09:50 am
پاکستان میں امریکہ نئے فوجی اڈے؟

پاکستان میں امریکہ نئے فوجی اڈے؟

09:50 am

٭گلگت میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کا بڑا گروہ پکڑا گیا۔ تفصیل خبروں کے صفحہ میں درج ہے۔ مجھے اس خبر سے اطمینان ہوا مگر حیرت نہیں ہوئی! سانپ اور بچھو کی فطرت میں ڈنک مارنا ضروری ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ اپنے ہی ملک کے خلاف برسرکار یہ سارے بدبخت لوگ پاکستان کے ہی باشندے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر ملک کے انٹیلی جنس ادارے اپنے ملک کی حفاظت کے ساتھ سرحد پار اپنے دوست ممالک کے اندر بھی مختلف سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ بھارت سے آپ بھلائی کی کیا توقع کر سکتے ہیں؟ اس نے بلوچستان میں اودھم مچایا ہوا ہے۔ بھارتی وزیراعظم واضح الفاظ میں بلوچستان کو ہدف قرار دے چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ کہ ہمیں تین اطراف ایران، بھارت اور افغانستان کی کھلی پاکستان دشمنی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک پر ایران سے کسی قسم کے کاروبار پر پابندی لگائی ہوئی ہے مگر بھارت کو ایرانی چاہ بہار بندرگاہ کے استعمال کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ بھارت اس بندرگاہ کے ذریعے ایران کے ساتھ ہر قسم کا کاروبار کر رہا ہے۔ بھارت تیل کادو تہائی سے زیادہ حصہ ایران سے درآمد کرتا ہے، یہ تو کاروباری بات ہے، اسی بندرگاہ سے افغانستان کی سرحد کے ساتھ بھارت نے وسطی ایشیائی ممالک تک بڑی شاہراہ بھی تعمیر کر رکھی ہے۔ اسی سڑک کے ذریعے چین سے ملحق ملک تاجکستان میں بھارتی فوجی چھائونی کو فوجی دستے اور اسلحہ بھی بھجوایا جاتا ہے۔ ایران نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ بھارت اس کے تیل کی دنیا بھر میں سب سے بڑی منڈی ہے، وہ اسے کیسے ناراض کر سکتا ہے؟ ایران نے اپنا خاص قسم کا انقلاب لبنان، شام، یمن اور عراق تک پھیلا لیا ہے۔ پاکستان میں وہ یہ انقلاب پھیلانے میں کامیاب نہیںہو سکا، وہ پاکستان ایران بھائی بھائی کے نعرے لگاتا رہتا ہے اور وقفہ وقفہ سے پاکستان کے اندر حملے بھی کرتا رہتا ہے۔
 
