09:48 am
دنیا بھارت پر معاشی دبائو ڈالے

دنیا بھارت پر معاشی دبائو ڈالے

09:48 am

 سال 2018میں بھارتی قابض فورسز اہلکاروں نے اس مہلک ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے 230کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی کو متاثر کردیا۔پیلٹ کے متاثرین آج آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ایسے نوجوان اپنی اور فیملی کی کفالت کرنے سے قاصر ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے بھارت کے نام مراسلے اور ان پر بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔ بھارت انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور آزاد میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے کر انسانی حقوق کی مزید پامالیوں کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ امن پسند دنیا اور انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے اداروں کو بھارت پر دبائو ڈالنے کے تمام طریقے آزمانا چاہیئے۔سیاسی، سفارتی اور اخلاقی دبائو بھارت تسلیم نہیں کرتا ۔ اس لئے دنیا کو بھارت پر معاشی دبائو ڈالنے کی جانب راغب ہو تو اس دبائو کو نظر انداز کرنا دہلی کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ 
 
اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے نامزد تین خصوصی نمائندوں نے بھارت کے نام دو ماہ قبل جومکتوب روانہ کیا اس میں 1990کے بعدمقبوضہ جموں و کشمیر میں ٹارچر اور ہلاکتوں کے76کیسوں میں ملوثین کو سزا دینے اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے بارے میں اقدامات کے حوالے سے تفصیل طلب کی گئیں۔ مارچ2019 کو بھارتی حکومت کے نام کونسل کے نمائندہ خصوصی برائے ماورائے عدالت قتل کے خصوصی نمائندہ انجیز کلماڈکے علاوہ ڈینس پراس اور نلس میلزر نے مکتوب روانہ کیا ۔ اس میں جون 2018کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا۔ بھارت نے اس وقت کے ہیومن رائٹس کمشنر زید راد الحسین پر جانبداری کا الزام عائد کیا۔ کیوں کہ وہ مسلم تھے۔ اقوام متحدہ کمے خصوصی نمائندگان نے بھارت کو 2018میں 27اور 2019میں 7بار مکتوب ارسال کئے۔جب کہ 20بار اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ایلچیوں کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے لئے درخواستیں کی گئیں۔جن کا بھارت نے کوئی جواب نہ دیا۔جنیوا میں بھارت کے مستقل مشن نے 23اپریل 2019کو ایک جواب میں لکھا کہ بھارت انسانی حقوق کونسل کے ساتھ مزید روابط قائم نہیں رکھے گا۔ مکتوب، جو اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کی ویب سائٹ پربھی ڈالا گیا ہے، میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ 60روز کا وقفہ بھارت کو دیا گیا لیکن بھارت نے کوئی بھی تفاصیل دینے سے انکار کردیا ۔مکتوب میں بھارتی فورسز کی ٹارچر سے شہری اموات، جس میں 2018میں 13ہلاکتیں شامل ہیں، جس میں 8ہلاکتیں فورسز کے ہاتھوں، جبکہ باقی نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں ہوئیں ہیں۔
کونسل کے تینوں نمائندوں نے لکھا ہے کہ ان سبھی معاملات میں بھارتی حکام غیر جانبدارانہ، فوری تحقیقات کرنے میں ناکام ہوئے ہیں،تاکہ قانون کی بالا دستی کو قام کیا جاتا،نہ ہی ایسے اقدامات کئے گئے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں پر روک لگائی جاتی۔اس بات کی نشاہدی کرتے ہوئے کہ انسانی حقوق کونسل نے تینوں اراکین کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ اس بات کی بھارت سے وضاحت طلب کریں،مکتوب میں بھارت سرکار سے کہا گیا کہ وہ ان 8معاملات میںتحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کے بارے میں جان کاری فراہم کرے، نیزکالے قانون افسپا کو کالعدم قرار دینے کے اقدامات کے بارے میں بھی وضاحت کی جائے۔ نمائندوں کے مطابق 8 معاملات میں جو الزامات لگائے گئے وہ انسانی حقوق کے مسلمہ قوانین کے خلاف ہیں، جس پر 1979 میں سبھی ممبر ممالک نے دستخط کئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے صاف طور پر کہا کہ 2018میں پیش آئے 8واقعات کے بارے میں ایسا لگتا ہے کہ بھارتی فورسز نے انہیں جان بوجھ کر قتل کیا یا پھر طاقت کابے جا استعمال کر کے براہ راست نشانہ بنایا گیا ۔ خط میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لیا جو جون 2018کی رپورٹ میںشائع کی گئی تھی۔کونسل کے تینوں خصوصی نمائندوں نے لیتی پورہ پلوامہ میں پیش آئے واقعہ کی بھی مذمت کی۔جس بھارتی فوج کے ایک سو سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو گئے۔
 اقوام متحدہ کی رپورٹ سامنے ایسے وقت میں آئی ہے جب مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے والی حقوق انسانی کی دو مقامی معروف تنظیموںنے بھی ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں ٹارچر کے شکار ہونے والے کشمیریوں میں سے 70 فیصد عام شہری ہیں جبکہ ٹارچر متاثرین میں سے 11 فیصد کی موت واقع ہوئی ہے۔ٹارچر: انڈین سٹیٹ کا بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں کنٹرول کا آلہ‘کے عنوان سے560 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ’دی ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپئررڈ پرسنز’اے پی ڈی پی اور‘جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی‘نے مشترکہ طور پر تیار اور جاری کی ہے۔ یہ تفصیلی رپورٹ ‘جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی’کی ویب سائٹ پر بھی جاری کی گئی۔
رپورٹ میں مقبوضہ وادی میں مسلح تحریک کے آغاز یعنی سال1990 میں مبینہ طورپر حکومت ہند کی طرف سے جاری ٹارچر پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی گئی اوررپورٹ میں سال 1947 سے مقبوضہ جموں کشمیر میں ہوئے ٹارچر کا مرحلہ وار تاریخی پس منظر پیش کیا گیا ہے۔رپورٹ میں اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیر میں ہورہے عام شہریوں کے ٹارچرکے واقعات کی تحقیقات بین الاقوامی سطح پر کرائیں۔
رپورٹ میں حکومت ہند سے کہا گیا کہ وہ ٹارچر کے خلاف ا قوام متحدہ کے کنونشن کو تسلیم کرے۔ اس رپورٹ کا پیش لفظ لکھتے ہوئے ٹارچر سے متعلق یو این کے سابق ایلچی جان ای مینڈیز جنھیں بھارت نے دورہ کرنے کی اجازت نہ دی ، نے کہا کہ یہ رپورٹ بھارت اور دیگر ممالک کے لئے ماڈل بنے گی ۔ آج مقبوضہ کشمیر میں مہلک ہتھیار پیلٹ گن سے متاثرہ سینکڑوں افراد احتجاج کررہے ہیں۔ وہ پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ اس مہلک ہتھیار سے آئے روز نوجوانوں کا مستقبل تاریک بنتا جارہا ہے۔ ایک طرف انسان آنکھوں کی روشنی سے پوری طرح محروم ہوجاتا ہے، دوسری طرف انسان کے ذریعہ معاش پر کاری ضرب پڑجاتی ہے۔’پیلٹ وکٹمز ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے بینر تلے درجنوں پیلٹ متاثرین نے گزشتہ روز بھی سرینگر میں بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مذکورہ ہتھیار پر فوری طور پر پابندی عائدکی جائے۔


 

تازہ ترین خبریں