12:40 pm
جہاد، امریکہ اور افغان طالبان

جہاد، امریکہ اور افغان طالبان

12:40 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
لیکن آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ تہذیب جدید نے آسمانی تعلیمات سے دستبرداری کا اعلان کر کے خواہشات اور عقل ہی کو تمام امور کی فائنل اتھارٹی قرار دے رکھا ہے جس سے توازن بگڑ گیا ہے، اجتماعی اخلاقیات دم توڑ گئی ہیں، طاقت کا بے لگام گھوڑا وحی الٰہی کی لگام سے آزاد ہو گیا ہے، اور پوری دنیا میں ہر طرف جنگل کے قانون کا دور دورہ ہے۔
 
آج کی جدید دانش نے چونکہ مذاہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کے شخصی زندگی کے دائروں میں محدود کر دیا ہے اس لیے عقل جدید کے نزدیک مذہب کو وہ مقام حاصل نہیں رہا کہ اس کے لیے ہتھیار اٹھائے جائیں اور اس کے فروغ و تنفیذ کے لیے عسکری قوت کو استعمال میں لایا جائے ورنہ ہتھیار تو آج بھی موجود ہیں اور جتنے ہتھیار آج پائے جاتے ہیں اور تیار ہو رہے ہیں، انسانی تاریخ میں ا سے قبل کبھی نہیں دیکھے گئے۔ یہ ہتھیار استعمال بھی ہوتے ہیں اور وہ تباہی لاتے ہیں کہ اس سے قبل کی انسانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے مگر ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے والوں کے مقاصد اور عنوانات مختلف ہیں:٭ جرمنی نے جرمن نسل کی برتری کے عنوان سے ہتھیار بنائے اور دو عظیم جنگوں میں پوری دنیا کے لیے تباہی کا سامان فراہم کیا۔٭ روس نے محنت کشوں کی طبقاتی بالادستی کے نام پر عسکری قوت کا بے تحاشا استعمال کیا اور نسل انسانی کے ایک بڑے حصے کو تہہ تیغ کر دیا۔٭ اسرائیل ایک نسلی مذہب کی برتری کے لیے اپنے سائز سے سینکڑوں گنا زیادہ ہتھیار جمع کیے ہوئے ہے اور فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف ہے۔٭ اور امریکہ نے مغربی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے نام پر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر نسلی برتری، طبقاتی بالادستی، اور تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھانا اور صرف اٹھانا نہیں بلکہ اسے وحشیانہ انداز میں اندھا دھند استعمال کر کے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دینا دہشت گردی نہیں ہے تو آسمانی تعلیمات کے فروغ اور وحی الہی کی بالادستی کے لیے ہتھیار اٹھانے کو کون سے قانون اور اخلاقیات کے تحت دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے؟
باقی تمام پہلوں سے صرف نظر کرتے ہوئے آج کی معروضی صورت حال میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے طرز عمل کا جائزہ لے لیں کہ افغانستان اور دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں اسلام کے اجتماعی نظام کے نفاذ کا نام لینے والوں کے خلاف عالمی اتحاد کے پرچم تلے جو وحشیانہ فوج کشی جاری ہے، اس کے جواز میں اس کے علاوہ اب تک کوئی دلیل پیش نہیں کی جا سکی کہ اسلام کا نام لینے والے ان مبینہ انتہاپسندوں سے آج کی عالمی تہذیب کو خطرہ ہے، بالادست ثقافت کو خطرہ ہے، اور بین الاقوامی نظام کو خطرہ ہے، اس لیے ان انتہا پسندوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ عقیدہ و مذہب کے لیے ہتھیار اٹھانے کو دہشت گردی کہنے والے خود ایک مذہب اور عقیدہ کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے میدان جنگ میں مسلسل صف آرا ہیں۔
