09:47 am
رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں

رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں

09:47 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 مثلاً ’’(جنت) تیار کی گئی ہے‘ متقین کے لیے‘‘ (آل عمران:133) اور ’’کامیابی متقین کے لیے ہے۔‘‘ (النبا:31) اور فرمایا: ’’بے شک متقین جنت میں ہوں گے اور اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہورہے ہوں گے۔‘‘ (الطور:17) 
رمضان 30 روزہ تربیتی پروگرام ہے اس تربیت سے ہمیں ایمان اور یقین کی دولت ملے گی، نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی عملی ٹریننگ حاصل ہو گی، تقویٰ کی پونجی میسر آئے گی، جو اُخروی کامیابی اور گناہوں سے بچنے کے لیے لازمی ہے۔ یہ عملی ٹریننگ کیا ہے؟ یہ کہ روزے کی حالت میں کچھ حلال چیزوں سے بھی بچو، یہ پابندی قبول کرو کہ صبح صادق سے لے کے غروب آفتاب تک جائز ذرائع سے تم کچھ کھانے پینے اورجنسی خواہش پوری کرنے سے احتراز کروگے۔ اگر تم نے ایسا کر لیا تو تمہارے اندر وہ روحانی طاقت پیدا ہو گی کہ تم سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں حرام اور ناجائز چیزوں سے بچ سکوگے۔ 
رمضان کی فضیلت نزول قرآن کی بنا پر ہے۔ چنانچہ یہ بات فرمادی کہ ’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی
کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے‘‘
ماہ رمضان المبارک میںانسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی عظیم نعمت نازل ہوئی ہے کہ زمین کے اوپر اس جیسی کوئی نعمت اور اس سے زیادہ فضیلت والی کوئی شے نہیں ہے۔ یہ نعمت اللہ تعالیٰ کا کلام قرآن حکیم ہے۔اور یہ نوع انسانی کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت ہی وہ سرمایہ ہے جس کی ہم نماز کی ہر رکعت میں دُعا مانگتے ہیں،’’(اے اللہ) تو ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے دے ‘‘۔ ہدایت دنیا کی زندگی میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو اللہ نے قرآن کی شکل میں پورا فرمادیا۔ یہ وہ ہدایت نامہ ہے جو پوری نوع انسانی کے لیے ہے۔ اِس میں مرد اور عورت، حکمران اور رعایا، عالم اور بے علم، والدین اور اولاد، خاوند بیوی، استاد اور شاگرد، کسان اور مزدور، غرض ہر شخص کے لئے رہنمائی کا وافر سامان موجود ہے۔ قرآن حکیم کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ یہ ہدایت کی روشن دلیلوں پر مشتمل ہے۔اس میں ہدایت کو ہر انداز سے واضح کیا گیا‘ تاکہ ہر شخص جس میں ذرا بھی طلب ہو‘ وہ اس سے فائدہ اٹھاسکے۔ اسی سے معلوم ہو گا کہ کیا حق ہے اورکیا باطل ہے؟ یہ پیمانہ ہے جس پر ہر شے کو پرکھا جائے گاکہ کیا چیز درست ہے‘ کیا غلط ہے؟ کون سا نظریہ درست ہے‘ کون سا فلسفہ غلط ہے؟ کون سا طرز عمل درست ہے‘ کون سا غلط۔ 
غور کیجئے، جس عظیم مہینے میں قرآن نازل ہوا اُسی میں روزہ فرض کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ روزہ اور قرآن کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ روزہ سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے‘ اور اہل تقویٰ ہی کے لئے قرآن مجید ہدایت اور رہنمائی کا سامان ہے۔ جیسے فرمایا: ’’یہ وہ کتاب ہے جس (کے منجانب اللہ ہونے) میں کوئی شک نہیں‘ ہدایت ہے متقین کے لیے۔‘‘ (البقرہ:2) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کا روزہ رکھنا فرض قرار دیا۔ اور پھر فرمایا: ’’اس مہینے کی راتوں میں قیام کو نفل عبادت مقرر کیا ہے۔‘‘ دن کے روزے کے ساتھ قیام اللیل کی بڑی ترغیب دلائی گئی ہے۔ قیام اللیل کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھا جائے کہ یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ لہٰذا اس ماہ مبارک کی برکات سے فائدہ اٹھانے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ آدمی دن میں روزہ رکھے اور رات کا بڑا حصہ قرآن کے ساتھ گزارے۔ قرآن کے سننے، پڑھنے اور سمجھنے میں مشغول رہے۔ الغرض رمضان کا صحیح نسخہ ہے: دن کاروزہ رات کا قیام۔
