07:37 am
اُم المومنین سیدہ عائشہ ؓکے فضائل ومحاسن حدیث کی روشنی میں 

اُم المومنین سیدہ عائشہ ؓکے فضائل ومحاسن حدیث کی روشنی میں 

07:37 am

اُم المومنین سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کا اسم گرامی عائشہ بنت صدیق رضی اﷲعنہاہے۔ حضرت سیدہ عائشہ (رضی اﷲتعالیٰ عنہا )کی ولادت مکہ میں 614ء میں ہوئی ۔حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اﷲتعالیٰ عنہا )کاشجرہ نسب والد کی  طرف سے آٹھویں پشت پر اور والدہ کی طرف سے گیارہویں پشت پر حضورسرکار کائنات سے جا ملتا ہے ۔آپ کے والد محترم کانام حضرت سید ناعبداﷲابوبکرصدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ ہے اور والدہ کانام رومان بنت عامرتھا۔(مدارج النبوت  640/2) 
سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کی کی سخاوت وفیاضی کا یہ عالم تھاکہ گھر میں جو مال ہوتابانٹ دیا کرتی تھیں ،حتیٰ کہ خودپیوند والے کپڑے استعمال فرماتیں چنانچہ حضرت عروہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہاکودیکھا کہ آپ نے ستر ہزار درہم ودیناراﷲکی راہ میں خیرات کئے حالانکہ خود آپ اپنی قمیض کی جیب میں پیوند لگاتی تھیں (حلیۃ الاولیاء 58/2)
حضرت سیدنا انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں ۔کہ حضور نبی اکرم ﷺنے عرض کی اے اﷲمجھے مسکین زندہ رکھ ،حالت مسکینی میں وفات دے اور میراحشرمسکینو ں کے زمرہ میں فرما۔اُم المومنین سیدناعائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا عرض گذار ہوئیں ۔حضور ایسا کیوں ؟فرمایا مسکین لوگ جنت میں امیروں سے چالیس برس پہلے جائیں گے ۔اے عائشہ مسکینوں سے محبت کروانہیں اپنے قریب رکھو تاکہ اﷲتعالیٰ تم کوقیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمائے (مشکوٰۃ شریف باب فضل الفقراء ،فصل ثانی )
اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہانے ایک خواب دیکھا تھا کہ ان کے حجرہ ٔ مبارکہ میں آسمان سے تین چاند اُترے ہیں اِس خواب کی یہ تعبیر قرار پائی کہ وہ تین چاند حضور اکرم ﷺاور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہما ہیں جو کہ حجرہ ٔ عائشہ میں جلوہ فرما ہیں اور اس میں سیدہ کائنات کو جو فضیلت حاصل ہے دیگر ازواج مطہرات کونہیں کیونکہ آپ کا حجرہ مبارک دولہائے کائنات ﷺاور ان کے دومقدس وزیروں کی آرمگاہ ہے ۔(فیوض الباری 171/9)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سیتی تھی سوئی گر پڑی تلاش کی نہ ملی ۔اتنے میں رسول اﷲﷺتشریف لائے حضور اکرم  ﷺ کے نور کی روشنی سے سوئی ظاہر ہو ئی ۔ (خصائص کبریٰ 107/1)
نبی کریم ﷺکی زوجہ محترمہ حضرت سید ہ عائشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا اے عائشہ !یہ جبرائیل علیہ السلام جو تم کو سلام کہہ رہے ہیں ۔میں نے کہا وعلیکم السلام ورحمۃ ُاﷲوبرکاتہ‘حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہانے کہا آپ اُن چیزوں کودیکھتے تھے جنہیں میں نہیں دیکھتی تھی ۔(صحیح مسلم شریف،325 /3)
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہافرماتی ہیں ایک دن سیدعالم ﷺنے فرمایا بلقیس جہاں بھر کی خواتین میں نہایت حسین وجمیل پنڈلیوں والی خاتون تھیں ۔وہ جنت میں حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام کی ازاوج میں سے ہے ۔ اِس میں عرض کیا ۔یارسول اﷲ!کیا وہ مجھ سے بھی زیادہ حسین وجمیل تھیں؟آپ ﷺ نے فرمایاتم جنت میں ان سے زیادہ حسن کی مالک ہوگی ۔ (تفسیر قرطبی ،نزہۃُالمجالس489/2)
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ انہو ںنے اسماء سے ایک ہاراُدھار لیا جو گم ہوگیا ۔نبی کریم ﷺنے اسے ڈھونڈنے کیلئے لوگوں کو بھیجا ،اتنے میں نمازکا وقت ہو گیا ۔لوگوں نے بغیر وضو نماز پڑھی جب وہ نبی کریم ﷺکی خدمت میںآئے تو انہوں نے حضور ﷺسے اس بات کی شکا یت کوتوتیمم کی آیت نازل ہوئی ۔سید نا اسید بن حفیر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا اے عائشہ اﷲتمہیں جزائے خیر عطا کرے خدا کی قسم جب بھی تم پرکسی قسم کی سختی نازل ہو ئی اﷲتعالیٰ نے تمہا رے لئے اس سے نجا ت کا راستہ پید افرمایا اور مسلمانوں کیلئے اِس میں برکت پید افرمادی (سنن ابن ماجہ شریف 183/1) کتب احادیث اور کتب تواریخ کی روشنی میں آپ نے مخدومہ کائنات ،محبوبہ رسول عربی حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کے فضائل محاسن اور آپ کی سیرت وعظمت کے بارے میں معلومات کا خزانہ حاصل کیا۔حضرت سیدہ عائشہ ہی وہ زوجہ رسول ہیں جن کو کنواری حالت میں سرکاردوعالم ﷺکی زوجیت میں آنے کا شرف نصیب ہوا۔
سیدہ عائشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا ہی وہ زوجہ رسول ﷺجن کویہ اعزاز عطا ہو اکہ محبو ب خدا ﷺکی آخری آرامگاہ بھی حجرہ عائشہ بنی ۔سیدہ کائنات ایسی مبلغہ تھیں کہ ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ ،عبد الرحمن بن عوف،عبد اﷲبن زبیر بھی اُن سے دینی مسائل میں راہنمائی لیتے تھے ۔ 
اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ بنت صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہا کا وصال شریف 57ھ یا58ھ سترہ رمضان المبارک کو ہوا۔نماز جنا زہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے پڑھائی اور آپ کی قبر مبارک میں پانچ حضرات یعنی حضرت سیدنا عبد اﷲبن زبیر ،عروہ بن زبیر ،قاسم بن ابی بکر ،عبداﷲبن محمد بن ابوبکر اور عبد اﷲبن عبد الرحمن بن ابوبکر اترے ۔آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو رات کے وقت جنت البقیع میں نمازجنازہ کے بعد دفن کیا گیا ۔(اسد الغابہ 208/7طبقات ابن سعد 77/8)


 

تازہ ترین خبریں