10:09 am
پاکستان بار کونسل کا مطالبہ، چیئرمین نیب کا مسئلہ

پاکستان بار کونسل کا مطالبہ، چیئرمین نیب کا مسئلہ

10:09 am

٭پاکستان بار کونسل کا پی ٹی ایم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہOچیئرمین نیب کے خلاف سکینڈل،نیا رخ!O پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں نیا میثاق جمہوریت O ایرانی وزیرخارجہ کا دورہ، گوادر اور چاہ بہار کوملانے کی پیش کش O چین کے نائب صدر کا تین روزہ دورہ شروع O کراچی وزیراعظم کا دورہ، ایم کیو ایم کا بائیکاٹ O برطانیہ: وزیراعظم تھریسامے زاروقطار رونے لگیں، 7 جون کو استعفیٰ دیں گی O کوئٹہ ایک اور دھماکہ، 4 افراد شہید۔
٭پاکستان بار کونسل ملک میں تقریباً ایک لاکھ دس ہزار وکلا کی اہم انتظامی نگران کونسل ہے۔ یہ ملک بھر میں وکلاء کے مختلف انتظامی امور پالیسیاں اور قواعد و ضوابط طے کرتی ہے۔ آئینی طور پر اٹارنی جنرل اس کا چیئرمین ہوتا ہے مگر عملی طور پر یہ آزاد اورخود مختار اتھارٹی ہے اور وائس چیئرمین اس کا عملی سربراہ ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل صرف سالانہ اجلاس کی صدارت کرتا ہے۔ موجودہ وائس چیئرمین سید امجد شاہ نے منظور پشتین کی تنظیم پی ٹی ایم (پشتون تحفظ حقوق موومنٹ کے عہدیداروں اور اس کی رکن گلا لئی اسماعیل کے پاکستان اور فوج کے خلاف بیانات اور دھمکیوں کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس تنظیم کے خلاف فوری سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تنظیم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے خود کو افغان قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پختونخوا اور فاٹا کا علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں، اسے آزاد کیا جائے۔ تنظیم کے سربراہ منظور پشتین نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی فوج کو الٹا دیا جائے گا۔ ایک خاتون گلا لئی نے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے پاکستان پر سخت حملے کرنے کے ساتھ فوج کے خلاف نہایت سخت اور اخلاق سوز ہرزہ سرائی کی ہے۔12 برسوں سے اندرون و بیرون ملک پاکستان دشمن سرگرمیوں اور بیانات پر دوبار گرفتار ہوچکی ہے۔ ایک بار 2012ء میں دوسری بار اسی سال جنوری میں لندن سے آتے ہوئے اسلام آباد ہوائی اڈے پر گرفتار ہوئی، اس کے خلاف کھلی غداری کے مقدمات درج ہیں۔ ان میںاب دہشت گردی کے مزید دو مقدمات کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس نے اسلام آباد کی نواحی بستی شہزاد ٹائون کے علاقے میں ایک بچی ’فرشتہ مہمند‘ کے انتہائی مذموم قتل کے سلسلے میں ہونے والے مظاہرے میں جا کر پاکستان کے خلاف سخت باغیانہ تقریر کی اور مظاہرین کو اس کے خلاف ہر قسم کی کارروائیو ںپر اکسایا۔ میں نے اس کی ملک دشمن ہرزہ سرائی کے بعض ناقابل بیان جملے حَذَف کر دیئے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور چند روز قبل ایک بیان میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی ایم کو بھارت اور افغانستان سے بھاری مالی امداد مل رہی ہے۔ 33 سالہ گلا لئی اسماعیل 1986ء میں صوابی میں پروفیسر اسماعیل کے گھر پیدا ہوئی۔ 16 برس کی عمر میں عورتوں کے حقوق کے نام پر تنظیم بنائی اور پاکستان میں خواتین کی ’’مظلومیت‘‘ کے قصے پھیلانے لگی۔ جلد ہی اندرون و بیرون ملک پاکستان دشمن حلقوںمیں اس کی ’’پذیرائی‘‘ شروع ہوگئی اور اسے باہر بلایا جانے لگا۔ اسے خواتین کی آزادی کے نام پر چار غیر ملکی ایوارڈ ملے ان میں دولت مشترکہ کا ’یوتھ ایوارڈ بھی شامل تھا۔ بیرون ملک اتنی حوصلہ افزائی سے اس خاتون نے پاکستان دشمن سرگرمیوں کو اپنا مستقل ایجنڈا بنا لیا۔ چند برس پہلے پی ٹی ایم وجود میں آئی تو اسے پاکستان اور فوج کے خلاف پراپیگنڈہ کی بنی بنائی سٹیج ہاتھ آ گئی۔ اس خاتون کے قریبی حلقوں کے مطابق اسے ان سرگرمیو ںکے لئے قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ، سابق رکن محمود اچکزئی اور منظور پشتین کے علاوہ افغانستان اور بھارت کی حکومتوںکا ہر قسم کا تعاون بھی حاصل ہے۔ بہت سی اور باتیں بھی ہیں۔ پاکستان بار کونسل بہت اہم ادارہ ہے اس نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ اسے منطقی انجام تک بھی پہنچائے۔ آئین کی دفعہ 63 کے تحت ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمی سے محسن داوڑ کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم ہو سکتی ہے۔