میری اس گزارش کا مقصد یہ ہے کہ اگر ایک عقیدہ، فلسفہ، اور تہذیب کے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھانے اور اسے بے دریغ استعمال کرنے کا ایک فریق کو حق حاصل ہے تو اس کے خلاف دوسرے عقیدہ، فلسفہ، اور تہذیب کے علمبرداروں کو ہتھیار اٹھانے کے حق سے کسی طرح محروم نہیں کیا جا سکتا اور ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کے لیے یہ کوئی وجہ جوازنہیں ہے کہ چونکہ ایک فریق کے پاس ہتھیار بنانے کی صلاحیت زیادہ ہے اور اسے ان ہتھیاروں کے استعمال کے مواقع زیادہ میسر ہیں، اس لیے اسے تو ہتھیار بنانے اور چلانے کا حق حاصل ہے، اور دوسرا فریق اس صلاحیت میں کمزور اور ان مواقع کی فراوانی سے محروم ہے اس لیے اسے اس کا سرے سے کوئی حق نہیں ہے۔
آج امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات پر مطمئن ہیں کہ جو جنگ وہ لڑ رہے ہیں، وہ اعلیٰ مقاصد کی خاطر لڑی جا رہی ہے، انسانیت کی بھلائی کی جنگ ہے، اور ان کے بقول اعلیٰ ترین تہذیبی اقدار کے تحفظ کی جنگ ہے۔ جنگ کی اسی مقصدیت کی وجہ سے انہیں اس عظیم جانی و مالی نقصان کی کوئی پروا نہیں ہے جو دنیا بھر میں ان کے ہاتھوں مسلسل جاری ہے۔ انسان مر رہے ہیں،  عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں، بچے یتیم ہو رہے ہیں، عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو رہی ہیں، ملکوں اور قوموں کی معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں، اور امن و امان کا توازن مسلسل بگڑتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والے چونکہ اپنے زعم کے مطابق یہ سب کچھ اعلیٰ مقاصد کے لیے کر رہے ہیں اور ان اقدامات کے ذریعے سے اعلیٰ تہذیب و ثقافت کا تحفظ کر رہے ہیں اس لیے ان کے خیال میں یہ سب کچھ جائز ہے اور جنگ کا حصہ ہے جسے کسی چون و چرا کے بغیر پوری نسل انسانی کو برداشت کرنا چاہیے۔ یہی بات اسلام کہتا ہے اور جناب نبی اکرمؓ نے فرمایا ہے کہ نسل انسانی کے لیے نجات کا راستہ انسانی خواہشات اور صرف انسانی عقل نہیں ہے بلکہ وحی الہی کی نگرانی اور آسمانی تعلیمات کی برتری انسانی سوسائٹی کے لیے ضروری ہے۔ اور اسلام کے نزدیک انسانیت کی اعلیٰ اقدار اور تہذیبی روایات کا سرچشمہ انسانی خواہشات اور عقل محض نہیں بلکہ وحی الہی اور آسمانی تعلیمات ہیں اس لیے ایک مسلمان اگر ان مقاصد کے لیے ہتھیار اٹھاتا ہے تو دنیا کی مسلمہ روایات اور تاریخی عمل کی روشنی میں اسے یہ کہہ کر اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ مخالف فریق کے نزدیک اس کا یہ عمل دہشت گردی قرار پا گیا ہے۔
اس اصولی وضاحت کے بعد قرآن و سنت کی رو سے جہاد کی چند عملی صورتوں کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں:
٭ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کے حوالے سے جہاد کے ایک حکم کا تذکرہ سور المائدہ میں کیا ہے کہ جب حضرت موسی علیہ السلام فرعون کے چنگل سے بنی اسرائیل کو نکال کر صحرائے سینا میں خیمہ زن ہوئے تو اللہ تعالی کی طرف سے بنی اسرائیل کو حکم ملا کہ وہ بیت المقدس کو عمالقہ سے آزاد کرنے کے لیے جہاد کریں اور آگے بڑھ کر حملہ آور ہوں۔ مگر غلامی کے دائرے سے تازہ تازہ نکلنے والی مرعوب قوم کو اس کا حوصلہ نہ ہوا اور پھر اس کے چالیس سال بعد بنی اسرائیل کی نئی نسل نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں جنگ لڑ کر بیت المقدس کو آزاد کرایا۔
٭ قرآن کریم نے بنی اسرائیل ہی کے حوالے سے ایک اور جہاد کا تذکرہ کیا ہے جس کا حوالہ ہم پہلے بھی دے چکے ہیں کہ جالوت نامی ظالم بادشاہ نے فلسطین کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر کے بنی اسرائیل کو مظالم کا شکار بنانا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت سموئیل علیہ السلام کے حکم پر طالوت بادشاہ کی قیادت میں بنی اسرائیل کی مٹھی بھر جماعت نے جالوت کا مقابلہ کیا اور اسے میدان جنگ میں شکست دے کر فلسطین کے علاقے آزاد کرائے۔    ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