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:’’جس نے رمضان کا روزہ رکھا ایمان اورخود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ اُس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے اور جو رمضان(کی راتوں) میں کھڑا رہا ایمان و احتساب کی کیفیت کے ساتھ اُس کے بھی پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے۔‘‘
اگر کسی کو قرآن کا ترجمہ آتا ہو اور پھر وہ رات کو کھڑا ہو کر نوافل میں قرآن پڑھ رہا یا سن رہا ہو تو اس کی اپنی ہی تاثیر ہے، اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس سے قرآن کی ہدایت منکشف ہوگی اور انسان کے لیے اس سے فائدہ اُٹھانے کا موقع پیدا ہوگا۔ 
متذکرہ حدیث میں قیام اللیل کا و ذکر ہوا ہے، اُس کا انطباق کم از کم ایک تہائی رات پر ہوتا ہے۔ یعنی رات کا تیسرا حصہ قرآن کے ساتھ گزارا جائے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ کو جو سورئہ مزمل میں حکم آیا ہے، اُس میں کم از کم ایک تہائی رات کا ذکر ہے۔ فرمایا: ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات۔ یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم۔ یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘
پس اگر ایک شخص ایک تہائی رات قرآن کے ساتھ جاگے تو وہ حدیث کے مطابق ’’قام رمضان‘‘ پر عمل پیرا ہوجائے گا۔ لہٰذا حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور میں تراویح کا ایک مرتب نظام سامنے آیا تاکہ ہر مسلمان اس سے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور اُٹھالے۔ ایک محنت کش بھی کم سے کم ایک پارہ تراویح میں سن کر رمضان میں پورے قرآن کی سماعت مکمل کرلے۔ 
روزہ اور قرآن کی باہمی نسبت ایک اور حدیث سے بھی واضح ہے، آنحضورﷺ فرماتے ہیں:ــ’’روزہ اور قرآن دونوں بندے کی سفارش کریں گے (یعنی اس بندے کی جو دن میں روزے رکھے گا اور رات میں اﷲ کے حضور میں کھڑے ہو کر اُس کا پاک کلام قرآن مجید پڑھے گا یا سنے گا)۔ روزہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور نفس کی خواہش پوری کرنے سے روکے رکھا تھا‘ آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما (اور اس کے ساتھ مغفرت و رحمت کا معاملہ فرما) ! اور قرآن کہے گا : میں نے اس کو رات کے سونے (اور آرام کرنے) سے روکے رکھا تھا‘ پروردگار، آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما ( اور اس کے ساتھ بخشش اور عنایت کا معاملہ فرما) !چنانچہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندہ کے حق میں قبول فرمائی جائے گی۔(رواہ البیہقی فی شعب الایمان)         ( جاری ہے)
قرآن مجید دراصل ہماری روح کی غذا ہے۔ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے: وجود حیوانی اور روح ربانی۔ وہ صرف حیوانی وجود ہی نہیں رکھتا بلکہ اس میں ایک روح بھی پھونکی گئی ہے جس کی نسبت اللہ کی طرف ہے۔
’’جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں۔‘‘(الحجر۔۲۹)
روح کے اندر خیر کی طرف رجحانات پائے جاتے ہیں۔ اِسی بنا پر انسان دوسرے کی مدد کرکے خوش ہوتا ہے، اپنا پیٹ کاٹ کر کسی بھوکے کو کھانا کھلانے سے اُسے مسرت ہوتی ہے۔ روح کے تقویہ کے لیے اصل غذا قرآن مجید ہے۔ روح کا تعلق عالم امر سے ہے اور قرآن مجید کا تعلق بھی عالم امر سے ہے۔ جب ہماری روح عالم امر کی شے ہے تو اس کے لیے غذا بھی اس زمین سے نہیں ملے گی، وہیں سے آئے گی اور وہ غذا قرآن حکیم ہے۔ روح طاقتور تب ہوگی جب ہم قرآن حکیم سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں، اُسے پڑھیں، سمجھیں، اِسے عام کریں، اُس کی تعلیمات پر چلیں، گناہوں منکرات اور معصیتوں سے بچیں۔ 
روزے کا ثواب کس درجے ہے، اِس کا اندازہ کیجئے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’آدم کی اولاد کا ہر عمل دونا ہوتا ہے، ایک نیکی دس سے لے کر سات سو تک بڑھ جاتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: روزہ میرے لیے خاص ہے، اس کا اجر اور بدلہ میں خود عطا کروں گا۔ اِس لیے کہ میرا بندہ میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانا چھوڑتا ہے۔‘‘
