09:46 am
کیا لٹیروں کے پیچھے عوام آئیں گے؟

کیا لٹیروں کے پیچھے عوام آئیں گے؟

09:46 am

 آصف علی زرداری نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے وہ اس تحریک کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ حکومت کے خلاف تحریک چلانا کوئی غیر آئینی بات نہیں ہے یہ ان کا حق بنتا ہے لیکن عوام اس حقیقت سے باخوبی واقف ہیں کہ مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے معروف زرداری اپنی کر پشن کو بچانے کے لیے تحریک چلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے یعنی بلاول زرداری کو بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف بدعنوانیوں کے سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات رک سکیں لیکن میں نہیں سمجھتا ہوں کہ عوام زرداری کا ساتھ دیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بے تحاشا کر پشن کا ارتکا ب کیا ہے منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک کی دولت کو ناجائز طریقے سے بیرون ممالک منتقل کیا ہے ۔ زردار ی کے خلاف تیس کیسسز کے سلسلے میں آٹھ کیسسز میںکرپشن ثابت ہو چکی ہے چنا نچہ یہ بالکل ممکن ہے کہ انہیں ’’تحریک ‘‘ چلانے سے قبل ہی گرفتار کر لیا جا ئے دوسری طرف عوام عدلیہ سے التماس کر رہے ہیں کہ ان کرپٹ عناصر کے خلاف فیصلہ سنایا جائے تاکہ جہاں ایک طرف ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جا سکے تو دوسری طرف انہیں سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ یہ عناصر ایسا گھنائو نا کام نہ کر سکیں تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ زرداری عوام کا کوئی اور نہ ہی ان حکومت کا انداز جمہوری تھا وہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں کر پشن کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں سندھ کے عوام بھی ان کو اس ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔
 
