07:45 am
اپنے خالق کوپہچان

اپنے خالق کوپہچان

07:45 am

خودکومخلوق سمجھتے ہیں اورخالق کونہیں پہچان سکے۔ چلتی پھرتی تصویریں اپنے مصورکونہیں پہچان پائیں۔ بندہ بشراپنے پالنے والے سے بے خبرہے۔خوش قسمتی سے اپنے رب کوتوایک مانتاہے لیکن بدقسمتی سے اس کی ایک نہیں مانتا۔رب کاذکرتوبہت کرتاہے اس پریقین نہیں رکھتا۔اپنے جگری دوست کی بات کا تو اعتبار کرتاہے اورخالق کوبھول جاتاہے۔خالق نے کہاہے کہ میں ہوں رزاق، بس سن لیتاہے مگررزاق تووہ دفتر کو مانتاہے،اپنی دکان کومانتاہے،اپنے ٹھیلے کو سمجھتاہے، اپنے کارخانے کوسمجھ بیٹھاہے۔سبب کے بغیربھی وہ مالک دے سکتاہے،یہ نہیں مانتا،تھوڑی سی تکلیف آجائے توآہ وزاری کرتاہے۔شکر کرناتو سیکھاہی نہیں مگرکوئی یاددہانی کرائے توبہت کم شکراداکرتاہے اورشکوہ شکایت بے پناہ۔ کسی حال میں بھی توخوش نہیں ہے یہ۔سمجھتاہے کہ بہت داناہے بینا ہے لیکن کہاں ہے دانا،کہاں ہے بینا!تھڑدلاہے،بے ہمت اورجلداکتاجانے والا‘ بندے تووہ ہیں جوخالق پرایسا یقین رکھیں جیسے کہ صبح سورج کے نکلنے کا،رات کوچاندتاروں کا۔ایسایقین رکھنے والاہی توبندہ کہلانے کامستحق ہے۔یہ بندہ کہلاناکوئی معمولی بات نہیں۔رب کوخوش رکھناہے تو بندے بنو،رب نے جوکہہ دیااس پرایسایقین کرلوکہ پھرتمہیں کوئی خدشہ نہ ستائے۔رب نے کہہ دیاتوبس یہ ہوکررہے گا۔سورج توہوسکتاہے کل نہ طلوع ہو۔وہ بھی تومخلوق ہے ناں لیکن رب کی بات ہے اٹل،رب کاوعدہ ہے سچا۔بس وہی ہے خالق ومالک،کھلانے والاپالن ہار۔
 
انسان کوکیاہوگیا،بس اکیلے ہی ہرشے چٹ کرناچاہتاہے،کیاہوگیاہے اسے!کبھی مرغی کودیکھا ہے تم نے،دانادنکاچگنے کے بعدپانی پیتے ہوئے۔ جو دیکھنا چاہیے وہ تم دیکھتے نہیں ہو،جونہیں دیکھنااسے آنکھیں پھاڑکردیکھتے ہو۔دیکھو کبھی مرغی کوپانی پیتے ہوئی،ہرقطرہ پرسراٹھاکرآسمان تکتی ہے،شکربجالاتی ہے۔اپنے رب کاشکراورجب سیرہوجائے توپانی کے کٹورے کو پیر مار کر گرادیتی ہے،دوسرے وقت کیلئے نہیں رکھتی۔تم سے تویہ مرغی زیادہ شکرگزار ہے تم ہیں کیا ہوگیاہے؟کیوں نہیں سمجھتے،کب سمجھوگے۔یہ وقت توگزررہا ہے، پہچا نو خودکو، اپنے مالک کو‘رحم کرومخلوق پر۔حرصِ قبیح چھوڑدو، مل بانٹ کے کھا۔ اکیلے توتم کچھ نہیں کھا سکو گے ، سب فتنہ ہے۔مال بھی فتنہ،غربت بھی۔رب کوپہچانو،فلاح پا جاؤگے لیکن بندہ توحرص قبیح میں مبتلاہے،ہاں رب کومطلوب توحرص ہی ہے لیکن ایسی حرص نہیں جولوگوں کوآزارپہنچائے۔