07:46 am
یوم الفرقان

یوم الفرقان

07:46 am

قارئین!رمضان المبارک کے فضائل و برکات کی کوئی انتہا نہیں ہے۔اس لحاظ سے یوں تو رمضان کا ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن اسی رمضان المبارک میں مسلمانوں کو کئی ایسے انعامات بھی عطا ہوئے ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ رمضان میں ہی قرآن جیسی سب سے بڑی نعمت عطاہوئی اور رمضان میں ہی غزوۂ بدر کاوہ معرکۂ حق وباطل برپا ہوا جس میں مسلمانوں کو باطل کے خلاف وہ مثالی فتح حاصل ہوئی کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے برحق ثابت کر دیا اور کفر و شرک اور ظلم و استحصال پر مبنی باطل نظام ہائے زندگی سرنگوں ہو گئے۔بلا شبہ غزوۂ بدر  حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ، آپﷺ کی جدوجہد کا نہایت ہی اہم لینڈ مارک ہے۔ یہیں سے ان بڑے غزوات کا آغاز ہوا جن سے اسلام کو غلبہ عطا ہوا۔ تاہم قرآن مجید میںایک پوری سورت غزوۂ بدر کے موضوع پر ہے جو کہ 10رکوعات پر مشتمل ہے۔اس میں غزوۂ بدر کے حالات و واقعات بھی بیان ہوئے ہیں، اس پر تبصرہ بھی ہے اور اس سے راہنمائی کا بھی بہت سا سامان موجود ہے۔اس کے علاوہ جہاد و قتال کی اہمیت، فضیلت اور اس کی ضرورت کو بھی بہت احسن انداز میں باور کرایا گیا ہے۔  اسی سورۃ الانفال کی آیت39 میں یہ بھی حکم ہے: ’’اور (اے مسلمانو!)ان سے جنگ کرتے رہویہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین کل کا کل اللہ ہی کا ہو جائے۔‘‘
یہ واضح حکم نزول سے سے لے کر قیامت تک کے  تمام مسلمانوکے لیے ہے کہ باطل سے تمہاری یہ جنگ وقتی نہیں ہے کہ مدینہ کی ریاست میں آگئے تو اب خیرو عافیت سے رہو یا مکہ فتح کر لیا تو بس کام ختم۔ نہیں، بلکہ نبی اکرم ﷺ توکل روئے ارضی اورپوری انسانیت کے لیے آخری نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
 ’’وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول  ؐکو الہدیٰ اور دین حق دے کر تا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظامِ زندگی) پر‘خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔‘‘ (التوبہ:79)
آپ ﷺ کو دو چیزیں دے کر بھیجا گیا۔ (1)الھُدیٰ، (2) دین حق۔ الھُدیٰ وہ ہدایت ہے جس کی انسان کو دنیا کے اس امتحان میں کامیابی کے لیے سخت ضرورت ہے۔ وہ امتحان کیا ہے ؟ اس کے تقاضے کیا ہیں ؟ اس میں کامیابی کا راستہ کونسا ہے؟ اس کی مکمل وضاحت الھدیٰ یعنی قرآن حکیم میں موجود ہے اور اس کی تشریح حضور ﷺ کی سیرت طیبہ میں موجود ہے۔
 ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے ‘‘(الاحزاب:21)
چنانچہ یہ ہدایت پوری انسانیت کی ضرورت ہے۔
(2) دین حق :دین کہتے ہیں سچے، فطری اور حق پر مبنی نظام کو۔ایک دین ملک ہے یعنی بادشاہ کا نظام، ایک دین جمہورہے یعنی جمہوری نظام۔یہ دین جمہور ہے جسے آج ساری دنیا میں اختیار کیا گیا ہے اور دین جمہور کا مطلب ہے : اللہ سے بغاوت، کہ ہم کسی آسمانی وحی کو نہیں مانتے، اللہ کا نظام ہمیں نہیں چاہیے۔ ہم خود اپنی مرضی کا نظام بنائیں گے۔یعنی اپنے لیے خود دین تخلیق کریں گے۔جبکہ خالق کائنات نے اپنے بندوں کے لیے جو نظام اپنے آخری نبی رحمۃ للعالمین ﷺ کے ذریعے بھیجا ہے، وہ کامل دین ہے اور اسی کو اللہ نے پسند کیا ہے۔
’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیاہے اور تم پر اِتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا ‘اور تمہارے لیے میں نے پسند کر لیا ہے اسلام کو بحیثیت دین کے۔ ‘‘ (المائدہ)
یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی اور   احادیث میں ہے کہ جب یہود نے یہ آیت سنی ہے تو کہا کہ کاش! یہ آیت ہمیں عطا ہوتی۔یہود اس آیت کی  معنویت کو خوب سمجھتے تھے۔آج مسلمان اس آیت کو سن کر خوب سردھنتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا مرتبہ کتنا بلند ہے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی اصل معنویت کیا ہے۔ دین تو مکمل مل گیا مگر کیا اس کو نافذ و غالب کیے بغیر وہ مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے ؟ چنانچہ یہ کامل دین حضور نبی اکرم ْﷺ کو دے کر اس لیے بھیجا گیا کہ اس کو پوری دنیا میں تمام نظام ہائے زندگی پر غالب کر دیا جائے تاکہ دنیا سے فتنہ و فساد ختم ہو جائے۔
 فتنہ کیا ہے ؟قرآن کی رو سے فتنہ یہ ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے عدل وانصاف پر مبنی فطری نظام کی بجائے ظلم و استحصال پر مبنی باطل کا نظام قائم ہو۔یعنی اللہ کی حاکمیت کی بجائے کسی اور کی حاکمیت ہے تو فتنہ و فساد ہے،بغاوت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سب سے زیادہ مخالفت بھی یہ طبقہ کر رہا تھا یعنی سرداران قریش۔ باطل کے ان سرپرستوں کی سرکوبی کے لیے قرآن جہاد و قتال کو ضروری قرار دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن پر اعتراضات بھی ہوتے ہیں لیکن اصولی بات یہ ہے کہ جہاد وقتال کے بغیر صرف دعوت و تبلیغ سے نظام نہیں بدلا جا سکتا، عدل و انصاف قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے قرآن پوری حکمت عملی دیتاہے۔
’’ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان اُتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔اور ہم نے لوہا بھی اُتارا ہے ‘اس میں شدید جنگی صلاحیت ہے اور لوگوں کے لیے دوسری منفعتیں بھی ہیں۔اورتاکہ اللہ جان لے کہ کون مدد کرتا ہے اُس کی اور اُس کے رسولوں کی غیب میں ہونے کے باوجود۔یقینا اللہ بہت قوت والا‘ بہت زبردست ہے۔‘‘ (الحدید:25)
 اللہ چاہے تو آن واحد میں اپنے دین کو پوری دنیا پر نافذ کر دے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ ہمارا امتحان ہے اورجب حق و باطل کا معرکہ ہوتا ہے تو اس میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کون اللہ کا سچا وفادار ہے۔چنانچہ جہاد وقتال جہاں باطل نظاموں کے سرپرستوں کی سرکوبی کے لیے ضروری ہے وہیں پر اس سے مومنوں کی آزمائش بھی مطلوب ہے ۔ لہٰذا یہ حکم تاقیامت ہے ۔
(جاری ہے)

اور (اے مسلمانو!)ان سے جنگ کرتے رہویہاں تک کہ فتنہ (کفر) باقی نہ رہے اور دین کل کا کل اللہ ہی کا ہو جائے۔‘‘(الانفال۔۳۹)
لیکن جہاد و قتال کے لیے بعض بنیادی شرائط ہیں اور اس حوالے سے بھی حضور ﷺ کی سیرت طیبہ اُسوہ ٔ حسنہ ہے۔جب تک آپ کے پاس اتنی مین پاور نہ ہو کہ آپ اس نظام کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔اس وقت تک نہ صرف یہ کہ تلوار ہاتھ میں پکڑنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ ہاتھ اٹھانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ’’اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘‘ (النساء :77)
یہ مکی دور میں باقاعدہ حکم الٰہی تھا۔ یہاں تک کہ حضرت بلالؓ کے ساتھ کیا ہو ا، حضرت حبابؓ بن الارت کے ساتھ کیا ہوا لیکن اس کے باوجود ہاتھ تک اُٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ پھر جب مدینہ میں اوس و خزرج قبائل کی معاونت سے اتنی قوت میسر آگئی کہ باطل کو للکارا جا سکے تو پھر اجازت دے دی گئی۔