 بے نظیر کے خیالا ت اور جمہوریت سے ان کی جدوجہد ہی سے پی پی پی اقتدار میں آئی تھی زرداری کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس لیے عوام ان کی ’’ کال‘‘پر نہ تو سڑکوں پر نکلیں گے اور نہ ہی یہ غریب مفلوک الحال عوام سے کسی قسم کی قربانی کی امید کی جانی چاہیے سیاست دانوں نے عوام کو سبز باغ دکھا کر دھوکہ دیا ہے جہاں تک بلاول زرداری کا اس تحریک میں شامل ہونے کا تعلق ہے تو وہ یقینا شامل ہو ں گے انگاروں پر بھی چلیں گے جیسا کہ ان کے والد کی خواہش ہے ویسے بھی بلاول زرداری کے پاس اپنے والد کے ساتھ کھڑا ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور اگر وہ تحریک میں شامل نہیں ہو نگے تو زرداری ان کے ساتھ کیا برتائو کریں گے؟ ماضی کے واقعات حال اور مستقبل کی پیشن گوئیاں کرنے کے لیے کافی ہے ویسے بھی بلاول زرداری میں قیادت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے انقلابی جملوں کے استعمال سے انسان انقلابی نہیں بن جاتا ہے اس کے سخت محنت اور ریاضت کرنی پڑتی ہے گلی کوچوں میں جا کر عوام سے ملاقات کرکے ان کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے سے ذہن میں تبدیلی لانے کے حوصلے پرورش پاتے ہیں ۔ ہر حال بلاول زرداری اپنے والد کی تحریک میں شامل ہو کراس کو آگے بڑھانے کا شوق پورا کر لیں سندھ کے عوام اب ’’جیئے بھٹو‘‘ کے نعروں کی معروضیت سمجھ چکے ہیں۔
زرداری نے اپنی سیاسی جماعت کو بھی فعال کرنے کا ارادہ کر لیا ہے بلکہ شامل ہو چکے ہیںاس طرح ایک اور لٹیرا اس حکومت مخالف تحریک میں شامل ہو گیا ہے عوام اس شخص کو اوران کے کارندوں کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح یہ جرنل جیلانی کی مہربانیوں سے نوازشریف پاکستانی سیاست میں پیچھے کے راستے سے داخل ہوئے اور پھر آگے بڑھتے چلے گئے۔ جنرل ضیا الحق مرحوم نے بھی ان پر عنایتوں کی بارش کر دی اس امید پر کہ یہ’’ جواں‘‘ملک کو ترقی کے راستے پر لے جائے گا اور ایک ایسی طرزِحکومت کی بنیاد رکھے گا جس میں ہر طرف عوام کی خوشحالی اور ملک کو اندرونی اور بیرونی استحکام حاصل ہو گا لیکن جنرل ضیا الحق کی امیدیں بھی نقش برآب ثابت ہوئیں۔ باخبر سیاست دانوںکا یہ کہنا ہے کہ اگر جنرل ضیا الحق کا طیارہ گر کر تباہ نہیں ہوتا تو وہ نواز شریف کو گرفتار کرنے والے تھے۔ بقول ان سیاست دانوں کے میاں صاحب کا بھارت سے ’’خفیہ لنک‘‘ ثابت ہو چکا تھا تاہم بعد میں آنے والے واقعات نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ نواز شریف پاکستان میں مبینہ طورپر بھارت کے مفادات کے لیے کام کررہے تھے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو جس طرح انہوں نے اپنے گھر بلایا اس کی پذیرائی کی اور پاکستان کی فوج کو یہ پیغام پہنچایا دیا کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں عوامی نمائندہ ہوں مجھے کوئی روکنے والا نہیں ہے ‘چنانچہ نواز شریف کے ساتھ جو کچھ بھی ہو ا وہ ایک تاریخ ہے اس وقت وہ سات سال کی قید بھگت رہے ہیں وہ چوری کے الزام میں یہ سزا کاٹ رہے ہیں وہ زرداری کے ساتھ میثاق کے تحت تحریک چلانے کا سوچ رہے ہیں حالانکہ وہ بیمار تھے ایک ابھی چھ ہفتے اپنے گھر جاتی امرا میں آرام فرما کر آئے ہیں وہ لند ن بھی جانا چاہتے ہیں جہاں ان کا علاج ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان میں ایسا کوئی طبی ادارہ نہیں ہے جو ان کی ’’خفیہ‘‘ لاعلاج بیماری کا پتہ چلا سکے لیکن عدلیہ نے انہیں لندن جانے سے روکا ہو اہے کیونکہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔
ان کا پاکستان میں ہر طرح کا علاج ہو سکتا ہے دراصل وہ اپنے چھوٹے بھائی طرح بھاگ کر لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دشمن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ عدلیہ ان کی تمام کی تمام چالوں سے واقف ہے اس لیے فی الوقت وہ جیل میں ہر طرح کی سہولتوں سے مستفید ہو رہے ہیں یعنی انہیں جیل میں وہ سہولتیں میسر ہیں جو ان کو جاتی امرا میں موجود ہیں ۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ بیمار ہیں تو تحریک چلانے کا کیوں سوچ رہے ہیں انہیں عمران خان کو آئندہ پانچ سال تک کے لیے حکومت کرنے دینا چاہیے۔ زرداری اور نواز شریف دونوں کی سیاسی جماعتوں نے تیس تیس سال ملک میں حکومت کی ہے ۔ قومی وسائل کو بری طرح لوٹا اور پامال کیا ہے نواز شریف پر اس وقت بقول عمران خان کے 300ارب روپے واجب الادا ہیں جس کو انہیں فی الفور واپس کر دینا چاہیے خود فواد چوہدری جو اس وقت وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہیں انہوں قومی اسمبلی کے فلور رپر کہا تھا کہ اگر زرداری اور نواز شریف لوٹی ہوئی دولت قوم کو واپس کردیں انہیں پاکستان میں سیا ست کرنے کی پوری آزادی ہو گی ان دونوں نے اس تجویز ہی درخور اتنا ہی نہیں سمجھااب یہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سب عوام کیوں کر ان لٹیروں کاساتھ دیں گے جن کی وجہ سے ملک اس حال سے دوچار ہوا ہے۔ 


 

تازہ ترین خبریں