08:03 am
کون جانے کل کیا ہونے والا ہے ؟

کون جانے کل کیا ہونے والا ہے ؟

08:03 am

پاکستان پر ذوالفقارعلی بھٹو کی حکمرانی تھی۔ عین عید کے دن صبح سویرے ایرانی شہنشاہ رضاشاہ پہلوی کا شاہی طیارے  نے لاڑکانہ ائیر پورٹ پر زندگی میں پہلی اور آخری بارلینڈ کیاتھا۔ اس وقت کی تمام نوکرشاہی وزراء خود بھٹو ‘  شاہ کی آمد کی پیشگی اطلاع سے بے خبر تھے ۔لاڑکانہ توخیر لاڑکانہ پورے ملک میں ہلچل مچ گئی تھی کچھ کاخیال تھا  کہ شہنشاہ ایران بھٹو  سے عید ملنے تشریف لائے ہیں کیونکہ شہنشاہ ایران اسی روزگھنٹہ دوگھنٹے ملاقات کے بعد واپس ایران پرواز کرگئے تھے۔
 
 اصل بات توچند دن بعد منظر عام پرآئی جب بلوچستان کے حکمران غوث بخش بزنجو نے استعفیٰ دیا کیونکہ عید سے چند ہفتہ قبل ایک بہت بڑی خوشخبری قوم کوسنائی گئی تھی کہ بلوچستان میں خضدار کے مقام پر او جی ڈی سی کا ادارہ جوتیل کی تلاش کررہاتھااس نے تقریباً دس کنوئیں کھودے  تھے جن میں سے تین کنوئوں میں اسے بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اس وقت کے چشم دید گواہوں کے مطابق ان کنوئوں سے تیل اتنے شدیددبائوسے نکلناشروع ہواتھا کہ بغیر کسی مشین کے تیل کی دھار پچیس سے تیس فٹ بلند نکل رہی تھی جسے شہنشاہ ایران کی خواہش پر نہ صرف فوری طور پر بند کردیاگیا اورجن کنوئوں سے تیل نکل آیاتھا انہیں بھی بارود  لگا کربندکردیا گیا۔ اس پر بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔ غوث بخش بزنجو نے احتجاجاً استعفیٰ دیا اور حکومت سے علیحدگی  اختیار کرلی تھی ۔
عطااللہ مینگل پہاڑوں پرچڑھ کرمورچہ بند ہوگئے تھے لیکن سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹرذوالفقار علی بھٹو  نے ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے فوج کشی کردی، تب کے بگڑے حالات آج تک درست نہیں ہوسکے ۔
آج جبکہ پاکستان میں متعدد جگہوں سے تیل گیس کے ذخائر دستیاب ہوچکے ہیں۔ سندھ بلوچستان خیبرپختون خواہ میںکئی جگہ تیل وگیس کے ذخائر دریافت ہوچکنے کے باوجود وہ ملکی ضرورت کے کام اس لے نہیں آرہے کیونکہ اسے صاف کرنے قابل استعمال بنانے کے لئے ریفائنری نہیں ہے۔ سارا خام تیل بیرون ملک چلاجاتاہے اور ہم اپنی ضرورت کیلئے اپنے ہی دیئے ہوئے تیل کو واپس خریدنے پرمجبور ہیں  ۔
 ہمارے تیل پربھی امریکہ، عراق ،کویت، سعودی عرب کے تیل کی طرح قابض ہونے کے لیے تیاری کررہاہے۔ وہ اب ایران اور پاکستان کے تیل کے ذخائر پر نظرلگائے ہوئے ہے۔ ایران سے تو اس کی دشمنی چل رہی ہے۔دونوں طرف گرماگرمی ہے۔ صرف زبانی کلامی نہیں ۔حقیقت میں امریکی فوجی بیڑے ایرانی سرحدوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کاخیال ہے امریکہ ایک تیر سے دوشکار کرناچاہ رہاہے ۔گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب میں اعلان کیا تھا کہ بہت جلد عوام کو ایک بہت اہم اور بڑی خوش خبری ایک ہفتہ میں سنائوں گا۔وہ بتاتے بتاتے رہ گے تھے ۔دراصل وہ خوش خبری تھی ،سمندر سے تیل اور گیس کے بہت بڑے ذخیرہ ملنے کی! لیکن پھراچانک رخ ہی بدل گیا اور شدید مایوس کن خبرسنائی گی کہ منصوبہ ناکام ہوگیا  ہے اورکچھ دریافت نہیں ہوا۔کھدائی پرخرچ ہونے والے ڈالر ڈوب گئے۔
