09:49 am
رفاہی ہسپتال اور  دکھی انسانوں کی خدمت

رفاہی ہسپتال اور  دکھی انسانوں کی خدمت

09:49 am

جو لبرلز اور سیکولرز مختلف این جی اوز بناکر پاکستانی مسلمانوں سے زکوٰۃ ‘ صدقات مانگتے ہیں کیا انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ زکوٰۃ مذہب اسلام کا بنیادی رکن ہے؟

ہر دفعہ رمضان المبارک کے مہینے میں زکوٰۃ اکٹھی کرنے کے لئے میدان میں اترنے والے لبرلز نجانے پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنانے کا خواب کیوں دیکھتے ہیں؟ جس اسلام کی بتائی ہوئی زکوٰۃ مانگتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی اس اسلام کے بتائے ہوئے دیگر احکامات پر عمل کرتے ہوئے تمہیں شرمندگی کیوں محسوس ہوتی ہے؟
 
آج چونکہ موضوع دکھی انسانیت کی خدمت ہے لہٰذا موضوع کی طرف بڑھتے ہیں ۔
 ایک ادارے کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں خیرات اور زکوٰۃ کی مد میں سالانہ تقریباً دوسو ارب روپے دیئے جاتے ہیں‘ خیرات و زکوٰۃ کے ان اعدادو شمار کو اکٹھا کرنے والوں کی رسائی کہاں تک تھی یہ تو میں نہیں جانتا لیکن اگر ان اعدادو شمار پر بھی اعتماد کرلیا جائے تو یہ کافی بڑی رقم بنتی ہے۔
یاد رہے کہ ان اعدادو شمار میں بنکوں میں مسلمانوں کے کھاتوں میں موجود رقوم سے یکم رمضان المبارک کو زکوٰۃ کی مد میں وصول کئے جانے والے اربوں روپے اس کے علاوہ ہیں‘ حکومت زکوٰۃ کی مد میں وصول شدہ اربوں روپے کا کیا کرتی ہے؟ وصول شدہ زکوٰۃ میں سے کتنے روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں؟ یہ سوالات اٹھانا اس لئے بے معنی سے لگتے ہیں کیونکہ عمران خان تو جس طرح 22 سال کرپشن ‘ کرپشن کی دہائیاں دیتے رہے ‘ بالکل اسی طرح وزیراعظم بننے کے بعد بھی وہ کرپشن‘ کرپشن کی دہائیاں دے رہے ہیں۔
بہرحال پاکستان میں جہاں غضب کرپشن کی عجب کہانیاں چہار سو پھیلی ہوئی ہیں وہاں زکوٰۃ‘ صدقات اور عطیات کے بل بوتے پر ہونے والے اچھے کاموں کی بھی کمی نہیں۔
  الخدمت رازی ہسپتال بھی ان بہت سے اچھے کاموں میں سے ایک ہے جس ملک کے سرکاری ہسپتال انسانی مذبحہ خانوں میں تبدیل ہوچکے ہوں کہ جہاں ینگ ڈاکٹرز کے نام سے کی جانے والی ہڑتالیں اور احتجاج ’’ننگ‘‘ انسانیت بن چکا ہو‘ اس ملک میں ایسے ہسپتال بہرحال مجبور ‘ بے بس اور بے کس انسانوں کے لئے رحمت خداوندی سے کم نہیں‘ اس خاکسار کا اس ہسپتال سے نہ کبھی ذاتی واسطہ رہا اور نہ رابطہ لیکن اس ہسپتال کے مریضوں اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی امور کے نگران برادرم سیف اللہ گوندل ایڈووکیٹ کی معرفت اس ہسپتال کے حوالے سے جو معلومات مجھ تک پہنچیں وہ نہ صرف قابل تعریف بلکہ انتہائی حیرا ن کن بھی ہیں‘   ہسپتال صرف 12 سال کے قلیل عرصے میں چودہ لاکھ مریضوں کو صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کرکے تقریباً پونے دو ارب روپے کی سبسڈی دے چکا ہے‘ بہت سی لیڈی ڈاکٹر اور مرد ڈاکٹر یہاں بھی ’’ینگ‘‘ ہیں لیکن کیا مجال کہ انہوں نے کبھی ہڑتال کی ہو یا احتجاج کا سوچا بھی ہو؟ بلکہ یہاں کے ڈاکٹرز اور عملہ صرف مریضوں ہی نہیں بلکہ ان کے لواحقین کے لئے بھی نہایت شفیق اور خدمت کے جذبات سے لبریز رہتا ہے۔ زچہ بچہ سینٹر‘ اسلامی اقدار اور باپردہ روایات کے عین مطابق خواتین کے لئے خدمات سرانجام دے رہا ہے ‘ جہاں ہر ماہ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد500 کے لگ بھگ ہے (ماشاء اللہ) اس مصروف ترین زچہ بچہ سینٹر میں مرد حضرات کا داخلہ قطعاً ممنوع ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دیگر بالخصوص سرکاری ہسپتالوں کی نسبت خواتین کے پردے کے حوالے سے یہ ہسپتال ایک مثالی ادارہ ہے‘ وگرنہ سرکاری ہسپتالوں کے زچہ بچہ سینٹرز کی حالت زار تو اس حد تک ناگفتہ بہ ہے کہ ایک بیڈ کو کئی مریضہ خواتین کیلئے مختص کیا جاتا ہے‘ راولپنڈی کے ہولی فیملی سے لے کر بے نظیر بھٹو ہسپتال اور پشاور کے سرکاری لیڈی ریڈنگ ہسپتال تک بچوں کے اغوا ہونے اور مولود بچوں پر چوہوں کے حملہ آور ہونے کی خبریں تو کوئی نئی بات نہیں ہیں‘ ابو عمیر زاہد کے مطابق … یہ ہسپتال محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم او ر مسلمانوں کے صدقہ ‘ خیرات اور دیگر عطیات کے بل بوتے پر نہ صرف ڈیڑھ ملین کے لگ بھگ مریضوں کی مناسب فیس اور مستحق مریضوں کو مفت طبی سہولتیں فراہم کرچکا ہے بلکہ دیگر کئی شہروں میں بھی اس کی شاخیں پھیل رہی ہیں‘ انہوں نے بتایا کہ2006 ء میں سپیشلسٹ او پی ٹی اور آنکھوں کے علاج سے اس ہسپتال کا آغاز ہوا‘2007 ء میں زچہ بچہ سینٹر کا قیام عمل میں آیا‘2008 ء میں فارمیسی کا آغاز کیا گیا اور آٹھویں سال رازی لیب کا آغاز کیا گیا۔
اب ایک دفعہ پھر عوام کی مجبوریوں اور بے بسی کو سامنے رکھتے ہوئے خواتین کے لئے جنرل اور بریسٹ سرجری‘ نوزائیدہ بچوں کا آئی سی یو ‘ فزیو تھراپی اورڈ ائیلاسز سینٹرز کے علاوہ کارڈیالوجی‘فزیوالوجی اور پلمونالوجی‘ نیپروالوجی کا اضافہ کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے‘ سچی بات ہے کہ وہ ادارے اور لوگ روشن ستاروں کی مانند ہیں کہ جو اس پرآشوب دور میں بھی کسی بھی سطح پر عوام کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں‘ ویسے تو ہر دور میں عوام کی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ ہی ہوا لیکن کپتان کی حکومت کا موجودہ دور عوام کے لئے مشکلات کا سونامی ثابت ہوا۔
حکومت نے مہنگائی میں اس حد تک اضافہ کر دیا ہے کہ عوام سے کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کی سکت ختم ہوتی جارہی ہے‘ جو عوام اشیاء خوردونوش کی طاقت سے محروم ہوتے جارہے ہیں وہ اپنے علاج معالجے اور دوا دارو پر کیسے توجہ دے سکیں گے ؟ (وما توفیقی الا باللہ)

 

تازہ ترین خبریں