10:07 am
 دہشت گردی کا سراغ  

 دہشت گردی کا سراغ  

10:07 am

8مئی کو لاہور میں داتا دربار کے نزدیک حملے میں 10افراد جاں بحق ہوئے، جن میں پانچ  پولیس اہل کار شامل تھے جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ ایک نوجوان نے مزار کے قریب خود کو  دھماکے سے اُڑا لیا۔ اس دھماکے کے بعد غیر ملکی میڈیا میں بدنیتی کے ساتھ  اس پر کئی تبصرے سامنے آئے۔ مثلاً گلف نیوز ایشیا آن لائن کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر اشفاق احمد نے پاکستان کو مشورہ دیا ’’ پاکستان کو خود کُش دھماکوں اور نچلی سطح پر پھیلنے والی عسکریت کو روکنے کے لیے اپنی پالیسی پر از سر نو غور کرنا ہوگا۔‘‘ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے  انسداد دہشت گردی کا مقابلے کے لیے باصلاحیت فورس تشکیل دینے میں مصروف ہے جو نہ صرف تفتیش و تحقیق کے جدید اور سائنسی طریقوں کے استعمال کے قابل ہے بلکہ انہی خطوط پر تجزیہ کرکے دہشت گردی کے نیٹ ورک اور اسے چلانے والوں تک پہنچنے کے قابل بھی ہے، مذکورہ بالا تبصروں اور تجاویز  میں سوچ سمجھ کر یا انجانے میں پاکستان کی ان تمام کوششوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہماری سیکیورٹی اداروں کی حالیہ کام یابیاں ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا  ثبوت ہیں۔ داتا دربار پر ہونے والے حملے کے بعد دو ہفتے کے اندر اہم سراغ حاصل کیا گیا۔ 
 
سی ٹی ڈی اور آئی بی نے داتا دربار خود کُش حملے کا کیس حل کرکے اپنی اہلیت  تسلیم کروائی ہے۔ ان دونوں اداروں کی جوائنٹ آپریشن ٹیموں نے تمام دستیاب ذرائع اور مزار کے ارد گرد پوچھ گچھ کرکے ذمے داران تک رسائی حاصل کی۔  دو اداروں کا اس انداز میں باہمی تعاون کوئی آسان بات نہیں اس کے لیے بہت محنت درکار ہوتی ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں معلوم ہوسکا کہ  دہشت گردی کی اس کارروائی کی ذمے دار کالعدم ٹی ٹی پی کی ذیلی تنظیم حزب الاحرار ہے جو پہلے   اس واقعے کی ذمے داری بھی قبول کرچکی۔   مزید یہ کہ جائے وقوعہ سے جمع کئے گئے شواہد سے بمبار کی شناخت اور دھماکا خیز مواد کی مقدار بھی معلوم کرلی گئی۔ حاصل شدہ معلومات کے مطابق خود کُش حملہ صادق اﷲ مومند نامی ایک افغان شہری نے کیا ہے جو 6مئی کو ہونے والے حملے سے دو روز قبل طورخم کے راستے  پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ وہاں سے اسے ایک  پاکستانی اور مہمند ضلع کا رہائشی  طیب اﷲ عرف راکی  لاہور تک لے کر آیا۔ 
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ یہ دونوں لاہور میں محسن خان نامی شخص کے ہاں ٹھہرے جو یہاں ان کا رابطہ کار تھا، اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ محسن خان ولد بہرام خان شب قدر چار سدہ کا رہنے والا ہے، کچھ عرصہ قبل مزدورں کے بھیس میں لاہور آیا اور بھاٹی گیٹ کے قریب کرائے پر کمرہ حاصل کیا۔  محسن کے کمرے سے تفتیش کاروں نے دھماکا خیز مواد، گرینیڈ، ڈیٹونیٹر برآمد کیے۔ یہ بھی پتا لگا کہ دھماکہ خیز مواد اور  خودکُش جیکٹ ایم پی تھری پلیئرز کے اندر چھپا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاتے تھے۔ محسن خان کی گرفتاری سے لاہور میں حزب الاحرار کے نیٹ ورک سے متعلق اہم معلومات ملیں گی اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے ان کے ممکنہ روابط کے بارے میں بھی اہم تفصیلات حاصل کی جاسکیں گی۔ سی ٹی ڈی اور آئی بی نے طیب اﷲ کی گرفتاری کے لیے پورے ملک میں غیر معمولی انداز سے کارروائیوں کا آغاز کررکھا ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی وہ ان کے شکنجے میں ہوگا۔ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ ابھی تفتیش بتدریج آگے بڑھ رہی ہے لیکن مکمل کام یابی تاحال دور ہے۔ 
اس معاملے سے ایک اہم ثبوت سامنے آیا ہے۔ خودکُش بمبار افغانستان سے آیا یعنی افغانستان صرف پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں ملوث ہے بلکہ افغان انٹیلی جینس ایجنسی ’’خاد‘‘ پاکستانی دہشت گردوں کے اہل خانہ کو پناہ فراہم کرتی ہے تاکہ وہ ان کی حفاظت سے بے فکر ہوکر پاکستان میں خوں ریزی کرتے رہیں۔ خاد کی پشت پر بھارتی خفیہ ادارہ ’’را‘‘ ہے۔ 
اس سے قطع نظر کہ صادق اﷲ بنیادی طور پر افغان ہے یا پاکستانی مہمند، پڑوسی ملک سے پاکستان آیا جو اس وقت پاکستان کو ’’دہشت گردی کی معاونت‘‘ کے لیے مورد الزام ٹھہرا رہا تھا۔  یہی وجہ ہے کہ تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر مجبوراً باڑ لگا رہا ہے۔ افغانوں کی جانب اس کی شدید مخالفت کی جارہی ہے جب کہ اس منصوبے پر کام کرتے ہوئے ہمارے کئی فوجی اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ صادق اﷲ طورخم کے ذریعے اس لیے آیا کے باقی راستے پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ طور خم میں اسے اپنی شناخت ظاہر کرنی پڑی اور اندراج بھی کروایا۔ یہی وجہ تھی کہ  اس سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں مدد ملی۔ 
اس میں شبہ نہیں کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی پاکستان کے لیے بڑے مسائل ہیں لیکن کم از کم یہ بات تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان نے اس خطرے کا ادراک کرکے اس کے حل پر کام شروع کر رکھا ہے۔ گلف نیوز ایشیا کو ’’گڈ‘‘ اور ’’بیڈ‘‘ طالبان کے گھسے پٹے زاویے سے اس صورت حال کو دیکھنے کے بجائے پاکستان میں افغانستان اور بھارت کی مدد سے ہونے والی دہشت گردی پر کھل کر بات کرنا چاہیے۔ افغانستان ہمارا ایک کمزور پڑوسی ہے جہاں مرکزی حکومت انتہائی کمزور ہے، انہی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت خاد کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرواتا ہے۔افغان حکومت بے گناہ پاکستانی شہریوں کا خون بہانے والی اپنی ایجنسیوں کو لگام ڈالے۔ سی ٹی او پنجاب اور آئی بی تحسین کے مستحق ہے ، صرف اس لیے نہیں کہ وہ دہشت گردوں کو گرفت میں لے آئے، بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے دہشت گردی میں افغانستان کے کردار کو طشت ازبام کردیا، جہاں نوگیارہ حملوں کا منصوبہ بنایا گیا البتہ ایسا کرنے والے غیر ملکی تھی۔ اسی طرح داتا دربار دھماکے میں ان حملہ آوروں نے افغانستان میں منصوبہ بندی کی۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)