08:04 am
معصوم بچی فرشتہ مہمند شہید کے مجرم؟

معصوم بچی فرشتہ مہمند شہید کے مجرم؟

08:04 am

بیٹی‘ بیٹی ہوتی ہے وہ کسی پنجابی کی ہو یا پختون کی‘ مظلوم بیٹیوں کو لسانی تعصبات کی بھینٹ چڑھانے کی کوئی بھی کوشش انسان دشمنی کے زمرے میں آئے گی‘15مئی کو تھانہ شہزاد ٹائون کی حدود سے لاپتہ ہونے والی دس سالہ معصوم ’’فرشتہ‘‘ کا جنسی زیادتی کے بعد قتل اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ پاکستان کی گلیوں اور بازاروں میں جنسی درندے آوارہ کتوں کی طرح گھوم‘ پھر رہے ہیں لیکن ان درندوں کو پٹہ ڈالنے والا کوئی نہیں۔
 
قصور کی زینب ہو‘ راولپنڈی گرلز ہاسٹل میں اجتماعی درندگی کا نشانہ بننے والی طالبہ ہو یا مہمند ایجنسی کی اسلام آباد میں رہائش پذیر ’’فرشتہ مہمند‘‘ شہید یہ سب اس پاکستان کی بیٹیاں ہیں کہ جس پاکستان کو قائم کرنے کے لئے چودہ اگست1947ء کو برصغیر کے لاکھوں مسلمان مردوں‘ عورتوں اور بچوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے تھے۔
قصور کی معصوم بچی زینب کو جب درندگی کا نشانہ بنایا گیا تو اس خاکسار نے بار بار اپنے کالموں میں یہ بات لکھی تھی کہ معصوم بچوں‘ بچیوں اور عورتوں پر جنسی  حملے روکنا اگر انگریزی قانون کے بس میں ہوتا تو پھر یہ حملے ہوتے ہی کیوں؟ اس لئے لازم ہے کہ پاکستان میں اسلامی سزائوں کو نافذ کر دیا جائے۔
وقت اور حالات نے ثابت کر دیا کہ پارلیمنٹ ہو‘ عدلیہ ہو یا عورتوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتیوں کے خلاف بنائے جانے والے قوانین‘ چاہے وہ قوانین موم بتی مافیا کے دبائو پر بنائے گئے ہوں یا مغربی ممالک کے دبائو کے تحت وہ سب کے سب ’’فرشتہ‘‘ جیسی معصوم بیٹیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے...تو پھر ان جرائم  کے خلاف شرعی سزائوں کو نافذ کرتے ہوئے دل کیوں کانپتے ہیں؟ اس سے بڑی جہالت‘ کم ظرفی اور ناعاقبت اندیشی کیا ہوگی کہ ’’فرشتہ‘‘ جیسی مظلوم بیٹیوں کو ’’انسانیت‘‘ کے خانے سے نکال کر پنجابی اور پختون خانوں میں تقسیم کر دیا جائے؟
سورہ النور کی آیت نمبر19میں ارشاد خداوندی ہے۔ ترجمہ: ’’بے شک جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے‘ ان کے لئے دنیا اور آخرت میں ایک دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ زینب اور فرشتہ جیسی ہزاروں معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ ہونے والی درندگی کے واقعات پاکستان میں فحاشی‘ عریانی‘ مادر پدر آزادی اور سیکولر لادینیت کا شاخسانہ ہیں... ذرا تلاش کیجئے ان مکروہ چہروں کو کہ جن کے ڈالروں‘ کوششوں اور یہود و ہنود کی غلامانہ ذہنیت کی بدولت پاکستان میں فحاشی و عریانی کا کلچر پروان چڑھا؟دجالی میڈیا کو بے لگام کرنے والا رسواکن ڈکٹیٹر تو آج خدائی پکڑ میں آچکا ہے...بچیں گے دوسرے بھی نہیں‘ اس لئے کہ میرے پروردگار کے قانون سے ٹکڑانے والے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ ہو  جایا کرتے ہیں۔