 ’’اب اجازت دی جا رہی ہے (قتال کی) ان لوگوں کو جن پر جنگ مسلط کی گئی ہے ‘اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیاہے۔‘‘(الحج۔۳۹)
پھر جب دو سالوں میں مواخات اور میثاق مدینہ کے بعد مدینہ ایک ریاست بن گئی تو باقاعدہ قتال کا حکم آگیا۔
 ’’(مسلمانو!) اب تم پر جنگ فرض کر دی گئی ہے اور وہ تمہیں گراں گزر رہی ہے۔‘‘ (البقرہ:216)
یعنی مسلمانوں کا کام صرف اتنا نہیں ہے کہ انہیں مدینہ میں پناہ مل گئی ہے تو بس اب آرام سے رہیں اور زیادہ سے زیادہ دعوت و تبلیغ کافریضہ نبھا لیں بلکہ اب ان پر باقاعدہ جنگ فرض کر دی گئی تاکہ باطل کے سرداروں کی سرکوبی ہو سکے اور اللہ کا دین قائم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے مواخات، مسجد نبوی کی تعمیر اور میثاق مدینہ جیسے ضروری اقدامات کے بعد باطل کے ساتھ ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ سب سے پہلے آپ ﷺ نے قریش کے تجارتی قافلوں کا تعاقب کرنے کے لیے اپنے عسکری دستے بھیجنے شروع کیے۔غزوہ ٔ بدر سے پہلے ایسی تقریباً 8مہمات میں سے4میں آپ ﷺ خود بھی شریک رہے۔ان مہمات کا مقصد قریش کو یہ احساس دلانا تھا کہ اب تمہارے قافلے محفوظ نہیں ہیں۔ایسی ہی ایک مہم میں مشرکین کا ایک آدمی مارا گیا۔ پھر جنگ بدر کا آخری سبب بھی ایسی ہی ایک مہم بنی جب آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ابوسفیان کے تجارتی قافلے کا تعاقب کیا۔یہ قافلہ اگر چہ مدبھیڑ سے تو بچ گیا لیکن ابو سفیان کو خطرے کا اتنا احساس ہوگیا کہ اس نے واپسی میں مکہ والوں کو پیغام بھیجاکہ قافلہ خطرے میں ہے لہٰذا مدد کے لیے آؤ۔ قافلے میں ایک ہزار اونٹ تقریباً 262کلو سونے کے برابرسامان تجارت سے لدے ہوئے تھے اور محافظ صرف چالیس تھے۔ آپ ﷺ اپنے 313ساتھیوں کے ہمراہ اس قافلے کے تعاقب میں نکلے، جب آپ ﷺ مقام سفراء میں پہنچے تو وحی نازل ہوئی کہ مکہ سے ایک لشکرتیار ہوکر مقابلے کے لیے نکل آیا ہے۔چنانچہ آپ ﷺ جنگ کے لیے تو نکلے ہی نہ تھے اور نہ اس کے لیے تیار تھے۔ صرف دو گھوڑے آپﷺ کے پاس تھے اور اونٹ اتنے تھے کہ ایک اونٹ پر تین سوار باری باری سوار ہوتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی منشاء اور تھی۔ 
’’جیسے کہ نکالا آپ کو(اے نبیﷺ) آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ‘ اور یقینا اہل ایمان میں سے کچھ لوگ اسے پسند نہیں کر رہے تھے۔‘‘
یعنی جب آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے خبر ملی کہ مکہ سے ایک لشکر مقابلے کے لیے نکل آیا  ہے، آپ چاہیں تو قافلے کی طرف جائیں یا لشکر کی طرف جائیں اللہ کا وعدہ ہے کہ آپ کو کامیابی دے گا تو آپ ﷺ نے صحابہ ؓسے مشور ہ کیا۔ صحابہؓ میں 63مہاجرین تھے اور باقی سب انصار تھے ۔ مہاجرین نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپؐ کہیں تو ہم اس لشکر سے لڑنے کے لیے بھی تیار ہیںلیکن حضور ﷺ خاص طور پر انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ انصار کے سردار سعد بن معاذ   ؓ کھڑے ہوئے اور کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ! آپؐ ہمیں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح نہ سمجھئے گا۔ آپ ﷺ جو حکم فرمائیں، ہماری جانیں بھی آپؐ کے لیے حاضر ہیں۔ البتہ بعض ایسے بھی تھے جو گھبرائے ہوئے تھے کیونکہ جنگی تیاری تو تھی نہیں۔ لہٰذا قرآن کا تبصرہ سورۃ الانفال میں یوں ہے :’’ وہ لوگ آپؐ سے جھگڑ رہے تھے حق کے بارے میں‘ اس کے بعد کہ بات( ان پر) بالکل واضح ہو چکی تھی‘‘
