09:47 am
نام میں کیارکھاہے؟

نام میں کیارکھاہے؟

09:47 am

مغرب اب تک عرب دنیاکوسمجھنے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے۔اس وقت شام میں بھی ہم اپنی مرضی کے چھوٹے چھوٹے نسل پرستانہ نقشوں کوبروئے کارآتے ہوئے دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔بشارالاسد کاآبائی علاقہ قرداح ایک بھیانک تصویرپیش کرتاہے۔اب پھرذہنوں میں سوال ابھررہاہے کہ کیابشار الاسد کی (علوی)کمیونٹی اقتدار پرقبضہ برقراررکھنے میں کامیاب ہوگی جبکہ وہ ملک کی آبادی میں بارہ فیصدہے؟ہم نے عراق کے بارے میں بھی غلط اندازے قائم کیے تھے۔ آپ کویادہوگاکہ مغرب کے دانشورعراق میں شیعوں کو سب سے نیچے،سنیوں کووسط اورکردوں کوبلندی پررکھاکرتے تھے۔لبنان کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔وہاں آبادی مختلف علاقوں میں بٹی ہوئی ہے اور مغرب کے جاری کردہ نقشوں میں یہی سب کچھ بیان کیاجاتارہایعنی سب سے نیچے شیعہ،مشرق میں شیعہ اورسیدون اورٹریپولی میں سنی اوربیروت کے مشرق او رشمال میں عیسائی۔آج تک مغربی دنیاکے کسی نقشے میں بریڈ فورڈ(برطانیہ)کی آبادی کوعیسائی اورمسلم کے روپ میں تقسیم نہیں کیاگیا۔کسی نقشے میں واشنگٹن کی آبادی کوسفید فام اورسیاہ فام میں منقسم نہیں دکھایاگیاکیونکہ اس سے تو یہ تاثرملے گاکہ مغرب کی آبادی کونسل اورقبیلے کی بنیادپرتقسیم کیاجاسکتاہے۔ صرف عرب دنیاہماری طرف سے پیش کی جانے والی لسانی اورنسلی تقسیم کے میرٹ پرپوری اترتی ہے!
 