جب رب تعالیٰ کہتا ہے کہ میں ہی روزہ کی جزا دوں گا تو اس کا مطلب لامحدود اجر ہے۔ مگر یہ اجر تب ملے گا جب روزہ تمام آداب و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے رکھا جائے۔ اِسی لیے تو آنحضورﷺ نے بہت واضح طور پر ہمیں متنبہ فرمایا کہ ’’بہت سے روزے دار ایسے ہیں جنہیں (روزہ سے) سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ملتا۔‘‘ یہ کون لوگ ہیں ؟ اس کی وضاحت ایک اور حدیث میں ملتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا:’’جس شخص نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹے کام کرنا (گناہ کے کام کرنا) نہ چھوڑا تو پھر اللہ کو اِس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کھانا پینا چھوڑدے۔‘‘ یہ عجیب بات ہوگی کہ روزے کی حالت میں آدمی جائز و حلال چیزوں سے تو دور رہے مگر جو چیزیں مستقل حرام اور ناجائز ہیں، ان سے نہ بچے۔ یہ تو ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ ایسے شخص کا روزہ حقیقت میں روزہ نہیں ہے۔ روزہ درحقیقت اُس شخص کا ہے جو ہر قسم کی غلط بات اور غلط فعل سے اپنے آپ کو بچائے۔ اُس کی زبان سے کوئی غلط بات نہ نکلے۔ اُس کے اعضاء و جوارح سے کوئی غلط حرکت سرزد نہ ہو۔ وہ کسی غلط کام میں حصہ دار نہ بنے۔ جو شخص اس انداز سے روزے رکھے گا اُسے تقویٰ کی پونجی ملے گی۔ ورنہ وہ روزے کی برکات سے محروم رہے گا۔ یہ روزے کے تصور ہی کی نفی ہے کہ انسان روزہ رکھ کر غلط کام کرے، گناہوں میں ملوث ہو، جن چیزوں سے روکا گیا ان کا ارتکاب کرے۔
اس مہینے میں فرض عبادت کے ساتھ نوافل کا کثرت سے اہتمام کیا جائے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جو شخص بھی اس مہینے میں اللہ کا قرب چاہے گا کسی غیر فرض (کسی نفلی عبادت) کے ذریعے تو نفل عبادت کا ثواب اتنا ہے جتنا دوسرے مہینوں میں کوئی فرض ادا کرے۔‘‘ اور فرض کا ثواب تو اور بھی کئی گنا بڑھ کر ہے۔ فرمایا: ’’جس کسی نے اس مہینے میں کوئی فرض ادا کیا، اس کے لیے اتنا ثواب ہے جیسے کہ دوسرے مہینوں میں ستر فرائض انجام دے۔‘‘ گویا فرض کا ستر گنا ثواب ہے۔ عربی زبان اور حدیث میں جب ستر کا ہندسہ آتا ہے تو وہ کثرت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آگے فرمایا: ’’یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔‘‘ صبر یہی نہیں ہے کہ کوئی شخص مارے تو انسان جو اب نہ دے۔ بلکہ ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر ہر قسم کی مشقت اور تکلیف جھیلنا بھی صبر ہے۔ ہماری یہ زندگی عارضی ہے۔ اصل زندگی وہ ہے جو اس کے بعد آئے گی۔ ہمارا مطمع نظر وہاں کی کامیابی ہونا چاہیے۔ یہ زندگی تو دارالامتحان ہے۔ یہ امتحان کس چیز کا ہے؟ یہ اپنے آپ کو روکنے، تھامنے اور نفس کے بے لگام گھوڑے کو روک کر رکھنے کا ہے۔ انسان میں حدود اللہ کو پھیلانگنے کا رجحان ہے ، گناہ، معصیت اور نفسانیت کی طرف میلان ہے۔ اپنے آپ کو گناہ سے روکنا بھی صبر ہے۔ اِسی طرح اللہ کی اطاعت کرنا، بندگی بجالانا، پنج وقتہ نماز ادا کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے بھی استقامت کی ضرورت ہے۔ یہ استقامت بھی صبر ہے۔ یوں صبر کے بے شمار مدارج ہیں، جن کا اس مہینے میں امتحان ہوتا ہے۔ چونکہ صبر بہت بڑی آزمائش ہے، لہٰذا اس کا اجر و ثواب یہ ہے کہ آدمی کو جنت ملے گی۔ 
ماہِ رمضان قرآن سے تجدید تعلق کا مہینہ ہے۔ یہ تقویٰ کے حصول کا مہینہ ہے۔ یہ نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اگر ہم مسلمانانِ پاکستان اس مہینے سے بھرپور طور پر استفادہ کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب پیش قدمی شروع کردیں تو ان شاء اللہ دنیا میں بھی اللہ کی مدد اور نصرت ہمارے ساتھ ہوگی اور آخرت میں بھی ہم کامیابی کے مستحق ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمادے۔آمین!





 

تازہ ترین خبریں