’’(وہ لوگ ایسے محسوس کر رہے تھے)جیسے انہیں موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہو اور وہ اسے دیکھ رہے ہوں۔‘‘
 ’’اور یاد کرو جبکہ اللہ وعدہ کر رہا تھا تم لوگوںسے کہ ان دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا‘‘
 ’’اور (اے مسلمانو! )تم یہ چاہتے تھے کہ جو بغیر کانٹے کے ہے وہ تمہارے ہاتھ آئے‘‘
 ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فیصلے کے ذریعے سے حق کا حق ہونا ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔‘‘
 ’’تا کہ سچا ثابت کر دے حق کو اور جھوٹاثابت کر دے باطل کو‘ خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘
یہ اللہ کا فیصلہ تھا کہ جنگ ہونی ہے اور حق کو باطل پر غالب کرنا ہے اس لیے حکمت کے تحت اللہ تعالیٰ نے صرف 313افراد پر مشتمل لشکر اسلام کو اپنے سے تین گنا بڑے لشکر پر فتح عطا کی۔ مشرکین کے پاس سو گھوڑوں کا رسالہ تھا جبکہ مسلمانوں کے پاس صرف دو ہی گھوڑے تھے،اس زمانے میںجنگی ساز و سامان میں سب سے زیادہ اہمیت گھوڑوں کے رسالے کی ہوتی تھی جس کے ذریعے دشمن پر اٹیک کیا جاتا تھا۔ اس کے پیچھے پیادہ فوج     پیش قدمی کرتی تھی۔گویا پوری جنگ گھوڑوں کے سر پر لڑی جاتی تھی اور یہاں مسلمانوں کے پاس صرف دو ہی گھوڑے تھے۔ یہ چونکہ جنگ کے لیے نکلے نہیں تھے اس لیے انہیں گھوڑوں کی ضرورت نہیں تھی ورنہ کیا مدینہ کے اندر دو ہی گھوڑے تھے،یہ تو ممکن ہی نہیں تھا اور بہت سے مسلمان تو صرف خالی ہاتھ ہی چلے آئے تھے کہ صرف چالیس افراد ہی تو ہیںجن کا مقابلہ کرنا ہے۔یہ تو کوئی مشکل بات تھی ہی نہیں۔لیکن اسی حالت میں ان کو کیل کانٹوں سے لیس اور ہر طرح سے تیار لشکر ِ کفار پر فتح دلانا قدرت کو مقصود تھی جس کے سپہ سالار ابو جہل نے اعلان کر رکھا تھاکہ جنگ کا دن یوم الفرقان ہوگا۔ یعنی جو جیت جائے گا ثابت ہو جائے گا کہ وہی حق پر ہے۔ گویا اسے اپنے لشکر پر پورا اعتماد تھا کہ ہم مٹھی بھر بے سرو سامان مسلمانوں کو کچل ڈالیں گے۔ پھر دوران جنگ وہ وقت بھی آیا جب جنگ میں تیزی آئی تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کردشمن کی صفوں کی طرف پھینک دی جس کی تاثیر تھی کہ دشمن بدحواس ہوگئے اور آنکھیں ملتے رہ گئے۔
’’اور جب آپؐ نے (ان پر کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ آپؐ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں‘‘
چنانچہ اللہ کی نصرت مسلمانوں کے شامل حال ہوئی، 70مشرکین ڈھیر ہوئے جبکہ دوسری طرف صرف 14صحابہؓ نے شہادت پائی۔ اتنے واضح فرق کے ساتھ اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور اس دن کوواقعی یوم الفرقان بنا دیا۔ 
یہ ہے نبوی مشن اور سیرت محمد مصطفی ﷺ جس کی تعلیم قرآن ہمیں دیتا ہے کہ دنیا میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اللہ کا دین باطل استحصالی نظام پر غالب کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے جہاد و قتال کا مرحلہ بھی آتا ہے۔اب اگر ہم اپنا دین بدل لیں یا اس دین کا کوئی نیا ایڈیشن پیش کرنے کے لیے کمربستہ ہو جائیں تو بات الگ ہے ورنہ اصل دین تو یہی ہے، یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی سیرت محمد مصطفیﷺ سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 



 

تازہ ترین خبریں