08:07 am
حکومت مخالف تحریک؟

حکومت مخالف تحریک؟

08:07 am

بلاول بھٹوزرداری کی افطار پارٹی سے وابستہ، احتساب کے شکنجے میں کسے سیاستدانوں کی کوئی ایک امید بھی نہ بر آئی،خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن تو  مکمل طور پر مایوس دکھائی دئیے۔دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا کے مصداق  چلے تھے حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے مگر مقصد سے عاری یہ اپوزیشن اکٹھ خود ہی کسی بات پر متفق نہ ہو سکا،ملکی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست ایک دوسرے کی مخاصمت کی حد تک مخالفت کی بنیاد پر استوار رہی۔ماضی میں جھانکیں  تو  ضیاء الحق نے ن لیگ کی بنیاد ہی پیپلز پارٹی کو سیاسی میدان سے آئوٹ کرنے کیلے رکھی تھی،مگر اسلام کے نام پر ملک کو لسانی اور مذہبی گروہوں کے سپرد کرنے والے جرنیل کو بھی ہزیمت کا سامنا کرناپڑا اور پیپلز پارٹی کا وجود اور سیاسی کردار جرنیل کے وظیفہ خوار ختم نہ کرسکے۔ تاریخ شاہد ہے کہ عوام کو بیوقوف بناکر ووٹ لینے والی ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو جب کبھی اپنی سیاست اور لوٹی دولت خطرے میں دکھائی دی دونوں جماعتوںکی قیادت اختلافات کو بھلا کر ایک ہو گئی اور جیسے ہی خطرہ ٹلا عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے ایک بار پھر باہمی  مخالفت پر کمر کس لی،ایوب خان اور ضیاء الحق کی باقیات یہ دونوں جماعتیں عرصہ دراز سے جمہوریت کے نام پر عوام کو الو بنا رہی ہیں،حالانکہ جمہوریت نام کا جانور خود انکی پارٹی میں بھی دکھائی نہیں دیتا،باپ کے بعد بیٹا،بھائی یا بیٹی ہی قیادت کے حقدار جانے گئے۔
 ملکی سیاست میں نواز شریف کا کردار تقریباً ختم ہو چکا، خبریں اڑ رہی ہیں   شہبازشریف  جلد واپس نہیں آئیں گے ،اگر یہ خبریںمبنی بر حقیقت نہیں بھی  ہیں   تو پھر بھی  شہباز شریف کا  مستقبل کی سیاست میں کوئی کردار نہیں  ہے۔ڈوبتی سیاسی نائو کو بچانے کیلئے مریم نواز کو پارٹی کی سربراہی دینے کے بجائے نائب صدارت سونپی گئی،کہ پارٹی صدارت ان کے سپرد کرنے سے پارٹی تتر بتر ہو جانے کا خدشہ تھا،پارٹی عہدہ ملنے کے بعد مریم نواز کی بلاول بھٹو کی افطار پارٹی میں شرکت پہلا بڑا سیاسی شو تھا،مگر نام بڑے اور درشن چھوٹے والا معاملہ ہواء،افطار پارٹی کے شرکاء حکومت مشترکہ تحریک چلانے پر ہی آمادہ نہ ہو پائے،تحریک پر اتفاق رائے تھا مگر ہر جماعت اپنے اپنے طور پر تحریک چلانے پر بضد رہی،ایسا ہی نتیجہ تحریک انصاف کی حکومت بننے سے قبل فضل الر حمٰن کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کا سامنے آیا تھا۔اب مشترکہ تحریک کیلئے عید الفظر کے بعد کل جماعتی کانفرنس بلانے کی تجویز پر اتفاق رائے تو ہو گیا ہے مگر اس کے نتائج بھی غیر متوقع نہیں ہیںامید نہیں کہ اپوزیشن  جماعتیں کسی مشترکہ تحریک پر متفق ہو پائیں گی۔
اس عدم اتفاق کی وجہ بھی ڈھکی چھپی نہیں سب جانتے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک عوامی یا ملکی مفاد میں نہیں، عوامی مسائل مشکلات کا حل اپوزیشن کے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں،حکومت مخالف تحریک دراصل نیب زدہ سیاست دانوں کی مقدمات سے جان چھڑانے،لوٹی دولت کو تحفظ دینے اور گرفتاریوں سے بچنے کیلئے حکومت کو بلیک میل کرنے کی ایک کوشش ہے۔