٭میں کچھ عرصہ سے ایران ہی کے حوالے سے امریکہ کے کچھ خاص عزائم کے بارے میں غیر ملکی میڈیا کے تجزیے دیکھ رہا ہوں۔ اس وقت ایران اور امریکہ حالت جنگ والی حالت سے دوچار ہیں۔ ایرانی سمندروں میں امریکہ کا جنگی بیڑا پہنچ چکا ہے۔ اس میں ایک طیارہ بردار جہاز اور متعدد دوسرے جہاز شامل ہیں جو بھاری تعداد میں جدید ترین تباہ کن ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ جنگ شروع ہونے پر بلکہ اس سے پہلے بھی سمندر کے علاوہ امریکہ کو ایران پر حملو ںکے لئے اس کے ساتھ ملحق پاکستان کی سرزمین درکار ہے۔ اس نے روس کے خلاف افغانستان میں جنگ کے لئے بلوچستان اور سندھ میں جیکب آباد میں بڑے بڑے فوجی اڈے بنائے تھے۔ عالم یہ تھا کہ ان فوجی اڈوں کی حفاظت پاکستان کی پولیس اور فوج کو کرنا پڑتی تھی۔ اب پھر ایسی ہی صورت حال پیدا ہونے والی ہے بلکہ ہو چکی ہے۔ امریکہ کو پاکستان میں اڈوں کی ضرورت ناگزیر شکل اختیار کر رہی ہے۔ 9/11 کے دن امریکہ سے آنے والی ایک فون کال پر جنرل پرویز مشرف امریکہ کے قدموں پر گر گیا تھا۔ امریکہ نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع افغان شہر’ تورا بورا‘ کو گولہ باری سے تباہ کر دیا تھا۔ اس موقع پر جنرل پرویز مشرف کے بڑبولے وزیراطلاعات شیخ رشید نے بیان دیا تھا کہ ہم امریکہ کا ہم ساتھ دینے کا حکم نہ مانتے تو اس نے ہمارا بھی تورا بورا اور آملیٹ بنا دینا تھا! یہ صاحب آج بھی ملک کی کابینہ میں موجود ہیں۔ امریکہ ایران کے خلاف پاکستان میں اڈے قائم کرنا چاہے تو کہیں سے ترجمان ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑے گی! تورا بورا اور آملیٹ کی اصطلاحیں پھر کام دے سکتی ہیں۔ کچھ حضرات میری ان باتوں کو ضرورت سے زیادہ سنجیدہ قرار دے سکتے ہیں مگر یہ تجزیہ میں نے محض کوئی ہوائی اڑانے کے لئے ہی نہیں کیا! میں واقعی بہت سنجیدہ ہوں۔
٭بنگلہ دیش مکمل طور پر بھارت کے کنٹرول میں جا چکا ہے۔ اس کی تمام مارکیٹیں بھارتی تاجروں کے ہاتھوں میں اور بھارتی مصنوعات سے بھری ہوئی ہیں۔ پاکستان کے خلاف اس کا ذہن کبھی صاف نہیں ہوا۔ اس کی طرف سے پاکستانیو ںکو ویزے دینے پر پابندی کوئی غیر معمولی بات نہیں اس سے کیا فرق پڑے گا؟ چند کاروباری افراد کے سوا کتنے لوگ بنگلہ دیش جاتے ہیں؟
٭قارئین کرام: آپ نے کبھی خواتین کی لڑائی دیکھی ہے؟ بہت دلچسپ ہوتی ہے۔ خواتین بہت نچلے طبقے سے ہوں یا بہت اوپر والے طبقوں سے، لڑائی کا انداز مختلف مگر بیانیہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ ایسے ایسے محاورے، حسب نسب کے بارے میں نئے نئے انکشافات! سننے والے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ مجھے بہت عرصہ پہلے نارووال کی ایک بستی میں چند ایک بار دانے بھوننے والی بھٹیارنوں اور میراثنوں کی نہائت ’معلومات افزا‘ لڑائیاں دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ ایک گلی میں سے گزر رہا تھا۔ اس میں آمنے سامنے دو گھروںکے دروازوںمیں اپنے اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھڑی میراثنیں ہاتھ اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے کا خاندانی شجرہ نسب بیان کر رہی تھیں۔ دونوں طرف کچھ لوگ کھڑے یہ انکشافات سن کر خوش ہو رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر آمنے سامنے دونوں ’’داستان گو‘‘ زبانیں چپ ہو گئیں، میں گزر گیا تو پھر شروع ہو گئیں۔ یہ تو خیر چھوٹی سطح کی لڑائی تھی۔ آج کل اسمبلیوں کی سطح پر کچھ خواتین گھر سے لڑائی کے لئے تیار ہو کر آتی ہیں۔ اسمبلی میں ایک دوسری کو سیاست کے نادر اصول سمجھاتی ہیں۔ ایوان میں موقع نہ ملے تو باہر سیڑھیوں پر شاعری شروع ہو جاتی ہے۔ میں مختصر طور پر پیر 20 مئی کو خواتین کی کچھ ’خوش گفتاری‘ پیش کر رہا ہوں۔ ’’…عمران خان کٹھ پتلی وزیراعظم ہے، میں نہیں مانتی ووٹ کو عزت دو: مریم نواز‘‘ …’’ان لوگوں کا مسئلہ ووٹ نہیں نوٹ ہے۔ بے چاروں کا ایک ہی مطالبہ ہے، ’ہمیں جانے دو‘ فردوس عاشق اعوان‘‘…’’تم اپنے ٹِسوے (جھوٹے آنسو) سنبھال کر رکھو، کسی وقت کام آئیں گے۔ ’’نفیسہ شاہ پیپلزپارٹی‘‘
٭کالم کا زیادہ حصہ خواتین کی ’خوش کلامیوں‘ کی نذر ہو گیا۔ دوسری باتیں رہ گئیں۔ ایک قاری نے مشورہ دیا ہے کہ کرکٹ میں انگلینڈ کو ہرانا ہے تو سرفراز احمد کو انگلینڈ کی ٹیم کا کپتان بنا دیا جائے۔ ایک صاحب کی تجویز ہے کہ پاکستان کے موجودہ بائولروں کے ساتھ بائولنگ کے لئے ایک تجربہ کار بائولر بھی ہونا چاہئے۔
٭مولانا فضل الرحمان پھر مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ انہیں رنج ہے کہ اپوزیشن کی دوسری پارٹیاں عمران خان کی حکومت کو فوری طور پر اسلام آباد سے نکالنے کے لئے ان کا ساتھ کیوں نہیں دے رہیں؟ جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ وہ اپنی تحریک الگ چلائے گی۔ ن لیگ کی قیادت کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت کو گرانا نہیں چاہتی، ملک کے حالات اجازت نہیں دے رہے، اور یہ کہ کل پاکستان پارٹیز کانفرنس کے لئے پارٹی کی قیادت کی مشاورت کے ساتھ کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کو نیب اور احتساب عدالتوں میں حاضریوں اور پیشیوں سے ہی فرصت نہیں مل رہی،اس کے لئے فوری طور پرکوئی تحریک چلانا بہت مشکل ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں ہی نیب یا احتساب عدالتوں کی کوئی ایسی بڑی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں بکتر بند گاڑیوں کاذکر آنے لگے! پھر کیسی کانفرنس اور کہاں کی تحریک؟ مولانا کھلے انداز میں ن لیگ پر برس پڑے ہیں کہ وہ اسلام آباد پر فوری حملے میں ساتھ کیوں نہیں دے رہی؟ تھڑا سیاست دان نے ایک سوال پوچھا ہے کہ کیا عمران خان کی حکومت جانے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی حکومت آ سکتی ہے؟ محترم قارئین بتائیں، کیا جواب دوں؟
٭کوئی سیاست دان غلط محاورہ استعمال کرے تو دکھ ہوتا ہے۔ ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اناڑی کے ہاتھ میں استرا آ گیا ہے، معیشت تو کٹے گی۔ احسن اقبال صاحب صحیح محاورہ اناڑی کے ہاتھ میں نہیں، ’بندر کے ہاتھ میں استرا‘ کا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں