07:52 am
سندھ پولیس کوایک بار پھر سیاسی بنانے کی کوشش 

سندھ پولیس کوایک بار پھر سیاسی بنانے کی کوشش 

07:52 am

سندھ میں پولیس 1861 ء کے ایکٹ کے تحت کام کرے یا پولیس آرڈر 2002 ء نافذ کردیا جائے پیپلز پارٹی کی حکومت اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے اور اسی کے ذریعے اپنے جرائم کو تحفظ بھی دیا گیا (اسی دوران کچھ عرصے کے لیے ایم کیو ایم بھی کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور سکھر میں اس کا  حصہ رہی) ۔کانسٹیبل سے ڈی ایس پی تک سیاسی کارکنان ، اراکین پارلیمنٹ کے عزیز رشتے داروں اور سیاسی تعلقات رکھنے والوں کو بھرتی کیا گیا۔ ضلعی پولیس کے سربراہان کا انتخاب وڈیرہ شاہی کے ہاتھ میں رہا جو اپنی کسی بھی مخالفت کو کچلنے کے لیے اپنے من پسند افسران کا انتخاب کرتے ہیں۔ 
 
  روزانہ قتل، بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے ، دہشت گردی اور دیگر جرائم کی وارداتوں کے باعث کراچی دنیا کا چھٹا خطرناک ترین شہر قرار پایا۔2016ء میں سول سوسائٹی نے پولیس میں سیاسی مداخلت کے خلاف آئینی درخواست D-7097دائر کی۔  7ستمبر  2017ء کو سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کی انتظامی سطح پر خود مختاری کے حق میں فیصلہ دیا اور اس کے انتظامی  فیصلوں میں وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کی سیاسی مداخلت کے خاتمے کی ہدایت بھی جاری کی۔ یہ فیصلہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے پریشان کُن تھا اور اس نے محکمہ پولیس کو اپنا ذاتی فرمانبردار بنانے کے لیے دوبارہ تگ و دو شروع کردی ہے۔ اسی لیے یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ پی پی  اعلیٰ عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کرکے پولیس آرڈر کی بحالی کے لیے شد و مد کے ساتھ مصروف ہے اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ 
سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں محکمے کی مجموعی صورت حال کو بہتر کرنے  اور  محکمہ پولیس کو انتظامی فیصلہ سازی میں خود مختاری اورآزادی کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے آئی جی کو تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار دیا گیا(ظاہر ہے کہ یہ اختیارات یہیں تک محدود نہیں)۔ یہ بھی تنبیہ کی گئی کہ کسی بھی وزیر مشیر یا سرکاری عہدے دار کی جانب سے پولیس کے فیصلوں میں مداخلت ختم ہونی چاہیے۔ سینئر پولیس افسران کی تقرری‘تعیناتی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی کو تیس دنوں کے اندر واضح ، شفاف اور قابل عمل ضوابط کا خاکہ تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ محکمے میں ہر سطح (جس میں صوبے میں خدمات انجام دینے والے پی ایس پی افسران بھی شامل ہیں) کی  تقرریوں اور تبادلے سے متعلق اصول متعین ہوں۔ اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ سپریم کورٹ کے انیتا تراب کیس فیصلے میں اس سے متعلق جو بنیادی اصول وضع کردیے گئے تھے ان پر  عمل درآمد کروایا جائے۔
آئی جی نے قواعد کی منظوری کے لیے مسودہ حکومت سندھ کو ارسال کردیا۔ حکومتِ سندھ گزشتہ 18ماہ سے ان مجوزہ ضوابط کی منظوری میں تاخیر کررہی ہے۔  اس فیصلے پر حکومت سندھ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے اپیل  مسترد کردی اور صوبائی حکومت کو ہائیکورٹ کے فیصلے میں دی گئی ہدایات کے مطابق اور جدید ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے قوانین بنانے کا کہا گیا تھا۔ اپنے مختصر حکم نامے میں سپریم کورٹ نے بالخصوص محکمہ پولیس کو پولیس ایکٹ 1861کے تحت آزادانہ فرائض انجام دینے سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق کی۔ اس فیصلے پر حکومتِ سندھ کی اپیل تاحال زیر التوا ہے۔ عدالت عالیہ کے فیصلے کی تعمیل میں آئی جی پولیس کے تیار کردہ ضوابط کے مسودے کی منظوری دینے سے دامن بچانے کے لیے صوبائی حکومت نے پولیس آرڈر 2002ء کی بحالی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد اعلیٰ پولیس افسران کی تقرری اور تبادلے کے اختیارات وزیر اعلٰی کے پاس چلے جائیں گے۔ 
سیاسی اثر و رسوخ ختم کرنے سے سندھ پولیس میں واضح بہتری آئی، مختصر مدت میں کراچی دنیا کے خطرناک شہروں کی درجہ بندی میں چھٹے سے 70ویں پر آگیا۔ 2013ء کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں میں 70فیصد کمی آئی۔ پولیس فورس کے نظم و ضبط اور داخلی جوابدہی میں بہتری آئی اور افسران نے سیاسی شخصیات کے بجائے اپنے حکام سے ہدایات لینا شروع کردیں۔ اعلیٰ عدالتی فیصلوں کے بعد سندھ میں بڑے جرائم کی شرح میں واضح کمی ہوئی اور کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں بھی بڑی واضح کمی دیکھنے  میں آئی۔ 
محکمے کا انفرااسٹرکچر اور کلچر بہتر بنانے کے لیے پولیس اور عوام کے حق میں یہ اقدامات کیے گئے1) ہر رینج اور ضلعے کی سطح پر پولیس کا امیج بہتر بنانے کے لیے سہولت مراکز قائم کیے گئے(2) خصوصی برانچ میں اصلاحات، جن میں ڈیٹا سینٹر کا قیام ، بی ڈی یو اور کینن یونٹ کو اپ گریڈ کیا گیا(3) سندھ پولیس نے دو قومی سطح کی ورکشاپس کا اہتمام کیا(4) دورِ حاضر میں پولیسنگ اور مستقبل سے متعلق اسٹریٹجک ورکشاپ کا اہتمام (5) اسپیشل برانچ کے تحت ’’انٹیلی جینس بیسڈ پولیسنگ‘‘ (چیلنج اور امکانات) کے موضوع پر ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں مسائل و ممکنہ حل زیر بحث آئے۔
 پولیس کی افردی قوت میں بہتری لائی گئی(الف) 26639کانسٹبل کی شفاف بھرتیاں (ب)اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کا قیام (جس میں سابق فوجی اہلکاروں کو بھرتی کیا گیا)(ج) طویل عرصے سے زیر التوا ترقیوں میں 288انسپیکٹرز کو ڈی ایس پی بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اسکول آ ف انٹیلی جینس اینڈ انویسٹی گیشن ، اسکول آف ٹیلی کمیونیکیشن کا قیام۔ ایڈیشنل آئی جی پی ٹریفک اور ایڈشنل آئی جی سندھ کے اختیارات کو آئی جی پی حیدرآباد اور سکھر کے مناصب میں تقسیم کردیا گیا۔ پولیس اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، سکھر میں نئے پولیس اسپتال کا قیام، اور تفتیش کے لیے بجٹ میں رقم مختص کرنے والے اقدمات پائپ لائن میں ہیں۔  چینی قونصل خانے پر حملے کے سوا اس عرصے میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا، محرم کے جلوسوں سے لے کر پی ایس ایل تک تمام اہم مواقع پر پولیس نے پیشہ ورانہ انداز میں ان کا پُرامن انعقاد ممکن بنایا۔ہائی وے قدرے محفوظ ہوگئے اور ان پر اغوا کی وارداتوں پر قابو پالیا گیا۔ امن و امان کے اعتبار سے کراچی ایک کاروبار پرور شہر بن گیا۔ اس صورت میں محکمے کو دوبارہ سیاسی اختیار میں دینا ایک ہولناک غلطی ہوگئی صوبے کے عوام(اور اس کی معیشت) اس کی متحمل نہیں ہوسکتے۔ 
 پولیس ایک منظم ادارہ ہے اور اس کی بہتر کارکردگی کے لیے یونٹی آف کمانڈ ناگزیر ہے۔ ایک غیر جانب دار، پیشہ ور اور غیر سیاسی پولیس صوبے کے عوام کا حق ہے۔ سول سوسائٹی کی طویل جدوجہد اور طویل عرصے سے درکار عدالتی مداخلت کے بعد ہی پولیس میں وہ اصلاحات ممکن ہوئیں جن کے نتیجے میں موجودہ بہتر نتائج برآمد ہوئے۔ ایک بار پھر ایک مفادپرستی کی فتح ہوتی ہے اور شاطرانہ قانون سازی کے ذریعے اعلیٰ عدالتی فیصلوں کو غیر مؤثر بنا کر مخصوص طبقہ پولیس کو قابو کرنے میں کام یاب ہوتا ہے تو یہ صوبے میں قانون کی حکمرانی کی لگن سے کام کرنے والے شہریوں کے لیے بہت بڑی بدشگونی ہوگی۔حکومتی اداروں کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ کیا ہم دوبارہ کراچی اور سندھ کو اس درد ناک ماضی کی جانب لے جانا چاہیں گے جب قانون کے نام پر مجرموں کو تحفظ حاصل رہا؟ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

 

تازہ ترین خبریں