07:38 am
     تیل کی تلاش  اور معاشی  غارت گر    

     تیل کی تلاش  اور معاشی  غارت گر    

07:38 am

 ملک کی خیر چاہنے والوں کے دل اداس ہیں ۔ ایک امید سی بندھی تھی کہ سمندر سے تیل کے ذخائر برآمد ہوئے تو قوم کے معاشی دلدر دور ہو ں گے ۔ امید اس اعلان سے ٹوٹی ہے کہ متوقع ذخائر دستیاب نہیں ۔ اجتماعی بے چینی اس لیے بھی زوروں پہ ہے کہ دن بدن بگڑتی معیشت کی بدولت مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل کے عوام کی گردن پہ بری طرح سوار ہے ۔ ڈالر کے مقابل روپے کی بے قدری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ۔ پیٹرولیم ، بجلی اور گیس کے دام مزید بڑھیں گے ۔ اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ ہر شے کے نرخ بڑھیں گے اور مہنگائی کا جن عوام کا رہا سہا خون بھی چوس لے گا ۔ عوام کی جان اس جن سے چھڑانے کے لیے جو ماہر عامل طلب کئے گئے ہیں وہ آئی ایم ایف اور عالمی بنک سے سند یافتہ ہیں ۔ ابھی ان معاشی عاملوں نے اپنا جھاڑ پھونک شروع نہیں کیا ! جب یہ اپنا جھاڑ پھونک مریض پہ آزمائیں گے تو شفا کا امکان کم اور قضا کا خدشہ زیادہ قوی ہے ۔ سوجھ بوجھ رکھنے والے خبردار کر رہے ہیں کہ ان جعلی عاملوں کی جھاڑ پھونک کے نتیجے میں مہنگائی کے جن کا تو کچھ نہیں بگڑے گا البتہ مریض یعنی کہ عوام کی جان جانے کا غالب امکان ہے۔ 
 
آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے ان عاملوں کو انہی کے ایک پیٹی بھائی جان پرکنز نے اکنامک ہٹ مین یعنی معاشی غارت گر کا نام عطا کیا ہے ۔ جان پرکنز کی شہرہ آفاق کتاب کنفیشنز آف این اکنامک ہٹ مین ( ایک معاشی غارت گر کے اعترافات) ایک چشم کشا دستاویز ہے۔ کتاب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ بڑی طاقتیں خصوصاً امریکہ بہادر کس طرح معاشی فریب کاری کے جال میں پھانس کے اقوام عالم کے وسائل اپنے قبضے میں کرتے ہیں ۔ جان پرکنز چونکہ گھر کا وہ بھیدی ہے جو اس فریب کاری ، دہشت گردی اور استحصال پہ مبنی نظام کا مہرہ بن کے کئی برسوں تک کام کرتا رہا ۔ لہٰذا کتاب میں بیان کردہ تہلکہ خیز انکشافات مستند ہیں ۔ اقوام عالم کو معاشی فریب کاری کے جال میں پھانسنے کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بنک جیسے اداروں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان اداروں سے اعلانیہ یا در پردہ وابستہ لوگ ماہرین کا روپ دھار کے اپنے ہدف ملک میں معاشی غارت گر یا اکنامک ہٹ مین کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ اختصار کے پیشِ نظر کتاب کے چشم کشا مندرجات کا تفصیلی تذکرہ آئندہ کسی کالم میں کیا جائے گا ۔ بس اتنا جان لیجے کہ جان پرکنز کی کتاب یا اعترافات پڑھ کے گزشتہ پچاس برس میں پاکستان کی معیشت سے ہونے والے کھلواڑ کی اصل وجوہات سمجھ آجاتی ہیں ۔ فی الحال کتاب کے حوالے سے دو اہم پہلو توجہ طلب ہیں ۔ کتاب کے ابتدائی حصے میں جان پرکنز نے کھلے لفظوں میں یہ بیان کیا ہے کہ معاشی فریب کاری کا یہ ہلاکت انگیز نظام خوف اور قرضوں کے لچھے دار وعدوں کی بنیاد پہ قائم ہے ۔ پہلے شکار ملک کے حکمرانوں کو معیشت کی بربادی کی ایسی بھیانک منظر کشی کی جاتی ہے کہ اُن کے حواس معطل ہوجاتے ہیں ۔ اس موقع پہ عالمی اداروں کے معاشی غارت گر دو اہم مقاصد کے لیے سر گرم ہوجاتے ہیں ۔ اول، اقتصادی ترقی کے جھوٹے خواب دکھا کے بھاری سودی قرضوں کے جال میں شکار کو پھانسنا ۔ دوم، قرضوں کا بڑا حصہ امریکی کمپنیوں کو مختلف ٹھیکوں اور معاہدوں کی صورت میں ادا کروانا ۔ گویا ایک ہاتھ سے قرضہ دینا اور دوسرے ہاتھ سے اس رقم کا بڑا حصہ کسی امریکی کمپنی کے ذریعے واپس امریکی بنکوں میں واپس لے جانا ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جن منصوبوں کے مہنگے ٹھیکے ان کمپنیوں کو دیئے جاتے ہیں ان کی کامیابی کے تخمینے جعلی اعداد و شمار پر مبنی ہوتے ہیں ۔ 
جان پر کنز نے ستر کے عشرے میں انڈونیشیا کی معیشت پہ نقب زنی کا ذکر کرتے ہوئے کتاب کے ساتویں ، آٹھویں اور نویں ابواب میں جعلی تخمینوں پہ مبنی رپورٹوں کا کھل کے ذکر کیا ہے ۔ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان اپنی حالیہ پالیسیوں کی بدولت امریکہ کے نشانے پہ ہے ۔ امریکہ پاکستان کی اقتصادی شہ رگ پہ خنجر زنی کے لیے آئی ایم ایف ، عالمی بنک اور ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کو استعمال کر رہا ہے۔ پاکستانی سمندر میں تیل کی تلاش کے منفی نتائج بعض غیر جانبدار اداروں کے اندازوں کے برعکس ہیں ۔ ایک محفوظ اندازے کے مطابق پاکستان میں نو ارب بیرل تیل اور ایک سو پانچ کھرب مکعب فٹ سے زیادہ گیس کے ذخائر ہیں ۔ کیکڑا ون کے مقام پہ اس پہلے سترہ مرتبہ ڈرلنگ کی جا چکی ہے ۔ 
اٹھارویں کوشش کی ناکامی پہ مایوسی کیوں ؟ دنیا کے بیشتر ممالک چالیس ، پچاس بلکہ ستر مرتبہ کوشش کرنے پہ تیل کی تلاش میں کامیاب ہوئے ۔ یہ خبر تشویش ناک ہے کہ زیر آب کھدائی کی گئی جگہ کو بند کیا جا رہا ہے ۔ یہ عجلت کیوں ؟ غیر ملکی کمپنیوں کے تخمینے پہ آنکھیں بند کے یقین کرنے کے بجائے آزادنہ تجزیہ بھی کروایا جا سکتا ہے ؟ اپوزیشن افطار میں سیاست کے بگھار سے فراغت پائے تو پارلیمان میں تیل کی تلاش کے منصوبوں میں شفافیت اور فعالیت کے موضوع پر کوئی مثبت کاوش کر دکھائے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ ڈرلنگ کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے پیش کردہ نتائج پہ آنکھیں بند کے اعتماد نہ کیا جائے ۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ امریکہ بہادر ہر حربہ استعمال کر کے ہماری معیشت کو برباد کرنا چاہتا ہے ۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ جان پرکنز نے اپنی کتاب کے ابتدائی ابواب میں امریکہ کی جن منظور نظر کمپنیوں کا ذکر کیا ہے اُن میں ایگزون کا نام بھی شامل ہے جو کہ کیکڑا ون پر حالیہ ڈرلنگ کے عمل میں بھی شامل رہی ہے ۔ جان پرکنز نے جعلی تخمینوں اور خانہ ساز جھوٹی رپورٹوں کا بھی ذکر کیا تھا ۔ جہاں تک متعلقہ محکموں کے حکام کا تعلق ہے تو ہم یہ کیوں نہ یاد رکھیں کہ ماضی میں ایک بھگوڑا سفیر امریکہ بہادر کی چاکری کرتے ہوئے ہمارے اپنے دفتر خارجہ کو پاکستان کے مفادات کے خلاف استعمال کرتا رہا ۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ تیل کی تلاش جیسے حساس معاملے پہ سیاسی قیادت مشترکہ حکمت عملی اپنائے اور اس عمل میں امریکہ جیسے ناقابل اعتبار ملک کی مشکوک کمپنیوں پہ اعتبار کرنے کے بجائے قابل اعتماد دوست ممالک کا تعاون حاصل کیا جائے۔ وجدان کہتا ہے کہ نیک نیتی سے اس کا م کا بیڑا اٹھایا گیا تو رب کے کرم سے زمین اپنے خزانوں کا منہ کھول دے گی ۔ 
 

 

تازہ ترین خبریں