سندھ حکومت نے کورونا کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن پر غور شروع کردیا

سندھ حکومت نے کورونا کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن پر غور شروع کردیا

تعلیمی ادارے کب کھلیں گے؟ فیصلہ ہو گیا،طلبہ یہ خبر ضرور پڑھ لیں 

تعلیمی ادارے کب کھلیں گے؟ فیصلہ ہو گیا،طلبہ یہ خبر ضرور پڑھ لیں 

مون سون کے اس طرح کے سپیل آتے رہتے ہیں ،اسلام آباد میں کلائوڈ برسٹ نہیں ہوابلکہ ۔

مون سون کے اس طرح کے سپیل آتے رہتے ہیں ،اسلام آباد میں کلائوڈ برسٹ نہیں ہوابلکہ ۔

نور مقدم قتل کیس ۔۔۔!!! ملزم نے بالآخرسب کچھ اُگل دیا ، خبر پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائینگے

نور مقدم قتل کیس ۔۔۔!!! ملزم نے بالآخرسب کچھ اُگل دیا ، خبر پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائینگے

نیب نے مالم جبہ کیس کی تحقیقات بند کردیں،مفتاح اسماعیل کیخلاف انکوائری کی منظوری

نیب نے مالم جبہ کیس کی تحقیقات بند کردیں،مفتاح اسماعیل کیخلاف انکوائری کی منظوری

وزیراعظم کا ایک بار پھر عوام کی کالز سننے کا فیصلہ،تاریخ بارے پتا چل گیا

وزیراعظم کا ایک بار پھر عوام کی کالز سننے کا فیصلہ،تاریخ بارے پتا چل گیا

’’جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘‘

’’جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘‘

نذیر چوہان کی مشکلات کم نہ ہوئیں ،ضمانت پر جیل سے نکلتے ہی ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا

نذیر چوہان کی مشکلات کم نہ ہوئیں ،ضمانت پر جیل سے نکلتے ہی ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا

45سال قبل مردہ قرار دیا گیا شخص زندہ گھر لوٹ آیا

45سال قبل مردہ قرار دیا گیا شخص زندہ گھر لوٹ آیا

کپتان بابراعظم نے ایک بار پھر پاکستانی قوم کا سرفخر سے بلند کردیا

کپتان بابراعظم نے ایک بار پھر پاکستانی قوم کا سرفخر سے بلند کردیا

وزیراعظم نے ارباب غلام رحیم کو معاون خصوصی تعینات کردیا

وزیراعظم نے ارباب غلام رحیم کو معاون خصوصی تعینات کردیا

’’جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘‘

’’جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘‘

مون سون بارشیں :وزیراعظم نے شہریوں اورمتعلقہ اداروں کو  خبردار کردیا

مون سون بارشیں :وزیراعظم نے شہریوں اورمتعلقہ اداروں کو خبردار کردیا

آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی پروجیکشن کو درست تسلیم کرلیا

آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی پروجیکشن کو درست تسلیم کرلیا