07:51 am
بھارتی حیوانیت اور شیطانیت 

بھارتی حیوانیت اور شیطانیت 

07:51 am

  مقبوضہ جموں وکشمیر میں ماہ رمضان میں بھی قابض بھارتی فوجی حیوانیت اور شیطانیت کا بھیانک کھیل کھیل رہے ہیں ۔ آج کشمیر میں انسانیت کا جنازہ اُٹھایا جارہا ہے ۔ سوال یہ کہ کیا ، فوجی وردی میں  قابض بھارتیوں کی حیوانیت کم ہوگی ، مقدس مہینے میں نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کی اس حیوانیت کے بعد ؟ کیا ان شیطانوں کی شیطانیت کم ہوگی ،  عاصمہ اور ایمن زہرہ جیسی بچیوں کے خلاف ان کی شیطانیت کے بعد ؟شائد جہنم کی بدنصیبی کی بھی انتہا ہے کہ اسے ایسے گھٹیا اور کمینے درندوں کو بھی جگہ دینا ہوگی ۔ اس درندگی کے بعد!
 
ماہ رمضان کشمیریوں کے یقین محکم اور صبرواستقامت کے امتحان  کے ساتھ ساتھ جدوجہد آزادی کی کامیابی کا سبب بھی بن رہا ہے ۔ان کشمیریوں پر بھی جو ابھی تک بھارتی سیکولرزم کے پروردہ  تھے ان پر واضح ہوچکاہے کہ بھارت حقیقت میں ہندوتوا کے گھناونا چہرہ ہے ۔ جو کسی بھی دوسرے مذہب کو برداشت کرنے کو تیا رنہیں ۔اسی لئے محبوبہ مفتی جیسی بھارت نواز کو بھی بھارتی اقدامات پر کہنا  پڑا کہ انہیں یہاں بھارتی ترنگا اٹھانے کیلئے بھی کوئی نہیں ملے گا۔ 
       بھارتی کشمیریوں کی کامیابیوں سے ا س قدر خوفزدہ اور بدحواس ہوچکے ہیں کہ ۔ وہ ،انسانیت اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ،شائد ان کی ادارہ جاتی تربیت ہی انسانیت کی تذلیل ہے‘  قابض بھارتیوں نے کشمیری نوجوانوں کو لوٹنے اور ان کا قتل عام کرنے کا کام تیز کردیا ہے ۔ پہلے بھارتی  اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار پاکستانیوں کو قرار دیتے ،نہتے کشمیریوں کو شہید کرکے پاکستانی قرار دیتے ۔
اب جب واضح ہوچکا ہے تحریک آزادی کشمیر مکمل طور پر کشمیری نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ۔ بھارتی فوجی، سحری اور افطاری کے اوقات میں چادر اور چار دیواری کاتقدس پامال کرتے ہوئے کشمیریوں کے گھروں میں گھس جاتے ہیں ۔ نوجوانوں کو اغوا کرکے شہید کردیا جاتا ہے اور بعد میں انہیں حریت پسند قرار دیتے ہیں ۔ پلوامہ ان کا خاص نشانہ ہے ۔ 16مئی کو انہوں نے چند نوجوانوں کو گھروں سے اغواکیا اور حسب سابق جعلی مقابلے میں شہید کردیا ۔ ان میں۔محمد خالد ، نصیر پنڈت کا تعلق پلوامہ ، عمر میر شوپیاں ،اور رئیس احمد ڈار شامل ہیں ۔جبکہ اس کا بھائی شدید زخمی ہے ۔
 رمضان میں کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس دن کوئی نہ کوئی نوجوان شہید نہ کیا جارہا ہو۔  ان کے ساتھ ساتھ لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے ۔22سال کا احمد شاہ اے ٹی ایم سے پیسے لیکر  واپس آرہا تھا کہ CRPFکے لوگوں نے اس سے پیسے چھینے اور گولی مار کر شہید کردیا ۔
 شاکرہ بہن ،ریاض احمد شاہ شہید چھٹابل،  مقبوضہ جموں وکشمیر  کا کہنا ہے کہ  ریاستی دہشت گردی اورحیوانیت کے بعد بھارتیوں نے کشمیریوں کی عفت ماآب خواتین کے ساتھ ساتھ ننھے بچوں اور بچیوں کو بھی اجتماعی زیادتیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ بنیادی طور پر وہ خواتین کی عصمت دری کو جنگی حربے کے طورپر استعمال کررہے ہیں ۔ جس طرح جموں میں چھ سالہ  ننھی عاصمہ کے ساتھ پولیس اور خفیہ کے اہلکاروں کی مندر میں اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد ان کے  ایک ایجنٹ طاہر احمد میر نے تین سالہ ایمن زہرہ سے زیادتی کی ۔ جس کا مقصد مذہبی منافرت پھیلانا  تھا  جس طرح عاصمہ کیس میں اپنے ایجنٹوں کو تحفظ دینے کیلئے تفتیشی اداروں اور کٹھ پتلی ججوں کے  کے ذریعے تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں اسی طرح ایمن زہرہ سے زیادتی کے 27سالہ  مجرم کو 13 سالہ بتاکر تحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ 
معصوم تین سالہ ایمن زہرہ ، مقبوضہ جموں وکشمیر کی رشتہ دار خاتون کہتی ہیں کہ   بھارتی نام نہاد طاقت کے نشے میں چور سترسالہ ریاستی دہشتگردی ،ریاستی کٹھ پتلیوں اور آٹھ لاکھ سے  زائد فوجیوں کی موجودگی کے باوجود شکست کا منہ دیکھ رہے ہیں ۔ مظلوم کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کے کے خلاف بین الاقوامی طورپر ممنوع اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے ۔گھروں ِ،کاروبار کی تباہی ،مذہبی معاملات میں مداخلت معمول بن چکاہے ۔قابض فوج حیوانیت اور شیطانیت کی  انتہا کررہی ہے ۔جبکہ کشمیری قوم یقین محکم اور صبر واستقامت سے آزادی کی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔ 

تازہ ترین خبریں