جو جماعتیں نیب کے نشانہ پر نہیں ان کو ایسی کسی تحریک سے کوئی دلچسپی نہیں،اپوزیشن کی غیر سنجیدگی کا ایک ثبوت پی ٹی ایم (پختون تحفظ موومنٹ ) کی قیادت کی اس افطار پارٹی میں شرکت بھی ہے،کون نہیںجانتا اس گروہ کی حقیقت کیا ہے،پی ٹی ایم کبھی سیاسی جماعت نہیں رہی نہ ہی یہ سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔اس جماعت کی قیادت ملک اور اہم ریاستی اداروں کیخلاف زہر افشانی کرتی رہی ہے،جس پر قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارہ نے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا،انکے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات بھی درج ہیں،یہ گروہ قبائیلی علاقہ جات میں فوج کی موجودگی،فوجی اپریشن،پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے بھی خلاف ہے،محب وطن شہری حیران ہیں کہ اس گروہ کی قیادت کو کس حیثیت سے اور کیوں افطار پارٹی میں دعوت دی گئی،کیا یہ قومی سلامتی کے ادارہ کو کسی نوعیت کا پیغام تو نہیں تھا،اگر واقعی اپوزیشن کی جماعتیں ملک اور عوام کے مفاد میں ایک میز پر جمع ہوئی تھیں تو اس  گروہ کی قیادت کو اس اجتماع میں کیوں بٹھایا گیا۔
عوام کی اکثریت یہ سمجھنے سے  بھی  قاصر ہے کہ جن پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ اپنی بیگناہی ثابت کرنے کی بجائے محاذ آرائی پر کیوں اترنے کو بیتاب ہیں،نواز شریف، آصف زرداری سمیت نیب کی زد میں آئے ہرفرد کا دعویٰ ہے کہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کے ہیں ۔اگرواقعی ایسا ہے تو پھر فرار ہونے یا جنگ آزمائی کرنے کی کیا تک ہے،نیب کی انکوائری میں شامل ہو کر یا عدالت میںپیش ہو کر اپنی صفائی دیں، ذرائع آمدن ظاہر کریں اور بتائیں کہ یہ جائیداد اس ذریعے سے بنائی گئی ہے،معاملہ چند روز میں ختم ہو جائیگا، مگر یہ مختصر راستہ اپنانے کی بجائے معاملات کو خود ہی طول دینے کی کوشش کی جا رہی ہے،جو دال میں کچھ کالا ہونیکا نہیں بلکہ ساری دال کالی ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
ملک آج اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے،معاشی حالت دگر گوںہے،بیرونی قرضے وبال جان بنے ہوئے ہیں،قرضوں کے سود اور قسط کی ادائیگی کیلئے بھی قرض لینا مجبوری بن چکا ہے،ان حالات میںمیثاق معیشت کی ضرورت ہے،اصل ضرورت آج ملکی معیشت کو دبائو سے نجات دینے کی ہے مگر اپوزیشن اپنی قومی ذمہ داری فراموش کر کے حکومت پر سیاسی دبائو بڑھانے کی فکر میںمبتلا ہے،دیانتداری سے سوچا جائے تو آج ملک کو جس معاشی بحران کا سامنا ہے اس کی ذمہ دار پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی ماضی کی حکومتیںہیں،ہونا یہ چاہئے  کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کو پیشکش کریں کہ جو گند ان کیوجہ سے پڑا ہے آئو اسے مل کر صاف کرتے ہیں مگر یہ لوگ مزید گندگی(باقی صفحہ 6بقیہ نمبر1)
 پھیلانے کے درپے  ہیں۔
           سیاسی نقشہ جو  مجھے  دکھائی دے رہا ہے اتنا سا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کسی حکومت مخالف تحریک کیلئے متحد نہیں،کہ ان کے باہمی اختلافات ہی بہت زیادہ ہیں۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی دوسر ے تیسرے درجے کی قیادت ان دونوں جماعتوں کی شراکت پر ہی آمادہ نہیں ،قیادت نے اگر ایسے کسی ایڈونچر کا فیصلہ کیا تو کارکن تو کیا مقامی قائد ین بھی اس فیصلہ سے دور ہی رہیں گے۔
قیادت کی کرپشن بچانے کیلئے اب کوئی قربانی کابکرا  بننے کو تیار نہیں  اور  یہ حقیقت جلی حروف سے دیوار پر لکھی ہے۔ ن لیگی قائدین اور کارکنوں کی اکثریت  مریم نواز کو اپنا  لیڈر تسلیم کرنے پر تیار  نہیں،شاہد خاقان عباسی بھی جاویدہاشمی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے جنہوںنے شریف خاندان کی جلا وطنی کے دوران پارٹی کو سنبھالے رکھا،شریف خاندان کیلئے اب جاویدہاشمی بھی قابل قبول نہیں اور مریم مقامی قیادت کیلئے ناقابل قبول ہیں،ایسے میں کسی حکومت مخالف تحریک کی کامیابی بارے سوچنا  عجیب لگتا ہے۔