07:28 am
تیل کہانی ختم، افطار کا سیاسی دستر خوان!

تیل کہانی ختم، افطار کا سیاسی دستر خوان!

07:28 am

٭تیل کہانی ختم، ’خوش خبری‘ گم ہو گئیO لالہ موسیٰ میں پیپلزپارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ کے بیٹے کی رسم قل، سوگ، آہ و زاری، اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا جشن ملاقات، جپھیاں، قہقہے، شاہانہ کھانےO اپوزیشن کا عید کے بعد الگ الگ سڑکوں پر آنے کا اعلان O فالودے والے کے اکائونٹ میں اربوں؟ کسی کو نہیں چھوڑیں گے، چیئرمین نیبO عبدالحکیم موٹر وے آڈٹ، 27 ارب 38 کروڑ کے گھپلے، نامکمل سڑک کا افتتاح، تحقیقات شروع۔
 
٭سمندر میں تیل کی تلاش محض سراب ثابت ہوئی۔ تیل یا گیس کا کوئی سراغ نہ ملا، کام بند کر دیا گیا اور جس وزیراعظم نے بڑے جوش و خروش سے تین ہفتے میں بڑی خوش خبری سنانے کا اعلان کیا تھا اسے رپورٹ بھیج دی گئی کہ 14 ارب روپے ضائع ہو گئے، تیل کی ایک بوند بھی نہ نکلی! کسی جگہ تیل نکل آنا یا نہ نکلنا، عام بات ہے۔ دنیا بھر میں تیل کی تلاش کے لئے کھودے جانے والے سینکڑوں کنوئیں ناکام رہے اور بند کر دیئے گئے۔ کبھی اس پر کسی نے دکھ کا اظہار نہیں کیا۔ چند ممالک میں تیل نکل بھی آیا۔ یہ بھی عام بات تھی مگر ہمارے ہاں کیا ہوا! کسی مناسب تعلیم، تجرباتی مہارت اور سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری حکومتی چوبداروں نے خوشی سے اچھلتے کودتے، کسی تحقیق کے بغیر شہنشاہ معظم کے حضور رپورٹ پیش کر دی کہ تیل کے بھاری ذخیرے مل گئے ہیں۔ اس پر عالی جاہ نے فوراً بیان جاری کر دیا کہ تین ہفتوں میں بڑی خوش خبری سنائوں گا۔ جیسے چیلے ویسا گورو! عالم پناہ نے اصل ماہرین کی رائے ضروری نہ سمجھی کہ کیا امکانات ہیں؟ خوش خبری کے لئے تین ہفتے کی مدت مقرر کی تھی، گیارہ ہفتے گزر گئے کہ خوش خبری کی بجائے سنائونی آگئی کہ تیل، گیس، کچھ نہیں ملا، کام بند کر دیا گیا ہے۔ اعلیٰ ذمہ دار ایوانوں سے ہر وقت غیر ذمہ دارانہ بیانات کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے اعلان کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو خود کشی کر لوں گا، اقتدار میں آئے تو دربار میں جھک کر سات سلام کرنے والوں نے اعلان کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہی،جانا ہی پڑا تو سخت شرائط نہیں مانیں گے! پھر؟ قارئین سب کچھ جانتے ہیں! ماضی میں بھی کہیں سے اینٹ، کہیں کے روڑے سے بھان متی کے کنبے جوڑے جاتے رہے ہیں مگر بھان متی کا موجودہ کنبہ بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ ہر کوئی الگ الگ ڈفلی بجا رہا ہے! پرانے بزرگ صحافی حمید نظامی مرحوم ایک جملہ بہت استعمال کیا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے کسی قوم کو سزا دینی ہوتی ہے تو اس پر نااہل حکمران مسلط کر دیئے جاتے ہیں۔ میں برسوں سے یہ المیہ دیکھ رہا ہوں! خدا تعالیٰ رحم فرمائے!
٭اب کچھ باتیں اسلام آباد میں افطار جشن کی! بچوں کا ایک پرانا گیت یاد آنے لگا تھا کہ چڑیا بھی آئی، کوا بھی آیا، فاختہ آئی، مور بھی آیا۔‘‘ یہ گیت نامناسب لگا! البتہ ایک چھوٹی سی کہانی یاد رہ گئی کہ چڑیا لائی دال کا دانا، چڑا لایا چاول کا دانہ، دونوں نے مل کر کھچڑی پکائی، سب نے مل کر کھائی! خبر ہے کہ افطار ڈنر میں، سموسے، رس ملائی، فروٹ چاٹ، دہی بھلے، شربت، کھانے میں نمکین گوشت، قورمہ، مچھلی، پالک، پنیر گوشت، بریانی، بھنڈی توری، کھیر اور دوسری میٹھی ڈشیں اور عین اس وقت لالہ موسیٰ میں پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر الزمان کائرہ جوان بیٹے کی ناگہانی موت کا رقت آمیز ذکر کرتے ہوئے، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور سینکڑوں ہزاروں حاضرین کی آنکھوں میں نمی تیر گئی اور اسی وقت اسلام آباد کے زرداری ہائوس میں قہقہے بلند ہو رہے تھے، جپھیاں ڈالی جا رہی تھیں، خوش گوار استقبال ہو رہے تھے۔ افطار کے نام پر شاہانہ ضیافت کے لطف اٹھائے جا رہے تھے! اس کے ساتھ حکومت کو ہٹانے کے بارے میں بلند بانگ اعلانات کئے جا رہے تھے! اپوزیشن کی تقریباً تمام پارٹیوں کے سربراہ یا نمائندہ وفود نہائت مسرت بھرے اعلامیہ کا اظہار کر رہے تھے کہ عید کے بعد حکومت کو گرانے کے لئے کل پاکستان قسم کا کنونشن منعقد ہو گا جس کا اہتمام و صدارت مولانافضل الرحمان کریں گے۔ اس کے بعد عوام کو سڑکوں پر لایا جائے گا، اسلام آباد پر لاکھوں افراد قبضہ کر لیں گے، اور موجودہ حکومت کو اسلام آبادسے نکال دیا جائے گا۔ قارئین کرام! میں چند حقائق بیان کر رہا ہوں۔ انہیں بالکل غیر جذباتی اور غیر جانبدارانہ ذہن کے ساتھ پڑھئے:۔
٭قومی اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 342 ہے۔ کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لئے کم از کم 172 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ اسمبلی میں مختلف پارٹیوں کی پوزیشن یوں ہے: تحریک انصاف 157، اتحادی پارٹیاں 28 (ایم کیو ایم 7، ق لیگ 5 بی این پی 4، جی ڈی اے 3، بی اے پی 5، کچھ پارٹیاں ایک یا دو نشستیں) کل تعداد 185۔ اپوزیشن (پیپلزپارٹی 54، ن لیگ 84، دوسری پارٹیاں 19، کل تعداد 157۔ حقائق یوں ہیں کہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کے بعد اپوزیشن 157 ارکان کے ساتھ حکومت نہیں بنا سکتی، پھر؟؟ کسی حکومت کے بغیر اسمبلی خالی اور معطل ہو جائے گی ایسی صورت میں قومی حکومت بن سکتی ہے‘ ایمرجنسی کے ذریعے غیر معینہ عرصے کے لئے صدارتی نظام آ سکتا ہے، فوج آ سکتی ہے یا نئے انتخابات کا اعلان ہو سکتا ہے۔ نئے انتخابات ممکن نہیں، گزشتہ عام انتخابات پر 25 ارب روپے خرچ ہوئے اتنی رقم فوری طور پر کہاں سے آئے گی؟ خزانے کا جو حال ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ ویسے بھی انتخابات کی تیاری میں کم از کم چھ ماہ لگ جائیں گے جب کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں نئے بلدیاتی انتخابات کے لئے ایک سال کی مدت طلب کر چکا ہے۔ عام انتخابات یا بلدیاتی انتخابات بیک وقت نہیں ہو سکتے۔ قومی حکومت کون بنائے گا؟ ایک دوسرے کا سر پھاڑنے والے لوگ کس طرح اکٹھے ہوں گے؟ فوج ایسے حالات میں آنا پسند نہیں کرے گی کہ خزانہ خالی ہے اورملک کھربوں کے قرضوں میں پھنسا ہوا ہے، فوری طور پر اربوں کا صرف سُود ادا کرنا ہے! فوج یہ دردِ سر کیوں مول لے گی؟ اس ساری صورتِ حال میں کہ ملک شدید مہنگائی اوربدحالی سے دوچار ہے، اپوزیشن کی عوام کو سڑکوں پرلا کر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ سے ریاستی نظام بالکل مفلوج ہو سکتا ہے، حکومت ختم ہونے کے بعد اپوزیشن حکومت نہیں بنا سکتی، کسی طرح بنا بھی لی تو اقتدار سے محروم تحریک انصاف اسے کیسے چلنے دے گی؟ ملک افراتفری اور مزید بدحالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ صورت حال ہر حقیقت پسند شہری کے سامنے ہے یہ حالت یہ ہے کہ فضل الرحمن مسلسل حکومت گرانے کے نعرے لگا رہے ہیں اور ن لیگ کے شاہد خاقان عباسی واضح بیان دے رہے ہیں کہ حکومت نہیں گرائیں گے۔ پھر مولانا کیا اقوام متحدہ کے پاس جائیں گے؟ ویسے کشمیر کمیٹی کی صدارت چھن جانے کے بعد کل پاکستان پارٹیز کنونشن کی صدارت ہاتھ آ گئی ہے، یہی سہی! اور ہاں، حکومت چلی بھی جائے، نیب موجود رہے گی، پھر؟

تازہ ترین خبریں