ہیں۔ ملاوٹ اس درجے میں ہے کہ لائف سیونگ ڈرگز بھی اس سے محفوظ نہیں۔ بدامنی کا یہ عالم ہے کہ ہر گلی کوچہ میں پھاٹک لگائے جارہے ہیں۔ کھڑکیوں کے اندر گرلیں لگائی جارہی ہیں۔ عدل و انصاف یہاں پر ایک بکائو شے ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ کمی کس چیز کی ہے؟ تقویٰ کی۔ ہم میں یہ خرابیاں اس کے باوجود ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے، آخرت میں ہمیں اپنے ہر ہر عمل کا جواب دینا ہے، مگر خدا خوفی نہیں ہے، دل یقین سے محروم ہیں، اُن میں اِس پکڑ کا احساس ہی نہیں ہے، لہٰذا حرام کاریاں، سیاہ کاریاں، بداعمالیاں، جھوٹ، فریب، گناہ، معصیت ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ ذلت، یہ رسوائی، یہ خواری اور یہ جگ ہنسائی تقویٰ سے محرومی کی وجہ سے ہے۔ یہ تو دنیا کا معاملہ ہے۔ آخرت کی کامیابی کے لیے تو تقویٰ کا ہونا اور بھی ضروری ہے۔ نجات اُخروی کے لیے اہم ترین شرط تقویٰ ہے۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ جنت تیار ہی اُن لوگوں کے لیے کی گئی ہے جن کے پاس تقویٰ کی پونجی ہو۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں