07:41 am
بھارتی انتخابات، نریندرمودی واپس

بھارتی انتخابات، نریندرمودی واپس

07:41 am

٭بھارت انتخابات، نریندرمودی پھر وزیراعظمO سعودی تیل کی آمد، ڈالررک گیاO زرداری بیمار ہو گئے، نیب کے سامنے پیش ہونے سے انکارO کم سن ’فرشتہ‘ کا سانحہ وزیراعظم کے سخت احکام، ایس ایچ او گرفتارO سُشما سوراج نے شاہ محمود قریشی کو مٹھائی کھلائیOجج کو کرسی مارنے والے وکیل کو 5 سال قید 5 لاکھ جرمانہ، بار کونسل کی ہڑتال O لاہور کے معروف ادیب اور ناشر مقبول الٰہی ملک انتقال کر گئے!
 
٭بھارتی لوک سبھا (اسمبلی) کے انتخابات میں ابتدائی نتائج کے مطابق بی جے پی اور اتحادی پارٹیوںکے اتحاد نے 542 میں سے 328 نشستیں حاصل کر کے بھاری اکثریت حاصل کر لی۔ اس طرح نریندر مودی دوبارہ وزیراعظم بن جائیں گے۔ مخالف کانگریس کے اتحاد کو 104 نشستیں ملی ہیں۔ یوں آئندہ پانچ سال پھر بی جے پی حکمران رہے گی۔ پانچ سال پہلے بھارتی الیکشن میں بی جے پی کے اتحاد (این ڈی اے) کو 336 نشستیں ملی تھیں۔ اس بار آٹھ کم ہو گئی ہیں۔ اسمبلی (لوک سبھا) میں دو تہائی اکثریت کے لئے کم از کم 361 نشستیں درکار ہیں۔ کانگریس کے اتحاد (یو پی اے) کو 2014ء میں 85 نشستیں ملی تھیں، اس بار یہ تعداد 104 ہو گئی ہے۔ نریندر مودی نے یہ انتخابات صرف پاکستان کے خلاف لفظی اور عملی مہم کے ذریعے جیتے ہیں۔ یہ ساری تفصیل بار بار چھپ چکی ہے۔ مختلف تبصروں کے مطابق پاکستان کو آئندہ پانچ سال بھی بھارت کے ساتھ نبرد آزما رہنا پڑے گا۔ نریندر مودی نے کھلم کھلا بلوچستان کو اپنا ہدف قرار دے رکھا ہے۔ پاکستان میں بھارتی خفیہ ٹیمیں دھماکوں اور پاکستان دشمن کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ گلگت میں حال ہی بھارت کا پاکستان دشمن نیٹ ورک پکڑا گیا ہے۔ پولیس اور عسکری گاڑیوں پر حملے جاری ہیں۔
٭ادھر یہ حال اور ادھر کرغیزستان کے شہر ’بشکیک‘ میں ’شنگھائی تعاون تنظیم‘ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارتی وزیرخارجہ سُشما سوراج نے سرعام پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ جس والہانہ’لگائو، اور ’اپنائیت‘ کا اظہار کیا اِس پر شاعری کی جا سکتی ہے۔ بھارتی میڈیا اعلان کرتا رہ گیا کہ بھارتی وزیرخارجہ پاکستانی وزیرخارجہ سے دور رہیں گی، مصافحہ بھی نہیں کریں گی۔ مگر… سُشما سوراج نے پاکستان کے خوش شکل، جوان وزیرخارجہ کی جو ’بے قابو‘ قسم کی پذیرائی کی، اس پر بھارت تو کیا، پاکستان والے بھی حیران رہ گئے ہیں۔ محترمہ پہلے تو افتتاحی اجلاس میں شاہ محمود قریشی کی ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھیں۔ ملاقات مسکراہٹوں کے تبادلے تک محدود رہی۔ پھر گروپ فوٹو کا سیشن ہوا تو قطارمیں، شاہ محمود قریشی کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ روس کے وزیرخارجہ نے یاد دلایا کہ یہ جگہ ان کے لئے مختص ہے۔ اس پر محترمہ کو قطار کے دوسرے سرے پر جانا پڑا (شعر کہا جا سکتا ہے!) یہ ’پُرسوز‘ مرحلہ تو نمٹ گیا مگر ذرا موقع ملا تو سُشما جی مٹھائی کا ڈبہ لے کر آ گئیںاورخالص فلمی مکالمہ بولا کہ ’’میں آپ کے لئے مٹھائی لائی ہوں، کبھی میٹھا میٹھا بھی بولا کرو نا!‘‘ شاہ محمود قریشی نے مزے سے مٹھائی کھائی اور مسکرا کر کہا کہ ’’کبھی کبھی کڑوا ہونا پڑتا ہے۔ ویسے ہم تو بار بار مذاکرات کے لئے کہہ رہے ہیں، اب بھی تیار ہیں!‘‘ اس پر سُشما بولی کہ ’’ہمیں بہتری کی اُمید رکھنی چاہئے۔‘‘! اس خبر میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ مٹھائی کیا تھی؟ ایسے ماحول میں خواتین عام طور پرموتی چُور کے لڈو کھلایا کرتی ہیں۔دوسری بات یہ کہ سُشما نے مٹھائی اپنے ہاتھ سے کھلائی یا پاکستان کے وزیر خارجہ نے خود کھائی؟ اور یہ ایک سیانے نے مشورہ دیا ہے کہ قریشی صاحب مٹھائی کا ڈبہ اپنے گھر نہ لے جائیں، خواہ مخواہ فساد ہو سکتا ہے۔
