10:06 am
یوم الفرقان

یوم الفرقان

10:06 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اور (اے مسلمانو!)ان سے جنگ کرتے رہویہاں تک کہ فتنہ (کفر) باقی نہ رہے اور دین کل کا کل اللہ ہی کا ہو جائے۔‘‘(الانفال۔۳۹)
لیکن جہاد و قتال کے لیے بعض بنیادی شرائط ہیں اور اس حوالے سے بھی حضور ﷺ کی سیرت طیبہ اُسوہ ٔ حسنہ ہے۔جب تک آپ کے پاس اتنی مین پاور نہ ہو کہ آپ اس نظام کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔اس وقت تک نہ صرف یہ کہ تلوار ہاتھ میں پکڑنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ ہاتھ اٹھانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ’’اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘‘ (النساء :77)
یہ مکی دور میں باقاعدہ حکم الٰہی تھا۔ یہاں تک کہ حضرت بلالؓ کے ساتھ کیا ہو ا، حضرت حبابؓ بن الارت کے ساتھ کیا ہوا لیکن اس کے باوجود ہاتھ تک اُٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ پھر جب مدینہ میں اوس و خزرج قبائل کی معاونت سے اتنی قوت میسر آگئی کہ باطل کو للکارا جا سکے تو پھر اجازت دے دی گئی۔
 ’’اب اجازت دی جا رہی ہے (قتال کی) ان لوگوں کو جن پر جنگ مسلط کی گئی ہے ‘اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیاہے۔‘‘(الحج۔۳۹)
پھر جب دو سالوں میں مواخات اور میثاق مدینہ کے بعد مدینہ ایک ریاست بن گئی تو باقاعدہ قتال کا حکم آگیا۔
 ’’(مسلمانو!) اب تم پر جنگ فرض کر دی گئی ہے اور وہ تمہیں گراں گزر رہی ہے۔‘‘ (البقرہ:216)
یعنی مسلمانوں کا کام صرف اتنا نہیں ہے کہ انہیں مدینہ میں پناہ مل گئی ہے تو بس اب آرام سے رہیں اور زیادہ سے زیادہ دعوت و تبلیغ کافریضہ نبھا لیں بلکہ اب ان پر باقاعدہ جنگ فرض کر دی گئی تاکہ باطل کے سرداروں کی سرکوبی ہو سکے اور اللہ کا دین قائم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے مواخات، مسجد نبوی کی تعمیر اور میثاق مدینہ جیسے ضروری اقدامات کے بعد باطل کے ساتھ ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔ پھر جنگ بدر کا آخری سبب بھی ایسی ہی ایک مہم بنی جب آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ابوسفیان کے تجارتی قافلے کا تعاقب کیا۔یہ قافلہ اگر چہ مدبھیڑ سے تو بچ گیا لیکن ابو سفیان کو خطرے کا اتنا احساس ہوگیا کہ اس نے واپسی میں مکہ والوں کو پیغام بھیجاکہ قافلہ خطرے میں ہے لہٰذا مدد کے لیے آؤ۔ قافلے میں ایک ہزار اونٹ تقریباً 262کلو سونے کے برابرسامان تجارت سے لدے ہوئے تھے اور محافظ صرف چالیس تھے۔ آپ ﷺ اپنے 313ساتھیوں کے ہمراہ اس قافلے کے تعاقب میں نکلے، جب آپ ﷺ مقام سفراء میں پہنچے تو وحی نازل ہوئی کہ مکہ سے ایک لشکرتیار ہوکر مقابلے کے لیے نکل آیا ہے۔چنانچہ آپ ﷺ جنگ کے لیے تو نکلے ہی نہ تھے اور نہ اس کے لیے تیار تھے۔ صرف دو گھوڑے آپﷺ کے پاس تھے اور اونٹ اتنے تھے کہ ایک اونٹ پر تین سوار باری باری سوار ہوتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی منشاء اور تھی۔ 
’’جیسے کہ نکالا آپ کو(اے نبیﷺ) آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ‘ اور یقینا اہل ایمان میں سے کچھ لوگ اسے پسند نہیں کر رہے تھے۔‘‘
یعنی جب آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے خبر ملی کہ مکہ سے ایک لشکر مقابلے کے لیے نکل آیا  ہے، آپ چاہیں تو قافلے کی طرف جائیں یا لشکر کی طرف جائیں اللہ کا وعدہ ہے کہ آپ کو کامیابی دے گا تو آپ ﷺ نے صحابہ ؓسے مشور ہ کیا۔ صحابہؓ میں 63مہاجرین تھے اور باقی سب انصار تھے ۔ مہاجرین نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپؐ کہیں تو ہم اس لشکر سے لڑنے کے لیے بھی تیار ہیںلیکن حضور ﷺ خاص طور پر انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ انصار کے سردار سعد بن معاذ   ؓ کھڑے ہوئے اور کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ! آپؐ ہمیں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح نہ سمجھئے گا۔ آپ ﷺ جو حکم فرمائیں، ہماری جانیں بھی آپؐ کے لیے حاضر ہیں۔ البتہ بعض ایسے بھی تھے جو گھبرائے ہوئے تھے کیونکہ جنگی تیاری تو تھی نہیں۔ لہٰذا قرآن کا تبصرہ سورۃ الانفال میں یوں ہے :’’ وہ لوگ آپؐ سے جھگڑ رہے تھے حق کے بارے میں‘ اس کے بعد کہ بات( ان پر) بالکل واضح ہو چکی تھی‘‘
 ’’اور یاد کرو جبکہ اللہ وعدہ کر رہا تھا تم لوگوںسے کہ ان دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا‘‘
 ’’اور (اے مسلمانو! )تم یہ چاہتے تھے کہ جو بغیر کانٹے کے ہے وہ تمہارے ہاتھ آئے‘‘
 ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فیصلے کے ذریعے سے حق کا حق ہونا ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔‘‘
 ’’تا کہ سچا ثابت کر دے حق کو اور جھوٹاثابت کر دے باطل کو‘ خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘
یہ اللہ کا فیصلہ تھا کہ جنگ ہونی ہے اور حق کو باطل پر غالب کرنا ہے اس لیے حکمت کے تحت اللہ تعالیٰ نے صرف 313افراد پر مشتمل لشکر اسلام کو اپنے سے تین گنا بڑے لشکر پر فتح عطا کی۔ مشرکین کے پاس سو گھوڑوں کا رسالہ تھا جبکہ مسلمانوں کے پاس صرف دو ہی گھوڑے تھے،اس زمانے میںجنگی ساز و سامان میں سب سے زیادہ اہمیت گھوڑوں کے رسالے کی ہوتی تھی جس کے ذریعے دشمن پر اٹیک کیا جاتا تھا۔ اس کے پیچھے پیادہ فوج     پیش قدمی کرتی تھی۔گویا پوری جنگ گھوڑوں کے سر پر لڑی جاتی تھی اور یہاں مسلمانوں کے پاس صرف دو ہی گھوڑے تھے۔ یہ چونکہ جنگ کے لیے نکلے نہیں تھے اس لیے انہیں گھوڑوں کی ضرورت نہیں تھی ورنہ کیا مدینہ کے اندر دو ہی گھوڑے تھے،یہ تو ممکن ہی نہیں تھا اور بہت سے مسلمان تو صرف خالی ہاتھ ہی چلے آئے تھے کہ صرف چالیس افراد ہی تو ہیںجن کا مقابلہ کرنا ہے۔یہ تو کوئی مشکل بات تھی ہی نہیں۔لیکن اسی حالت میں ان کو کیل کانٹوں سے لیس اور ہر طرح سے تیار لشکر ِ کفار پر فتح دلانا قدرت کو مقصود تھی جس کے سپہ سالار ابو جہل نے اعلان کر رکھا تھاکہ جنگ کا دن یوم الفرقان ہوگا۔ یعنی جو جیت جائے گا ثابت ہو جائے گا کہ وہی حق پر ہے۔ 
چنانچہ اللہ کی نصرت مسلمانوں کے شامل حال ہوئی، 70مشرکین ڈھیر ہوئے جبکہ دوسری طرف صرف 14صحابہؓ نے شہادت پائی۔ اتنے واضح فرق کے ساتھ اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور اس دن کوواقعی یوم الفرقان بنا دیا۔