مشکل یہ ہے کہ شام،جوسیکولررہاہے،کسی بھی اعتبارسے مذہبی بنیادپرتقسیم کاحامل نہیں رہا۔شام سنیوں،عیسائیوں اورعلویوں کامرکزرہاہے۔علوی پہاڑی علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ان کاتعلق بنیادی طورپرترک صوبے ہاتے میں الیگزینڈریٹاسے رہا ہے۔ وہ چاہے کہیں بھی رہتے رہے ہوں،ان کے ماضی کے بارے میں ہمیں کم ہی معلوم ہے اورفرانس کامعاملہ توخیرجانے ہی دیجیے۔فرانس کی مصنفہ اور محقق سیبرینامرون نے علویوں کے بارے میں تحقیق کی ہے اوربتایاہے کہ ان کاتعلق بنیادی طورپر شیعہ فرقے نصیریہ سے ہے۔اس فرقے کابانی محمدابن نصیرتھاجس نے نویں اوردسویں صدی عیسوی میں اپنے فرقے کوفروغ دیا۔یہ دورعرب دنیامیں شیعیت کے فروغ کے حوالے سے سنہرادورکہلاتا ہے ۔ سیبرینامرون کی تحقیق کوفرانس کے مشہوراداریلی مونڈ ڈپلومیٹک نے شائع کیاہے۔اس کتاب میں سیبرینا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ علویوں کومختلف ادوارمیں شدید مخالفت کاسامنا کرناپڑاتھا۔زیادہ پرانی نہیں،1903ء کی بات ہے۔بیلجین نژاد مستشرق اورجیسوئٹ ہنری لیمینز علویوں کوسابق عیسائی سمجھتاتھا۔اس کایہ تصورایک شیخ سے ملاقات تک برقراررہا۔یہ شیخ شیعہ عقائدکاعلمبردارتھا۔ لیمینزاستعمار پسندذہن کامالک تھا۔علوی بظاہرارواح کے حلول پریقین رکھتے تھے اوران کے ہاں بھی تثلیث تھی جومحمدﷺ،علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورسلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ پرمشتمل تھی۔لیمینزنے یہ تصورپیش کیاکہ فرانس اگرتھوڑاساتھ دے توعلویوں کوحلقہ بگوش مسیحیت کیاجاسکتاہے۔اس کے مشورے کی روشنی میں فرانس نے بعدمیں علویوں کی تھوڑی بہت حمایت اورسرپرستی کی۔
عثمانی ترکوں نے بھی علویوں کواپنے اندر سمونے کی کوشش کی۔سیبرینامرون کی تحقیق کے مطابق 1910ء تک علویوں کے عمائدین اورزعمانے لبنان اورشام کے شیعوں سے تعلقات استوارکرناشروع کردیے تھے اوروہ خودکوعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نسبت کی بنیادپرعلوی کہتے تھے اورخودکونصیری کہلانے سے یکسرگریزکرنے لگے تھے۔شام پرجس دور میں فرانس کا قبضہ تھا،تب فرانسیسی حکام نے علویوں کوسنیوں سے الگ کرنے کی کوشش کی۔اسی دورمیں یہ تاثرابھراکہ شام کے سنی توآزادی کیلئے لڑرہے تھے جبکہ علویوں کی اکثریت نے فرانسیسی قابض فوج کاساتھ دیاصرف علویوں کے ایک چھوٹے گروپ نے صالح العلی کی قیادت میں دسمبر1918ء سے1921ء کے دوران فرانسیسی فوج سے ٹکرلی تھی یہی وجہ ہے کہ1946ء میں آزادشام کی پہلی جمہوری حکومت نے صالح العلی کوقومی ہیروقراردیا۔علویوں کی ایک نمایاں شخصیت سلیمان المرشد کو1946 ہی میں غداری کے جرم میں پھانسی دی گئی۔
فرانس کے اقتدار کے حوالے سے علویوں میں بھی اختلافِ رائے تھا۔علویوں کی اکثریت فرانس کی حکومت کودرست سمجھتے تھے کیونکہ فرانسیسی حکام نے مختصرمدت کیلئے علویوں کے اقتداروالاایک الگ علاقہ قائم کیا تھاجبکہ ایک چھوٹاگروپ شام کے سنیوں کے ساتھ مل کرآزادی کی جنگ لڑنے کے حامی تھے۔ یہ لوگ سلیمان الاحمد کی قیادت میں آزادی کیلئے فرانسیسی فوج کے خلاف لڑے۔1936ء میں یہ اسلام کے دائرے میں آگئے اورفلسطین کے مفتی اعظم امین الحسینی نے فتوے کے ذریعے انہیں امت کاحصہ بنادیا۔یہ وہی شیخ امین الحسینی تھے جنہوں نے جرمن آمرایڈولف ہٹلرسے ملاقات کی۔ عراقی شیعوں کی مددسے علویوں نے اپنے معبدتعمیرکیے اورلٹریچرشائع کیا۔1952ء میں شام کے مفتی اعظم نے اِنہیں قبولیت کی سند دی۔علویوں اورشیعوں میں تعاون جاری رہااورپھر1973ء میں شام میں پہلی بارعلویوں کی حکومت قائم ہوئی جب حافظ الاسد صدرمقرر ہوئے۔لبنان میں سب سے زیادہ سیاسی سمجھے جانے والے شیعہ لیڈرامام موسی صدرنییہ اعلان کیاکہ علوی بھی مسلمان ہیں۔اسی دورمیں شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں سیدہ زینب نامی علاقے میں شیعوں نے مذہبی تعلیمات کے فروغ کیلئے مدارس کھولے۔یہیں سے شام کیشیعائزیشن کی کہانی شروع ہوئی۔شامی فوج میں بیشترجرنیل سنی تھے مگر پھریہ ہواکہ فوج اورحکمراں بعث پارٹی میں علوی نمایاں عہدوں تک پہنچ گئے اوردیکھتے ہی دیکھتے اقلیت کے باوجودشام کے تمام سرکاری اور غیرسرکاری محکموں میں ان کاقبضہ ہوگیااورعلوی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کامعیارزندگی بھی عام شامیوں سے برترہوگیااوراب فرقہ وارانہ بنیاد پرعلویوں کا تذکرہ ممنوع ہے۔ویسے شامی باشندوں میں علویوں کا تذکرہ کرنے کا ڈھنگ سب سے سفاک ہے۔انہیںجرمن کہاجاتا ہے۔ خیر،نام میں کیارکھاہے؟ 

 

تازہ ترین خبریں