یہ حرص نہیں یہ توحرصِ غلیظہ ہے، کتے والی حرص ہے۔کبھی کتے کو دیکھو،اسے اگرکہیں سالم ثابت مردارگائے مل جائے توبس وہ اسے اکیلاہی چٹ کرناچاہتاہے۔کبھی موقع ملے تو ذرااس منظر کودیکھو۔وہ دوسرے کتوں کوآگے بڑھنے ہی نہیں دیتا اورخودساری گائے کھابھی نہیں سکتا۔باقی سارے اسے تکتے رہتے ہیں لیکن جب کتے کاپیٹ بھرجائے تو وہ بھی باقی گائے کوکہیں دوسرے وقت کے لیے چھپاکرنہیں رکھتا، دوسروں کیلئے چھوڑدیتاہے۔ کتاحریص ہے لیکن انسان‘ یہ تواب کتوں سے بھی بازی لے گیا،خودہی سب کچھ کھاناچاہتاہے۔سنبھال سنبھال کررکھتاہے باقی محروم رہتے ہیں۔ کوابھی بہت حریص ہوتاہے بہت زیادہ لیکن کہیں ایک چھوٹاسابھی ٹکڑامل جائے توکائیں کائیں کرکے آسمان سرپراٹھالیتاہے۔وہ منادی کرتارہتاہے دوسرے کووں کوبلاتاہے کہ آیہ ٹکڑا مل گیاہے،اسے بانٹ کرکھائیں اوروہ سب اسے مل بانٹ کرکھاتے ہیں۔
کس کی یہ آرزونہیں،تمنانہیں،تڑپ اورکسک نہیں کہ میں سفرحیات کی شاہراہ پرجواَن دیکھے گڑھوں، انجانی کھائیوں،ان دیکھی بلائوں،انجانی ابتلائوں،ان دیکھے نشیب وفرازسے گھری ہوئی ہے،آگے ہی آگے بڑھتے جائوں‘آگے ہی آگے شاداں وفرحان اپنی مخصوص منزل کی طرف مزیدبڑھتاجائوں اوریہ سفر نہایت ہی قلیل عرصے اورانتہائی کم وقت میں طے کر پائوں مگروائے حسرت  ان دیکھی بلائیں اورانجانی ابتلائیں بیچ منجھدارمیں اس شاہراہِ حیات کے مسافر کو اتنی بے دردی اوربے رحمی کے ساتھ دبوچ لیتی ہیں کہ اس کے حسین وجمیل خواب اورانتہائی نرم ونازک شیش محل چورچورہوجاتاہے اور بیچارہ مسافر پھٹی پھٹی آنکھوں سے کف افسوس ملتا رہتا ہے۔ بہت سے مسافردھڑام سے گرجاتے ہیں کہ ان کی ہمتیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں،ان کی قوتیں پاش پاش ہوجاتی ہیں، ان کی صلاحیت دم توڑدیتی ہیں اوروہ ہارے ہوئے، حالات کے پٹے ہوئے،قسمت کے مارے مسافرپھر اٹھنے اوراٹھ کرذرااس شاہراہ،شاہراہِ حیات پربڑھنے کایارااپنے اندرنہیں پاتے اوربیٹھنے اورسسک سسک کرجان دینے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔
ایسے لاڈلوں پرشاہراہِ حیات ہنستی ہے، زور زور سے ہنستی ہے بلکہ قہقہہ لگاتی ہے اورچلاچلاکر اسے بزدلوں،کم ہمتوں،نامرادوں جیسے ناموں سے مخاطب ہو کرکہتی ہے کہ ارے لاڈلو! تاریخ عالم کے اوراق الٹ لو،ان اوراق پرصرف اورصرف ان جواں مردوں، بہادروں، جیالوں،آہنی عزائم اورفولادی ارادوں کے مالک مسافروں ہی نے انمٹ نقوش ثبت کئے ہیں جنہوں نے گرنے ہی میں اٹھنے کارازپالیا،جنہوں نے ناکامیوں ہی میں کامیابیوں کی بشارتیں سن لیں،جنہوں نے اپنی بیچارگی اوربدقسمتی کے دامن ہی میں چارہ گری اور خوش بختی کے پھول پالئے،جنہوں نے ٹوٹے حوصلوں میں ہی فولادی عزائم کے گرسیکھے،جنہوں نے زمانے کے ظالم تھپیڑوں سے گرکرہی نئے عزم اورنئے ارادوں سے اٹھنے کافن سیکھ !اگرہمیں شاہراہِ حیات پرکامیابی کے ساتھ آگے بڑھنااورمنزل مقصودسے بغلگیرہوناہے توقرآن وحدیث ہی ہمارے لئے سرچشمہ حیات ہے۔اسی قرآن وحدیث نے ہمیں درس دیاہے کہ جتناجتنا خداسے ڈروگے اتناہی دنیا تم سے ڈرے گی۔جتنے خلوص کے ساتھ تم خداکے دین پرصبرواستقامت کاثبوت دوگے اتنے ہی التفات کے ساتھ خداتمہیں عزت وکامیابی سے ہمکنارکرے گا۔تم خداکے حضور جھکوگے، خدادنیا کو تمہاری  قدموں میں جھکادے گا۔جب ایک تنہا انسان محمدرسول اللہ ﷺنے پوری دنیا کے بالمقابل توحید کی دعوت پیش کی تھی توظاہری اسباب کی بناپرآخرکون گمان کرسکتاتھاکہ یہ دعوت مخالفت کے بڑے بڑے پہاڑوں کوریزہ ریزہ کردے گی لیکن دنیانے دیکھاکہ خدا پر بھروسہ کرنے والے صابر پیغمبر ﷺ کی استقامت نے ہرطوفانِ مخالفت کامنہ موڑدیااوروہی فضاجوتہہ برتہہ ظلمتوں کامسکن تھی نوروتابش سے جگمگاتی چلی گئی۔
کیایہ ہماری بدعملی اوربے عملی کانتیجہ ہے کہ امت مسلمہ کی ناطوفانی حالات اوردہشت گردی کے خلاف جنگ کے گہرے سمندرکے بیچ ہچکولے کھارہی ہے ؟  کتناہی اچھاہوتااگرہم میں ہرفردکماحقہ باعمل بننے کی سعی مشکورکرتاتوامت کی ناطوفانی حالات کاسینہ چیر کر کامرانی اورکامیابی کے ساتھ منزل سے جا لگتی۔کامیابی اورنجات کیلئے گناہ کااقرارہی کافی نہیں بلکہ توبہ کی صورت میں اعمال نیک کاصدورہی نجات کاضامن ہوتاہے۔غذاکی کتنی ہی نئی قسمیں ایجاد کرلی جائیں لیکن انہیں تناول کرنے کیلئے نئے منہ اورنئے دانتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔اسی طرح احوال وظروف کتنے ہی مختلف ہوں مگران سے عہدہ برآ ہونے کے لئے وہی پرانی صلاحتیں درکارہوں گی جنہوں نے کفروشرک کی فولادی قوتوں سے اپنالوہامنوایا تھا۔وہ اسلام جوایک خداکاخوف دے کرہردوسرے خوف سے بے نیازکر دیتا ہے، اس ترغیب کی ضرورت ہے۔بس ایسی ہی باتیں کرتے تھے وہ۔آج یادآئے توآپ کوبتادیا۔
سنا تو ہو گا تونے ایک انسانوں کی بستی ہے
جہاں جیتی ہوئی ہر چیز جینے کو ترستی ہے