پاکستان کا آئین پاکستان کے اندر ہر شعبہ زندگی میں اسلامی ماحول قائم کرنے کی ترغیب دیتا ہے‘ سوال یہ ہے کہ سورہ النور کی آیت نمبر19کی سمجھ الیکٹرانک چینلز سمیت پوری میڈیا انڈسٹری کے مالکان اور ذمہ داران کو کیوں نہیں ہے؟ ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ کیا مسلمان قوم  میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ملوث نہیں ہے؟ بھانڈ‘ میراثیوں‘ ڈانسروں اور گانے بجانے والوں کو ’’ستارے‘‘ قرار دیکر مسلمان نوجوانوں میں ہیرو بنانے کی کوششیں کرنا‘ جنسی جذبات بھڑکانے والی فلمیں‘ ڈرامے‘ موبائل‘ انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائی جانے والی بیہودگی میرا‘ جسم‘ میری مرضی‘ ’’ہم بچے پیدا نہیں کریں گی‘‘ ’’نکاح پر پابندی لگائو‘‘ جیسے واہیات کتبے اٹھا کر سڑکوں پر احتجاج کرنے والی موم بتی مافیا کے چیلے اور چیلیاں ‘یا یہ ساری کوششیں پاکستانی قوم کے جوانوں سے عزت‘ غیرت اور حیاء ختم کرنے کے لئے نہیں ہو رہیں؟
خوامخواہ کی ٹامک ٹوئیاں تو وہ مارے کہ جو عقل کا  اندھا اور دستور حیات کی بنیاد سے محروم بے اصل اور بے بنیاد ہو‘ ہمارے پاس تو آسمانی علوم کی شکل میں نہ صرف پروردگار کا قرآن‘ رسول رحمتﷺ کا فرمان‘ ریاست مدینہ میں نافذ کئے جانے والی شرعی قوانین کی مضبوط ترین بنیاد موجود ہے بلکہ ریاست مدینہ میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے بے پناہ ثمرات سے بھی ہم خوب اچھی طرح آگاہ ہیں‘ لیکن اس سب کے باوجود اگر ہمارے حکمران‘ سیاست دان‘ میڈیا اور بھاڑے کے لبرلز تہذیب و تمدن اور کلچر کے لئے ترسائی اور للچائی ہوئی نظروں سے یہود وہنود اور نصاریٰ کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ ثبوت ہے اس بات  کہ  انہیں پاکستان کی بیٹی زینب سے نہ کوئی غرض ہے اور نہ ہی ’’فرشتہ‘‘ سے کوئی واسطہ ۔
تھانہ شہزادء ٹائون کے جس ایس ایچ او نے معصوم فرشتہ شہید کے اغواء کا پرچہ درج کرنے میں جان  بوجھ کر تاخیر کی اور اس کے مظلوم والد کا مذاق اڑایا...اس نے کسی پختون کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی توہین کی... ایسے ظالم ایس ایچ او کو گرفتار کرکے سزا دینے کا خواب انگریز کے ظالمانہ اور بوسیدہ نظام میں  پورا نہیں ہوسکتا‘اس لئے یہ نظام ظالموں‘ جابروں‘ بد معا شو ں ‘ چوروں اور لٹیروں کو  تحفظ فراہم کرتا ہے‘ معصوم فرشتہ شہید کی بے حرمتی‘ بے رحمانہ قتل اور پولیس کے ظالمانہ سلوک کو بنیاد بنا کر ملک اور فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا بیٹیوں سے ہمدردی نہیں بلکہ ملک دشمنی کے زمرے میں آئے گا‘ پی ٹی ایم کے منظور پشین سمیت میری ہر پاکستانی سے التجا ہے کہ وہ یہ بات سمجھنے کی کوشش کرے کہ یہ ملک نعمت خداوندی ہے...لیکن اس ملک کو جرائم کی گندگی‘ بے حیائی‘ فحاشی‘ کرپشن اور وارلارڈز سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں کے نوجوان اسلام کے عادلانہ نظام اور شرعی سزائوں کے عملی نفاذ کیلئے ایک پرامن اور منظم جدوجہد کریں۔
جس ملک کے حکمرانوں کی سوچ کا یہ عالم ہو کہ وہ مدارس کے نصاب تعلیم کو بدلنے کی فکر میں تو دبلے ہوتے جارہے ہوں...لیکن پولیس کے ظالمانہ کلچر کو تبدیل کرنے میں ناکام ثابت ہو جائیں‘ اس ملک کی ’’فرشتہ‘‘ جیسی بیٹیوں کے تحفظ کے لئے پھر ہر غیرت مند بھائی اور باپ کو فحاشی و عریانی کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ (وما توفیقی الاباللہ)