٭قارئین کرام! یہ خاصا چھوٹا سا فلمی قسم کا ڈراما تھا۔ جو اس موقع پر دیکھنے میں آیا اوروہیں ختم ہو گیا! اصل معاملہ یہ ہے کہ سشما کو بھارتی انتخابات میں اپنی پارٹی کی بھاری کامیابی کی اطلاع مل چکی تھی ۔ظاہر ہے ان کی پھر سے وزارت خارجہ پکی ہوگئی ہے۔ اس اطلاع پر مٹھائی کی زد میں پاکستان کے وزیرخارجہ بھی آ گئے ورنہ! نریندر مودی اور مٹھائی؟ نریندر مودی نے یہ انتخابات صرف اور صرف پاکستان دشمن کے زور پر جیتے ہیں۔ پلوامہ کے ڈرامے کے بعد پاکستان پر بار بار حملے،پاکستان کی فرضی تباہیوں کے اعلانات، پاکستان میں دھماکے، گلگت میں پورا پاکستان دشمن نیٹ ورک! سُشما کی مٹھائی سے مجھے تاریخ کا وہ منظریاد
 آ گیا ہے کہ مرہٹوں کے ساتھ لڑائی میں مرہٹہ سردار سیوا جی مخالف مسلمان کمانڈر محمد افضل خان کو محبت پیار اور صلح کا پیغام بھیجتا ہے۔ افضل خان اسے اپنے خیمے میںبلاتا ہے۔ سیوا جی آتا ہے۔ افضل خان اس سے بغل گیر ہوتا ہے تو سیوا جی کمر میں چھپایا ہوا خنجر افضل خان کے پیٹ میں گھونپ دیتا ہے، افضل خان گر جاتا ہے اور سیوا جی بھاگ جاتا ہے۔ اس سیوا جی کو بھارت میں ہندوئوں کے اوتار کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس کے نام پرمندر بنے ہوئے ہیں، تعلیمی اداروں کے نصاب میں اس کے بارے میں مضامین شامل ہیں۔ سُشما سوراج کی مٹھائی کے ذکر پر’سیوا جی‘ کا ذکر! اور کیا لکھوں؟
 ہاں! کیا یہ عجیب اتفاق کی بات نہیں کہ جس وقت سشما سوراج ہمارےشاہ محمود قریشی کو مٹھائی کھلا رہی تھی، اسلام آباد کے میئر کی افطار دعوت میں بھارت کا سفیر پاکستان کے سیکرٹر ی خارجہ کے ساتھ جڑ کر بیٹھا ہوا تھا۔
٭کم سن بیٹی ’فرشتہ مہمند‘ کے بارے میں گزشتہ روز کالم میں بہت کچھ لکھ دیا۔ اب یہ کہ وزیراعظم نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا ہے(موقع پر نہیںگئے) تادم تحریر موقع پر کسی وزیر یا کسی حکومتی سیاسی رہنما یا رکن اسمبلی کے جانے کی کوئی خبر سامنے نہیں تھی۔ البتہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور پیپلزپارٹی کی شیری رحمان مقتول بیٹی کے گھر پر گئے اور اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ افسوس ناک بات یہ کہ اس واقعہ کو بعض مخصوص عناصر علاقائی اور لسانی عصبیت کا زہریلا رنگ دے رہے ہیں۔ ایک خاتون کے خلاف مقدمہ بھی درج ہو گیا ہے۔ فرشتہ بچی کو افغان بتایا جا رہا ہے جب کہ وہ پاکستان میں ہی پیدا ہوئی تھی اور پاکستان کی بچی تھی۔ بالفرض وہ افغان تھی تو مسلمان قوم اور پورے عالم اسلام کی بیٹی تھی۔ ستم یہ کہ پاکستان کا سونے کی دبئی سمگلنگ کے ڈالروں کی پیداوار ایک میڈیا گروپ لسانی فساد کو ہوا دے رہا ہے۔ اس میڈیا کا ایک ایسا ہی اینکر پرسن ہتھکڑیوں کی جھنکار سنتے سنتے ملک سے فرار ہو چکا ہے! یہ لوگ پاکستان کا کھاتے ہیں اور پاکستان ہی پر وار کرتے ہیں!
٭چند ہلکی پھلکی باتیں:امریکی ریاست فلوریڈا۔ ایک 70 سالہ شہری لیونارڈو جیل میں۔ سڑک کے بیچ ہاتھ پھیلائے تھے کہ میں جیل جانا چاہتا ہوں، گھر میں بیوی مارتی ہے، گھر نہیں جائوں گا! پولیس نے جیل بھیج دیا۔
٭دبئی: ہنگامی پولیس کو ایک بزرگ کا فون آیا۔ مجھے گھر میں اکیلے کھانا کھاتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے۔ پولیس اس کے گھر پہنچ گئی۔ اسکے ساتھ کھانا کھایا۔
٭مریم نواز: خانیوال میںایک ہوٹل میں روزہ افطار کیا۔ پرس میں ہاتھ ڈالا۔ 20 ہزار روپے ہاتھ میں آئے، بیرے کو بخش دیئے! ایک تبصرہ: دولت ضرورت سے زیادہ ہو گئی ہو گی!
٭فردوس عاشق اعوان کا مریم نواز کے بارے میں بیان ’’ایک تو چوری، اوپر سے سینہ زوری، لسانیات کے ایک ماہرکا مشورہ ’’سینہ زوری‘‘ خالص مردانہ اصطلاح ہے، خواتین کو اسے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔
٭خواتین کا مشاعرہ: ’نالائق وزیراعظم کو اب جانا ہو گا‘‘ مریم نواز…
’’ایک نالائق اعظم جیل میں، دوسرا ملک سے بھاگ گیا، تیسرا نالائق سمدھی واپس ہی نہیں آ رہا۔‘‘