10:05 am
بی جے پی کی جیت او ر کانگرسی شکست

بی جے پی کی جیت او ر کانگرسی شکست

10:05 am

پہلا مطالعہ کہ ‘ راہول اور پریانیکا گاندھی کی سیاسی موروثیت پر مبنی کانگرس سیاست کو حالیہ بھارتی انتخابات میں شکست فاش ہوگئی ہے۔ رائٹر نے اپنا تجزیاتی جو موقف دیا ہے اس کی روشنی میں بھارت میں دو ٹوک انداز میں وزرائے اعظم خاندان کی طویل قابل فخر کہانی کا انجام ناقابل یقین حد تک بہت برا سامنے آیا ہے۔ بی جے پی کو 300 جبکہ کانگریس کو صرف 49 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ یہ ابتدائی خاکہ ہے ممکن ہے مکمل صورتحال کچھ جزوی طور پر تبدیل ہو جائے۔ اترپردیش  سب سے بڑا صوبہ ہے جس میں80 سیٹوں میں سے واضح اکثریت بی جے پی لے گئی ہے حتی کہ امیٹھی کی خاندانی سیٹ سے بھی راہول ہار گئے ہیں البتہ جنوبی بھارت میں وہ ایک ایسے حلقے سے ضرور جیت گئے ہیں جہاں مسلمان ووٹ نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ گویا جس سیٹ سے راہول جیتے ہیں اس میں مسلمان ووٹ نے واضح کردار اداکیا ہے۔   تجزیہ ہے کانگریس میں بغاوت کی صورتحال ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ قیادت کی بالائی شخصیات نوجوانوں کے لئے جگہ خالی کر دے۔ یہ اشارہ راہول کی طرف ہے کہ وہ اب پارٹی قیادت سے الگ ہو جائے۔
 