٭عمران خان کی حکومت الٹانے کے لئے پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں نیا میثاق جمہوریت طے کیا جا رہا ہے۔ اس کا نام ’چارٹر آف یونٹی‘ (میثاق یک جائی!) تجویز کیا گیا ہے۔ یہ عہد نامہ مریم نواز اور بلاول زرداری کے مشترکہ صلاح مشوروں اوار نگرانی کے ساتھ مرتب کیا جا رہا ہے۔ اوصاف کے سیاسی رپورٹر کے مطابق حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور جلسے جلوسوں کے علاوہ حکومت کی اتحادی پارٹیوں کو ساتھ ملانے کی کوشش بھی کی جائے، فوج کو اقتدار میں نہیں آنے دیا جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔ اس معاہدہ کی ایک اہم بات کہ اس معاہدہ اور اقتدار میں کسی بھی مذہبی جماعت کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ کہ مولانا فضل الرحمان کو اس میثاق میں بالکل شریک نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس کی توجیہہ یہ ہے کہ بلاول اور مریم نواز کو مولانا کے سیاسی کردار پر سخت تحفظات ہیں۔ ایک اور اہم بات کہ نئے میثاق کے بعض نکات پرپیپلزپارٹی اور ن لیگ میں سخت اختلافات بھی شروع ہو گئے، ایک اختلاف مشترکہ اتحاد کے زیر اہتمام انتخابات میں حصہ لینے اور نشستوں کی تقسیم کا ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے بعض اہم حلقے دونوں پارٹیوںکے اس ’’سنجوگ‘‘ کے سخت خلاف ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ ان حلقوں کو سخت مخالفت سے یہ معاہدہ فوری طور پر وجود میں آتا دکھائی نہیں دے رہا۔ مجھے بچپن میں ایک رسالہ میں ایک گھوڑے کی فوری فروخت کا دلچسپ اشتہار یاد آ رہا کہ گھوڑا نہائت عمدہ خالص عربی نسل کا ہے۔ سفید رنگ، مضبوط جسم، لمبی دم، خوبصورت آنکھیں، بس صرف یہ کہ تھوڑا سا مر گیا ہے!
٭نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف انتہائی ہوشیاری کے ساتھ ایک آڈیو ویڈیو سکینڈل سامنے آیا ہے۔ اسکی تفصیل اخبارات میںموجود ہے۔ نیب کی طرف سے دو ٹوک تردید بھی آ چکی ہے۔ خود چیئرمین نیب کا بیان آ چکا ہے کہ وہ کسی دبائو میں نہیں آئیں گے۔ اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔ میں صرف یہ بتانا چاہتاہوں کہ نیب کے چیئرمین کا درجہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر ہے۔ اس عہدہ کے لئے یہی حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ چیئرمین کو حکومت نہیں ہٹا سکتی۔ چیئرمین خود استعفیٰ دے سکتا ہے، اس کے ذہنی عدم توازن پر خصوصی میڈیکل ایڈوائس پر اسے فارغ کیا جا سکتا ہے یا اس کی وفات پر ہی یہ عہدہ خالی ہو سکتا ہے۔ عام نارمل حالات میںکوئی سنگین قسم کاالزام ہو تو اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکیا جا سکتا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم و ہائی کورٹوں کے چار سینئر ججوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے لئے ایسے کسی کیس پر فیصلہ دینے کی کوئی مدت مقرر نہیں ،نہ ہی اسے جلد فیصلہ دینے پر مجبورکیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر ایسے کیسوںکی وقفہ وقفہ سے سماعت اور پھر فیصلے میں کم از کم ایک سال ضرور لگ جاتا ہے۔ اس عرصے میں ریفرنس دائر کرنے والے خود کہاں ہوں گے؟۔ مسئلہ یہ بنا ہوا ہے کہ چیئرمین کو کسی طرح استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا جائے! اس سے نیب کا سارا کام رک جائے گا۔ آئین اور قانون کے مطابق نیا چیئرمین صرف وزیراعظم اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی اتفاق رائے سے ہی مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر طویل عرصہ سے ملک سے باہر ہیںان کی واپسی کا کوئی اندازہ نہیں۔ وہ آ بھی جائیںتو ان کی عمران خان کے خلاف شدید عداوت کیسے کوئی اتفاق رائے ہونے دے گی؟ ایک اہم نکتہ کہ چیئرمین نیب کے خلاف آڈیو وڈیو ثبوت پیش کئے جا رہے ہیں یہ تصویریں کس نے کیسے بنائیں؟ کیا وہ مذکورہ خاتون فوٹو گرافر ساتھ لے گئی تھی یا اس نے خود بنائیں؟ کیا فوٹو بننے کے دوران ایسا واقعہ رونما ہو سکتا ہے جس کا ذکرکیا جا رہا ہے؟
٭وزیراعظم اور ایم کیو ایم میں کھٹ پٹ! ایم کیو ایم نے سندھ کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ سندھ تقسیم نہیں ہو سکتا۔ اب؟ حکومت چلانے کے لئے کم از کم 172 نشستیں چاہئیں۔ حکومت کے پاس 178 نشستیں ہیں۔ ان میں ایم کیو ایم کی سات نشستیں شامل ہیں۔ یہ شامل نہ رہیں تو باقی 171 رہ جائیں گی پھر؟

تازہ ترین خبریں