08:02 am
عید کے بعد

عید کے بعد

08:02 am

عید کے بعد تین چار واقعات رونما ہونے جارہے ہیں جن کا اثر صرف حکومت پر ہی نہیں ملک بھر کی عوام پر پڑے گا۔
عید کے بعد تین چار واقعات رونما ہونے جارہے ہیں جن کا اثر صرف حکومت پر ہی نہیں ملک بھر کی عوام پر پڑے گا۔ پہلی بات تو یہ سنی جارہی ہے کہ یکم جون کو جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونا تھا حکومت اسے عید کے بعد تک  موخر کرنے پر غور کررہی ہے تاکہ عوامی ردعمل ذراکم ہو۔ اگر یکم جون کوپٹر ول وغیرہ کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے تو عوام کو بہت سی تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کرائے یکدم بڑھ جائیں گے اور عیدپر اپنے گائوںگھرانے جانے والے لوگ شدید متاثر ہوں گے۔ عید کے ایک ہفتے کے اندر اگلے سال کا بجٹ بھی پیش کیا جائے گا۔ عا م توقعات  یہی ہیں کہ یہ بجٹ بہت سے نئے ٹیکس لے کر آئے گا جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ پچھلے چند ہفتوں میں جس طرح حکومت کی اقتصادی ٹیم میں تبدیلیاں آئی ہیں ان کے پیش نظر یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ حکومت کوئی ڈھنگ کا بجٹ بناسکے گی۔ بجٹ کی تیاری میں جس مواد پالیسی سازی اور عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے اس کا تو بجٹ بنانے والوں کو وقت ہی نہیں ملا۔ چنانچہ جیسا بھی بجٹ آئے گا وہ عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر ے گا۔ نتیجتاً اس پر ردعمل بھی منفی ہی آئے گا۔
تیسرا بڑا واقعہ ہوگا اے پی سی کا انعقاد۔ اگر تمام اپوزیشن جماعتیں واقعی مل کر بیٹھ گئیں تو وہ حکومت کے لئے خاصا درد سر پیدا کرسکتی ہیں۔ پی ٹی آئی ابھی تک حکومتی امور کو صحیح طور پر سنبھال نہیں سکی ہے۔ بے پناہ عوامی مقبولیت کے باوجود وہ کوئی ایسے فیصلے نہیں کرپائی جو ملک کے دور رس یعنی سٹرٹیجک مفاد میں ہوتے۔ اب تو جو متعدد سروے رپورٹس بھی آتی ہیں تقریباً سب ہی یہ بتاتی ہیں کہ عوام بالعموم حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ اب اگر اس صورتحال میں پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور نیا بجٹ ٹیکسوں کا نیا طوفان لے کر آتا ہے جس سے بجلی‘ گیس اور عام استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہو جاتی ہیں تو اپوزیشن کا بیانیہ مضبوط  سے مضبوط تر ہوجائے گا۔ ایسی صورتحال میں عوام کو سڑکوں پر لانا شائد اتنا ناممکن نہ رہے۔
مانا کہ عوام کو سڑکوں پر لانے کی سب سے زیادہ طاقت پی ٹی آئی کے پاس ہے مگر اپوزیشن کے احتجاج کے جواب میں پی ٹی آئی جوابی ریلیاں نہیں نکال سکے گی۔ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گی تو مزید ہنگامہ آرائی ہوسکتی ہے جو حکومت کیلئے زیادہ درد سر پیدا کرسکتی ہے۔ اب  سوال یہ ہے کہ حکومت کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہے کہ نہیں ہے ۔ کیا اسے پتہ ہے کہ عوام آج کیا سوچ رہے ہیں اور بجٹ کے آنے کے بعد کیا سوچ رہے ہوں گے۔ اگر اسے پتہ ہے کہ وہ اس بارے میں کیا حکمت عملی اختیار کرے گی۔ حکومت کو یہ حکمت عملی پہلے سے طے کرلینی چاہیے اور اس کا باقاعدہ اعلان نہ سہی مگر اشارہ ضرور د دینا چاہیے۔
پچھلے چند دنوں میں نیب کے چیئرمین  بھی الزامات کی زد میں آگئے ہیں۔ پہلے تو عمران خان نے خاموشی سے ایک ڈپٹی چیئرمین مقرر کرایا۔ اس پر جسٹس جاوید یقینا ڈسٹرب ہوئے ہوں گے۔ پھر پہلے ایک  انٹرویو چھپا جس کی بڑی نرم سی تردید آئی۔ مگر اس کے بعد چیئرمین نیب نے پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں انہوں نے چند بڑی ہی قابل اعتراض باتیں کیں جو ان کے منصب کو زیب نہیں دیتی تھیں۔ خاص کر ان کا یہ کہنا کہ وہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے لیڈروں کے خلاف اس لئے کارروائی نہیں کررہے کہ اس سے حکومت منٹوں میں گر جائے گی۔ یہ حکومت کو اقتدار میں رکھنے کی ذمہ داری کب سے نیب چیئرمین کے فرائض میں شامل ہوگئی؟ یہ بات کہہ کر گویا انہوں نے اعتراف کرلیا کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہیں۔ اپوزیشن اس معاملے میں جوڈیشل کمیشن تک ضرور جائے گی اور اپوزیشن حکومت کو قائم مقام چیئرمین نیب بھی مقرر نہیں کرنے دے گی کیونکہ قانون کے مطابق نیب چیئرمین کی تقرری میں اپوزیشن لیڈر کی رضامندی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے یہ استدعا کی جاسکتی ہے کہ عمران خان کے تقرر کردہ وائس چیئرمین نیب کو چیئرمین نیب بننے سے روکا جائے۔ عدالت کا فیصلہ کیا ہوگا وہ تو رب جانے مگر حکومتی پوزیشن خاصی کمزور ہو جائے گی۔
آج کل ٹی وی پر زور شور سے بحث چل رہی ہے کہ نیب چیئرمین کے بارے میں جو آڈیو اور وڈیو کلپس ایک ٹی وی چینل پر چلی ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ حکومت  بار بار کہہ رہی ہے کہ یہ کلپس جعلی ہیں۔ چینل والوں نے معذرت کرلی ہے لہٰذا معاملے کو یہیں ختم  کر دیا جائے مگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ایک پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کروائی جائے۔ عید کے بعد جب اے پی سی  کا انعقاد ہوگا تو پارلیمانی تحقیقات کا مطالعہ زور پکڑے گا۔
ایک امکان یہ بھی ہے کہ جسٹس جاوید صاحب اپنے خلاف چلنے والی میڈیا مہم کو پی ٹی آئی کی شرارت سمجھ لیں اور اس جماعت کے رہنمائوں کے خلاف پہلے سے  موجودہ ریفرنسز پر جلدی سے کام شروع کر دیں۔ اس کے دو نتائج نکلیں گے۔  اولاً تو اپوزیشن جوڈیشل کونسل تک جانے سے احتراز کرے گی اور دوسرے حکومتی رہنما خود اپنی پارٹی کے خلاف ہو جائیں گے۔ عمران خان کو ان امور پر بڑی سنجیدگی سے سوچ بچار کرنی ہوگی۔کافی عرصہ میڈیا سے دور رہنے کے بعد جہانگیر ترین پھر سے ٹی وی شو کرنے لگے ہیں۔ اس سے شاہ محمود قریشی کے کان بھی کھڑے ہو جائیں گے۔ گویا عید کے فوراً بعد پی ٹی آئی کے اندر جو دھڑے بنے ہوئے ہیں ان کے درمیان خلیج مزید گہری ہو جائے گی۔ کیا عمران خان ان کو سنبھال پائیں گے۔
مشیر خزانہ اسٹیٹ بنک اور ایف بی آر کے نئے سربراہان کا تقرر ہونے کے بعد تمام متعلقہ وزارتوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اب سیکرٹری خزانہ بھی فارغ ہو گئے ہیں اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ سول سروس بجا طور پر تشویش میں گھری ہوئی ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہے؟ سنا جارہا ہے کہ وزارت خزانہ‘ ایف بی آر اور سٹیٹ بنک کے سینئر افسران اپنے اپنے نئے سربراہان کے ساتھ کسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ یہ بات بھی عید کے بعد زور پکڑے گی۔ حکومتی مشینری کو اچھی حالت میں چلتا رکھنا وزیراعظم کی ذمہ داری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان میں اس اہم ذمہ داری کو نبھانے کی صلاحیت بھی ہے کہ نہیں ہے۔ ووٹ لینا ایک الگ بات ہے حکومت چلانا قطعاً ایک مختلف بات ہے پی ٹی آئی کی قابلیت کیا ہے وہ عید کے بعد زیادہ نمایاں طور پر عوام کے سامنے آنا شروع ہو جائے گی۔
عید کے بعد عمران خان کیلئے ایک اور امتحان بھی آرہا ہے۔ بھارت میں نریندر مودی  ایک سے زیادہ بڑی اکثریت کے ساتھ دوبارہ منتخب ہوگئے ہیں۔ وہ ایک اینٹی پاکستان بیانئیے پر الیکشن جیتے ہیں۔ اب عمران خان نے سیاسی فراست کا مظاہرہ  کرتے ہوئے مودی کو مبارکباد تو بھیج دی ہے مگر کیا دونوں ممالک میں ذمہ داران بات چیت کا آغاز ہوسکے گا۔ یہ بھی خاصا مشکل کام ہے۔ عمران خان کو یہ مشکل کام انتہائی مہارت سے کرنا ہوگا۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئے تو وہ ایک عالمی سیاستدان کے طور

تازہ ترین خبریں