08:06 am
کہانی ایک بچی،قاتلوں اور پولیس کی

کہانی ایک بچی،قاتلوں اور پولیس کی

08:06 am

٭اسلام آباد، کمسن مقتول بچی کا المیہ، پولیس نے چار روز مقدمہ درج نہ کیا!O آصف زرداری کا نئے انتخابات کا مطالبہO مریم نواز: پھر فوج کے خلاف بیانO شاہد خاقان عباسی: نیب کو جواب دینے سے انکارO نیب میں اہم شخصیات والی خصوصی حوالات کی صفائیO علووالی: تھل ایکسپریس پٹڑی سے اتر گئیO ڈالر 154 سے اوپرO پٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان O زرداری خاندان ضمانت کی رقم میں کمی کی درخواست، ’’پیسے نہیں ہیں‘‘ وکیل۔
 
٭اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹائون کے علاقہ میں مہمند ایجنسی کی 10 سالہ بچی ’فرشتہ‘ کے ساتھ انتہائی بہیمانہ، غیر انسانی واردات کے بارے میں تھانہ کی پولیس کا انتہائی ظالمانہ رویہ! بچی اغوا ہونے پر مقدمہ درج کرنے سے انکار! بچی کے والدین سارا دن تھانہ میں بیٹھے رہے، ان کے بچوں سے تھانہ کی صفائی کرائی گئی۔ تھانیدار محمد عباس مقدمہ درج کرنے کی بجائے بچی کے بارے میں انتہائی ظالمانہ ناقابل بیان طنزیہ الزامات لگاتا رہا۔پانچویں دن بچی کی جنگل میںلاش مل گئی تو مقدمہ درج کرنا پڑا۔ اس پر بستی میںہنگامہ ہو گیا۔ بچی فرشتہ کے ساتھ بھی اس طرح کی درندگی کا واقعہ پیش آیا جو قصور کی بچی زینب کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اس کیس کی تفصیل بیان کرنے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ معاشرے میں انسان کم اور وحشی درندے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔
 مختصر واقعات یوں ہیں کہ 10 سالہ بچی ’فرشتہ‘ 15 مئی کو 5 بجے شام غائب ہوئی۔ والدین نے 10 بجے تک ڈھونڈا۔ نہ مل سکی تو تھانہ شہزاد ٹائون میں رپورٹ لکھوانے چلے گئے۔ بدخصلت ایس ایچ او، سب انسپکٹر محمد عباس نے رپورٹ لکھنے کی بجائے دریدہ دہنی کی کہ بچی کہیں بھاگ گئی ہو گی! بچی کے والدین اگلے دن سارا دن تھانہ میںبیٹھے رہے۔ بدتمیز تھانیدار نے ان کے بچوں سے تھانہ کی صفائی کرائی اور والدین کا تمسخراڑاتا رہا۔ بچی کے گھر والے چار روز تک تھانے کا چکر لگاتے رہے، رپورٹ درج نہیں کی گئی نہ ہی کوئی تحقیقات کی گئیں۔ پانچویں دن نزدیکی جنگل میں بچی کی لاش مل گئی۔ اس کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا گیا تھا(تفصیل بیان کرنے کی تاب نہیں)۔ اس پر بستی میں کہرام مچ گیا۔ مظاہرے شروع ہو گئے، سڑک بند کر دی گئی۔ بد خصلت تھانیدار کو رپورٹ درج کرنا پڑی۔ مزید ظلم کہ بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال لے جائی گئی تو وہاں ڈاکٹر غائب تھا! بالآخر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ ناقابل بیان سلوک کی تصدیق کر دی گئی۔
یہاں تک تو درندگی کی اس واردات کے واقعات تھے۔ وحشی درندہ قاتل اور پولیس کا مجرمانہ سلوک اپنی جگہ مگر دوسری طرف ضلعی انتظامیہ میڈیا اور سیاسی بزرجمہروں کا رویہ بھی کچھ کم نہیں رہا۔ اس ہولناک واردات کی خبر عام ہوئی اور مظاہرے شروع ہوئے تو صدر، وزیراعظم، کوئی وزیر، اسلام آباد کا کمشنر، میئر، آئی جی، ڈی آئی جی، مقتول بچی کے گھر پر نہیں گیا۔ شرم ناک بات یہ کہ حکومتی اور اپوزیشن پارٹیوں کے کسی سیاست دان نے بھی اس واقعہ کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ 
کسی نے مقتول بچی کے لواحقین کا حال نہ پوچھا، انہیں پُرسا دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ قمرزمان کائرہ کے بیٹے کے دلدوز سانحہ پر ملک کی ہر سیاسی پارٹی کے رہنما اور ارکان جوق در جوق تعزیت کے لئے لالہ موسیٰ پہنچے۔ یہ اچھی بات تھی۔ مگر مقتولہ فرشتہ مہمند!