اب بھارتی عوام نے یہ تاریخی اشرافیہ موروثیت دفن کر دی ہے۔ لہٰذا کانگریس کو اب مورثیت اور اشرافیہ حیثیت کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔ راہول نے اپنی شکست کو تسلیم کرلیا ہے۔  کانگریس وزیراعظم مودی کے نیشنل سیکورٹی سیاسی استعمال کا توڑ تلاش کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ کشمیر میں (پلوامہ) جو خودکش حملہ ہوا‘ پویس ے 40 افراد قتل ہوگئے‘ اس معاملے کو بی جے پی نے بہت مہارت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ گزشتہ  سال کانگرس میں امید اور ہمت پیدا ہوگئی تھی کہ وہ مودی کو منظر سے ہٹانے کی مہم سر کرلے گی کیونکہ تین صوبوں میں کانگرس کو جیت ملی جبکہ مودی کی حکمران پارٹی کو شکست ملی تھی۔ کانگرس  اس اپنی جزوی فتح کو برقرار نہ رکھ سکی بلکہ کانگرس نے خود کو پبلسٹی کے لئے وقف کیے رکھا۔ یعنی علاقائی جوڑ توڑ میں خود کو مصروف نہ کیا۔ لہٰذا علاقائی طور پر مطلوب مضبوط اتحاد بھی کانگرس نہ بناسکی۔ ایک اور پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ 66  سالہ آنند شرما اور دیگر قائدین میں شدید اختلافات موجود رہے ہیں یہ بات دو پارٹی رہنمائوں نے کہی ہے جبکہ آنند شرما اس الزام کو مسترد کرتے ہیں ان کا موقف ہے انتخابی مہم میں ہرگز تاخیر نہیں ہوئی جیسا کہ ان کے حوالے سے کہا جارہا ہے۔راجھستان جہاں گزشتہ سال کانگرس جیت گئی تھی اس کے لئے68 سالہ اشوک گہلوٹ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا جبکہ 41 سالہ سیاچین پائلٹ کو ہونا چاہیے تھا ۔ لہٰذا اشوک گہلوٹ کا وزیر اعلیٰ بننا راجھستان میں کانگریسی شکست کا باعث بن گیا۔ اب راجھستان میں بی جے پی  دوبارہ جیت رہی ہے۔
غیر ملکی ایجنسی نے مودی اور بی جے پی کی جیت میں امیت شاہ کو بنیادی مدبرانہ تخلیق کار کے طور پر پیش کیا ہے۔ امیت شاہ جو گجرات سے مودی کی طرح تعلق رکھتے ہیں موجودہ انتخابی مہم کی تخلیق امیت شاہ نے کی ہے جبکہ د سمبر میں تین ریاستوں میں بی جے پی کی شکست کا ازالہ کرنے کا مشکل کا بھی امیت شاہ کا ہے۔ زراعت سے وابستہ  زمینداروں کی آدن کی کمی اور نوجانوں کے لئے ملازمتوں کے فقدان کے الزامات کا توڑ امیت شاہ نے تخلیق کیا کہ اپوزیشن یہ الزامات لگاکر اصل میں پاکستان اور اقلیتی مسلمان گروہ کی ایجنٹ بن گئی ہے۔ امیت شاہ کا یہ سیاسی انداز کام کر گیا اور کانگرس اس الزام کے حوالے سے پٹ گئی۔ مودی کا  سیاسی اتحاد2014 سے بھی زیادہ انتخابی کامیابی حاصل کرگیا ہے۔ شاہ کی حکمت عملی مشرق میں جیت گئی اور شمالی پٹی میں بھی۔ اب اس  کامیابی پر امیت شاہ کو کافی مضبوط عہدہ ملے گا۔ ممکن ہے وزات داخلہ کا منصب تاکہ سیکورٹی فورسز کے اختیارات کو منظم طور پر استعمال کیا جاسکے جس میں انٹیلی جنس بھی شامل ہے۔ امیت شاہ سخت گیر ہندو ازم کردا ر ہے اور گجرات سے بھی ہے۔امیت شاہ نے گزشتہ ایک سال سے مغربی بنگال پر منفی پروپیگنڈہ مہم مخصوصی کی ہوئی تھی چونکہ مغربی بنگال کے مسلمان بی جے پی کے مخالف تھے لہٰذا اس نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کے مسلمانوں کو بنگلہ دیش کے ذریعے آنے والے مالی سے اور مولویوں کے ذریعے خریدا جاتا ہے۔ دینی مدارس کی مالی مد د بھی اسی لئے موجود ہے اور یہ معاملات ملکی سلامتی اور اکثریتی سوچ کے خلاف ہیں۔ یوں امیت شاہ نے بنگالی ووٹوں کا توڑ تلاش کیا۔ گزشتہ ماہ تیزی سے امیت شاہ نے مہم چلائی کہ شہریت کو ازسر نو منظم کیا جائے گا وہ صرف سندھ‘ بدھ مت‘ سکھوں کو ہی جو بنگلہ دیش‘ افغانستان‘ پاکستان سے آئیں گے انہی کو شہرت ملے گی۔ گویا بنگالی مسلمانوں کے لئے دو ٹوک شہرت سے انکار۔ یہ سیاسی حربہ کامیاب رہا اور ہندو ووٹ بی جے پی کو اکٹھا مل گیا۔ امیت شاہ نے 161 جلسہ عام سے خطاب کے لئے150,000 کلومیٹر کا طوفانی سفر کیا۔ امیت شاہ اور مودی گزشتہ تیس سال سے یک جان دو قالب ہیں ان میں باہمی اعتماد بھرپور ہے۔2025 ء میں مودی75سال کے ہو جائیں گے تب امیت شاہ مودی کے سخت گیر ہندو سیاسی کردار کے طو ر پر وارث اور جانشین بن جائیں گے۔
پس تحریر: مئی کا مہینہ تاریخی طور پر پاک بھارت کشمکش کا رہا ہے۔28مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکے ہوئے۔ اب26 مئی کو وزیراعظم مودی تاریخ کے مسلمان دشمن اور پاکستان دشمن کے طور پر مضبوط ترین حکمران بن رہے ہیں۔ اہل پاکستان اپنی ریاست اور فوج کے ساتھ کھڑے ہوں۔