کہنے والوں کاکہناہے کہ کیکڑا2کامنصوبہ تو کامیاب ہوگیا ہے لیکن ایسا محسوس ہورہاہے کہ کیکڑادوپر کام کرنیوالی کمپنی چونکہ امریکہ سے تعلق رکھتی ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ تیل وگیس کے بڑے ذخیرے کی دریافت کی خبر کی رپورٹ کسی نے امریکیوں کودے دی ہو ۔پاکستان سے امریکہ پہلے ہی چین سے تعلق قائم ہونے اور سی پیک کی وجہ سے ناراض ناراض چل رہاہے۔ اب تیل کی نئی دریافت نے اس کی طبیعت مزید کبیدہ خاطر کردی ہو۔وہ ویسے ہی پاکستان پرچین سے دوستی کے باعث بھی بہت  غصہ میں ہے بپھرا ہوا ہے اور اس نے اپنی منصوبہ بندی کی تکمیل کیلے سی آئی اے کے ذریعے پہلے پاکستان کواقتصادی معاشی طور پر مشکل میں مبتلاکیا ،پھر آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان کومزید جھکنے پرمجبور کیا۔ہرروز نت نئی  شرائط عائد کی جارہی ہیں۔ ابھی تو مذاکرات کادور چل رہاہے۔
امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کی کمپنی آئی ایم ایف پاکستان پراپنی حکمرانی قائم کرنے کیلئے اپنا وزیر خزانہ اور گونر اسٹیٹ بنک لگواچکی ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ گورنراسٹیٹ بنک ایک ایسے امریکی کولگایاگیاہے جوپاکستان کاشہری بھی نہیں ہے۔اس سے پہلے کبھی پاکستان آیا بھی نہیں۔ زبردستی اسے قومی شناختی کارڈ دیکر پاکستانی بنادیاگیاہے۔ غالباً یہ بھی آئی ایم ایف کی شرط پرکیاگیا ہوگاتاکہ کہن یوالوں کی زبان بند رکھی جاسکے۔
   وزیراعظم پاکستان عمران خان عجیب مخمصے میں پھنس رہے ہیں نہ ان سے چھوڑتے بن رہی ہے نہ رہتے بن رہی ہے۔ حکومت بتدریج ان کے گلے کاپھندہ بنتی جارہی ہے ۔دراصل خان صاحب کے اردگرد سب کے سب ایک سے بڑھ کرایک کاریگر جمع کردیاگیاہے۔اکیلے عمران خان کیاکیا کرسکتے ہیں ۔ان کے انتخابی وعدے دعوے سب الٹ کررہ گئے ہیں۔ ان کے دوست احباب انہیں ڈبونے پرکمربستہ نظر آتے ہیں۔ وہ اکیلے کس کس محاذپرلڑسکتے ہیں۔ وہ بھی کب تک اب حکومت کے ایک طرف حزب اختلاف ہے تو دوسری طرف بین الاقوامی بازی گرقوتیں ہیں جو پاکستان کواس کی جوہری طاقت کے باعث کسی طرح برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
  دنیاکی سب سے بڑی معاشی اقتصادی قوت یہودی قوم کے ہاتوں میں ہے۔ امریکہ جیسی سپر پاور کوبھی یہودی لابی اپنے زیر اثر رکھے ہوئے ہے۔کل کیاہونے والا ہے۔یہ اللہ کوہی خبر ہے۔ اللہ پاکستان کی اس کی عوام کی حفاظت کرے۔ آمین!

 

تازہ ترین خبریں