 صرف قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر مظاہرین کے پاس گئے، ان کا بھی تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ہیلی کاپٹر میںادھر ادھر گھو1متے رہے۔ سندھ، بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کو تعزیتی بیان جاری کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ اس رویے کا افسوسناک منطقی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھانے والے بعض خاص عناصر نے مہمند ایجنسی کا نام لے کر علاقائی تفریق کا منفی پراپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کی سیاست وغیرہ پر کتنی ہی نکتہ چینی کی جائے، مگر اِن کی ایک بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ملک بھر میں کہیں بھی ایسی غیر انسانی واردات ہوتی تھی تو وہ بطور وزیراعظم فوری طور پر موقع پر پہنچ جاتے تھے اور مظلوم لوگوں کی مکمل دادرسی کر کے واپس آتے تھے۔ اور یہاں؟ وزیراعظم تو ایک طرف وزیر داخلہ صوبائی وزیراعلیٰ، کسی وزیر، کسی سیاسی لیڈر نے غم زدہ خاندان کی دل جوئی گوارا نہیں کی! اس پر مخصوص عناصر علاقائی عصبیت کا اذیت ناک پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔اب تک مضحکہ خیز کارروائی یہ ہوئی کہ پولیس کی فرسودہ روایات کے مطابق کسی قسم کی حیا اورانسانیت سے عاری ایس ایچ او محمد عباس کو رسمی طور پر معطل کیا گیا ہے اور مشتعل مظاہرین کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کچھ ’ملزموں‘ کی گرفتاری کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ پولیس کا یہ پرانا حربہ ہے۔ یہ معطل شدہ سنگ دل تھانیدار حسب روائت چند روز کے بعد بحال ہو کر کسی دوسرے تھانے پر سوار ہوجائے گا۔ حراست میںلئے جانے والے جعلی ملزم اگر واقعی کوئی ہیں تو دانستہ طور پر بنائی ہوئی کمزور اور ناقص ایف آئی آر کی بناپر رہا یا ضمانت پرباہر آ جائیںگے۔کچھ عرصہ کے بعد یہ سارا کیس کسی الماری میں بند ہو جائے گا! کہاں گیا ساہیوال کا فائرنگ کیس؟ سانحہ ماڈل ٹائون! برسوں گزر جانے کے باوجود کیا بنا نقیب اللہ کے قتل میں ملوث ’بہادر بچے‘ کے خلاف پولیس کی کارروائی کا؟ اور کراچی کا ہی شاہ زیب قتل کیس! موت کی سزائیں ختم، کچھ عرصے کے بعد سارے مجرم باہر آ جائیں گے! فرشتہ مہمند بچی کے دردناک سانحہ نے پوری قوم کولرزا رہا ہے، غم زدہ کر دیا ہے۔ فرشتہ میری، آپ سب کی،پوری قوم کی معصوم بیٹی تھی۔ میں پوری قوم کی طرف سے فرشتہ بیٹی کے اہل خانہ کے ساتھ دلی دُکھ اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ انہیں یہ اذیت ناک سانحہ صبر وسکون کے ساتھ جھیلنے کی توفیق عطا فرمائے! اِنا للہ و انا الیہ راجعون!
٭قارئین کرام! آج سارا کالم مظلوم بچی کے ذکر پر ختم ہو رہا ہے۔ اس اذیت ناک واقعہ نے وجود کو لرزا دیا ہے۔ ایسے عالم میں کیا طوطا کہانیاں لکھی جائیں! صرف چند ایک باتیں کہ سپریم کورٹ نے توانائی کے ادارہ ’نیپرا‘ سے لوڈ شیڈنگ کے بارے میں رپورٹ طلب کی۔ نیپرا نے کوئی پروا نہیں کی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نیپرا نے کوئی جواب نہیں دیا!… نیب نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ایک سوال نامہ بھیجا۔ شاہد خاقان نے جواب دینا گوارا نہیں کیا، صرف یہ کہہ دیا کہ میں وزیراعظم رہا ہوں!… سندھ، ہائی کورٹ نے سابق ایس ایس پی محمد علی وسان کے کیس میں نیب سے رپورٹ مانگی۔ نیب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ چیف جسٹس برہم ہو گئے۔ (ممکن ہے سندھ نیب خود کو ہائی کورٹ سے بڑی چیز سمجھتی ہو!)… سندھ ہائی کورٹ میں صدر مملکت عارف علوی کی صدارتی عہدہ پر تقرری کے خلاف درخواست زیر سماعت ہے۔ ہائی کورٹ نے صدر مملکت سے وضاحت مانگی، کوئی جواب نہیں آیا۔ صدرکا عہدہ شائد کوئی آسمانی اہمیت رکھتا ہو گا! ملک، قانون، آئین سے ماورا کوئی بہت بڑی، ہمیشہ قائم رہنے والی چیز ہو گی! ہائی کورٹ کو جواب دینے سے ہتک ہوتی ہو گی! آئین کے مطابق صدر مملکت کو صدارتی مدت کے دوران صرف فوجداری مقدمات (قتل، اغوا، ڈاکہ  وغیرہ) میں جواب دہی سے استثنا حاصل ہے۔ دیوانی مقدمات اور دوسرے قانونی معاملات میںکوئی استثنا نہیں۔ ہائی کورٹ کے مراسلے کو نظر اندازکرنا صریح توہین عدالت ہے۔
٭قارئین! سامعین! حاضرین! ایک دلگداز قسم کی داستان کہ زرداری خاندان بہت غریب ہو گیا ہے۔ مقدموں میں ضمانت جمع کرانے کی استطاعت بھی نہیں رہی۔ گزشتہ روز آصف زرداری کے خلاف ساتویں ریفرنس کے سلسلے میں عدالت نے ضمانت کے لئے پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ زرداری خاندان کے وکیل فاروق نائیک نے دلدوز قسم کی دردمندانہ درخواست کی کہ حضور پیسے کچھ کم کر دیں۔ عدالت نے کہا کہ ’’کیا پیسے نہیں ہیں؟‘‘ وکیل نے کہا کہ ’’جی ہاں بیلنس ختم ہو گیا ہے۔‘‘ اس پر فاضل جج نے مسکراتے ہوئے پانچ پانچ لاکھ کی بجائے رقم دو دو لاکھ کر دی!