07:47 am
مودی کی واپسی، خدشات، امکانات

مودی کی واپسی، خدشات، امکانات

07:47 am

٭بھارت: مودی دوبارہ وزیراعظم، خدشات، امکاناتO فرشتہ مہمند قتل کیس، مقدمے گرفتاریاں، حکومت اور فوج کے خلاف مہمO سیکرٹری خزانہ تبدیلO چیئرمین نیب کے خلاف سکینڈل، وزیراعظم کا مشیر برطرف، نجی ٹیلی ویژن کی معذرت Oسشماشاہ محمود قریشی، ملاقات پر کانگرس برہم۔
 
٭بھارتی لوک سبھا کے انتخابات میں نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کے اتحاد، این ڈی اے، نے پچھلے انتخابات سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے خود پارٹی کو بھی حیران کر دیا ہے۔ 2014ء کے انتخابات میں بی جے پی کے اتحاد کو 336 نشستیں حاصل ہوئی تھیں، اس بار یہ تعداد 351 ہو گئی ہے۔بی جے پی کی اپنی 301 نشستیں ہیں۔ حکومت بنانے کے لئے 542 سیٹوں کے ایوان میں 272 سیٹیں درکار ہیں۔ بی جے پی اپنی 301 نشستوں کے ساتھ بھی کسی دوسری پارٹی کو ساتھ ملائے بغیر حکومت بنا سکتی ہے۔ اس کی اتحادی پارٹیوں شیوسینا کو 18 اور جے ڈی یو کو 16 ووٹ ملے۔ بی جے پی انتہا پسند ہندو پارٹی ہے جب کہ اس کی اتحادی پارٹیاں شوسینا وغیرہ اس سے زیادہ کٹڑ ہندو انتہا پسندانہ گروپ ہیں جو اعلانیہ ہندو راج لانے کے اعلانات کرتی رہتی ہیں۔ بی جے پی کے اتحاد نے انتخابات کے دوران جس انداز میں پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کیا، اس پر حملوں اور فتوحات کی مبالغہ آمیز داستانیں بیان کیں، اس پر ہندوئوں کی اکثریت خوش ہوتی رہی۔ اس سے نریندر مودی کو فائدہ پہنچناناگزیر تھا۔
اب یہ کہ پاکستان کے ساتھ مودی اور اس کی حکومت کا رویہ کیا ہو گا؟ اس پر عام طور پر پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور مسلسل حالات خراب رہنے کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ مودی اور اس کے بابری مسجد کو شہید کرنے والے ساتھیوںکا اب تک پاکستان کے ساتھ نہائت جنگی قسم کا جارحانہ رویہ رہا ہے۔ عام انتخابات میں پہلے سے زیادہ بڑی کامیابی سے مودی گروہ کی عصبیت اور پاکستان دشمنی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مگر، میں اہم بات کر رہا ہوں، میری طویل صحافتی زندگی کے تجربات اورشواہد کا ایک یہ پہلو بھی سامنے آ رہا ہے کہ بہت سے خدشات کے برعکس حالات مختلف شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔پاکستان کے خلاف مودی کی معاندانہ کارروائیاں بڑھ سکتی ہیں مگر ایک حد کے بعد اسے حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا پڑے گا۔ میںیہا ںایک اہم واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔
٭1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت کی سخت پاکستان دشمن وزیراعظم اندرا گاندھی حکمران تھی۔ مشرقی پاکستان پر بھارتی فوج کا قبضہ ہو چکا تھا اور پاکستان کے 90 ہزار فوجی اور شہری بھارت کی قید میں جا چکے تھے۔اندرا گاندھی کی رعونت کئی گنا بڑھ چکی تھی۔ وہ پاکستان کے جنگی قیدی چھوڑنے کے لئے نہائت ناقابل قبول شرائط پیش کر رہی تھی، تاہم بیرونی دبائو کے تحت اسے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ شملہ میں دو جولائی 1972ء کو مذاکرات ہوئے۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان تھے۔ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ شملہ گئے۔ اسلام آباد سے روانہ ہونے سے پہلے صحافیوں سمیت، وفد کے تمام ارکان کو سخت ہدایات جاری ہوئیں کہ بہت اچھے کپڑے پہن کر جانا ہے۔ بھارت میں کسی کے سامنے خود کو شکست خوردہ نہیں بلکہ پورے اعتماد اور باوقار، بارعب انداز میں دکھائی دینا ہے، بھارتیوں کے ساتھ بے تکلف نہیں ہونا، کسی کو جھک کر نہیںملنا، نہ ہی جھک کر سلام کرنا ہے۔ ان ہدایات کا یہ اثر ہوا کہ پاکستانی وفد اعلیٰ لباسوں کے ساتھ بارعب انداز میں بھارتی ہوائی اڈے سے اترا تو بھارتی صحافی دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کسی پاکستانی شخص کے چہرے پر شکست یا پریشانی وغیرہ کے کوئی آثار نہیں تھے۔ وہ بڑے وقار اور اعتماد کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اگلی داستان دلچسپ ہے۔ مذاکرات کے دوران ذوالفقار علی بھٹو پلنگ کی بجائے فرش پر سوئے۔ ان کا اعلان تھا کہ پاکستانی قیدیوں کی رہائی تک فرش پر سوئوں گا۔ پاکستان اور بھارت کے وفود میں تین روز تک مذاکرات ہوتے رہے۔ دونوں طرف بے لچک رویہ اختیار کیا گیا۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو کوئی رعائت دینے کو تیار نہ تھے۔ اندراگاندھی کی رعونت نریندر مودی کی رعونت سے بہت آگے جا چکی تھی۔ بالآخر تیسرے روز مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کر دیا گیا۔ پاکستانی وفد کے ارکان کو فوری واپسی کی ہدایات مل گئیں۔ انہوں نے واپسی کے لئے سامان باندھ لیا۔ دنیا بھر میں خبر جاری ہو گئی کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ ناکامی کی خبریںتیار کر لیں۔ رات کے تقریبا ساڑھے بارہ بج چکے تھے، اخبارات پریس میں جا رہے تھے کہ اچانک ہنگامی اطلاع آ گئی کہ ناکامی کی خبر روک دی جائے، مذاکرات پھر شروع ہو رہے ہیں، نتیجے کاانتظار کیا جائے۔ ہوا یوں کہ پاکستان کا وفد ہوائی اڈے پرجانے کے لئے بسوں میں بیٹھ چکا تھا۔ اندرا گاندھی بھی دہلی واپسی کی تیاری کر رہی تھی کہ اسے بتایا گیا کہ بھٹو اس سے کوئی بات کرنے کے لئے آئے ہیں۔ اندرا سمجھی کہ بس رخصت ہونے کی بات کرنا ہو گی۔ مگر بھٹو نے کہا کہ میں تم سے علیحدگی میں چند منٹ بات کرنے آیا ہوں۔ اندرا مان گئی۔ دونوں ساتھ والے کمرے میں چلے گئے۔ بھٹو نے (بھٹو کی زبانی) اندرا گاندھی سے کہا کہ ’’دیکھو، مذاکرات ہوتے رہیں گے، کبھی نہ کبھی کوئی نتیجہ بھی نکل ہی آئے گا۔ میں یہ صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم دونوں تاریخ میں دلیرانہ فیصلہ کرنے والے قومی رہنمائوں کے طور پر پہچانے جائیں۔ ہمیں قدرت نے کروڑوں افراد کے مصائب ختم کرنے کا موقع دیا ہے۔ آیئے جرأت کا مظاہرہ کر کے تاریخ ساز فیصلے کر جائیں۔‘‘ اندراگاندھی کی سمجھ میں بات آ گئی۔ دونوں ملکوں کے اخبارات کو فوری ہدایات جاری ہو گئیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ اس رات اخبارات بہت دیرتک رکے رہے اور…پھر کچھ دیر کے بعد اخبارات کے ٹیلی پرنٹروں میں ہنگامی گھنٹیاں بجنے لگیں کہ معاہدہ ہو گیا ہے!
قارئین کرام! میں نے یہ طویل داستان اس لئے لکھی ہے کہ کوئی حکمران کتنا ہی سخت اور بے لچک انتہا پسندانہ رویہ کیوں نہ رکھتا ہو، اسے کسی نہ کسی وقت حالات کے جبر کے سامنے سرنگوں ہونا پڑتا ہے۔ اندراگاندھی بہت جابر، سخت اور تُند خُو مزاج کی عورت تھی۔ خود بھارت میں کچھ مخالف حلقے اسے سرخ زبان والی کالی ماتا قرار دیتے تھے۔ وہ فاتح تھی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اس کا دماغ انتہائی رعونت کے ساتھ آسمان پرپہنچا ہوا تھا، مگر اسے حالات کے جبر کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا۔ نریندر مودی تو اندراگاندھی کے سامنے کچھ بھی نہیں! اسے ایک روز صلح اورامن کی راہ راست پر آنا ہی پڑے گا! میرے پاس اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ ایک ہی کافی ہے۔ میرا تجربہ کہہ رہا ہے کہ موجودہ خاص حالات میں کہ پاکستان زبردست ایٹمی طاقت بن چکا ہے، آسام کے آخر تک پورا بھارت اس کے نہائت تیز رفتار میزائلوں کی زد میں ہے، نریندر مودی کسی غیر معمولی مہم جوئی کی حماقت نہیں کرے گا۔ البتہ اس کی آئندہ پانچ سال کی حکمرانی کے دوران بہت سے حیرت انگیز ڈرامائی واقعات کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے!
٭ملک کے نامور ادیب و ناشر ملک مقبول الٰہی 89 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔26  ادبی کتابیں لکھیں، چھ تالیف کیں۔ ایک کتاب ’’پاکستان کے 150 مشاہیر ادب‘‘ نے بہت شہرت حاصل کی۔ یہ ملک کی ادبی تاریخ کی نادر قسم کی دستاویز ہے۔ انہوں نے کتابیں چھاپنے کا کام شروع کیا۔ مشہور مقبول اکیڈمی قائم کی۔ اسے ملک کا بہت بڑا ادارہ بنا دیا۔ بہت شریف النفس، حلیم الطبع، وضع دار، عظیم انسان تھے، سینکڑوں اہم کتابیں شائع کیں۔ کچھ عرصہ سے بہت علیل تھے۔ خدا تعالیٰ مغفرت فرمائے! 

تازہ ترین خبریں