08:03 am
     اصل  دہشت گرد

اصل دہشت گرد

08:03 am

جواں سال مجاہدکشمیر برہان وانی کی شہادت نے تحریک ِ حریت کشمیر میں جو نیا ولولہ پیدا کیا اُس کے اثرات آج تمام عالم پر آشکار ہو رہے ہیں
  جواں سال مجاہدکشمیر برہان وانی کی شہادت نے تحریک ِ حریت کشمیر میں جو نیا ولولہ پیدا کیا اُس کے اثرات آج تمام عالم پر آشکار ہو رہے ہیں ۔ انسانیت سوز بھارتی مظالم کے خلاف اہل کشمیر احتجاج کناں ہیں ۔ بھارت لاکھ پردے ڈالے ! جھوٹ تراشے ! سچ روز روشن کی طرح عیاں ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کا  سیاہ داغ بھارت کی پیشانی پر ایسا لگا ہے کہ مٹائے نہیں مٹتا ۔ بھارتی غاصب فوج کو کشمیر کی زمین پر قبضہ برقرار رکھنے سے مطلب ہے ۔ کشمیری عوام اُن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے ! جب چاہا گولیوں سے بھون دیا ۔ مائیں اور بہنیں  اپنی آنکھ کے تاروں کی تشدد زدہ لاشوں پہ ماتم کناں ہوتی ہیں ۔ سہاگنیں بیوگی کی چادر اوڑھ کے اشک بہاتی ہیں ۔ معصوم بچے یتیمی کی پوشاک پہن کے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کی دہائی دیتے ہیں ۔ طالب علم قلم کتاب سنبھالے حصول علم کے لیے مکتب روانہ ہوتا ہے  اور واپسی پہ شہادت کا تاج سر پہ سجائے چار کاندھوں پہ واپس لوٹتا ہے۔ معصوم بچے گھر کے باہر کھیلنے نکلتے ہیں اور پیلٹ گن کا شکار ہو کے بینائی سے محروم ہو کے عمر بھر کے لیے معذوری کی زنجیر میں جکڑے جاتے ہیں ۔ کیا چادر اور کون سی چار دیواری ؟ عفت ماب مستورات اجتماعی عصمت دری کے اُس  بھیانک ہتھیار سے مجروح ہوتی ہیں کہ جس کا گھائو روح پہ لگتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر اب انسانوں کی بستی نہیں بلکہ وہ  آسیب زدہ دشت دحشت ہے کہ جہاں بھارت کے چھوڑے درندے جب چاہیں اور جہاں چاہیں نہتے کشمیریوں کو چیر پھاڑ ڈالیں ۔
 ماورائے عدالت قتل ، غیر قانونی گرفتاریاں اور راہ چلتے پیر و جواں مرد و زن کی تذلیل جیسے واقعات روز مرہ کا معمول ہے ۔ بھارت کے نزدیک کشمیری مسلمان حقیر کیڑے مکوڑوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔  بد ترین نسلی اور مذہبی تعصب کے زہر میں بجھا بھارتی سماج تو اپنے ہم مذہب دلتوں کو انسان سمجھنے کا قائل نہیں تو پھر مسلمان کس قطار شمار میں آتے ہیں ۔ ستم یہ کہ کشمیری مسلمان جو کہ تقسیم کے وقت سے ناجائز بھارتی قبضے سے آزادی پانے کے لیے شمشیر بکف ہے ۔ ایک تو تقسیم کے بعد پاکستان کی صورت میں آزاد مسلم ریاست کا غم بھارت سے بھلائے نہیں بھولتا ۔ پھر آزاد کشمیر کا بھارت کے پنجے سے نکل کے پاکستان کی پناہ میں آجانا بھی کچھ کم صدمہ نہیں ۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے کی سازش کامیاب کروا کے بھی بھارت کا  انتقامی جذبہ سرد نہیں ہوا ۔ پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف یہ نفرت کبھی  سرحد پار دہشت گردی کا روپ دھارتی ہے ۔ کبھی مسلم کش فسادات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کبھی مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں سے اُن کی جان ، مال اور حرمت کی صورت خراج وصول کرتی ہے اور کبھی ایل او سی کے پار آزاد کشمیر میں گولہ باری کی صورت بے گناہوں  کی جان لیتی ہے ۔ بھارت نے قیام پاکستان کی تاریخی حقیقت کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سات عشروں سے بھارتی حکومتوں اور نیتائوں پر پاکستان کو برباد کرنے اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا جنون سوار ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت بھارت کو وہ شکار گاہ دستیاب ہے کہ جہاں پاکستان اور مسلمانوں سے انتقام لینے کی وحشیانہ خواہش جی بھر کے پوری کی جاسکتی ہے ۔ مہذب دنیا میں بھارتی مظالم کے خلاف گاہے بگاہے آوازیں اٹھ رہی  ہیں ۔ منافقت اور قومی مفادات کے اصولوں کی پٹی آنکھوں پہ باندھ کے بین الاقوامی برادری کے بڑے اراکین تو کشمیریوں کی  آہ و فغاں پہ  نہ تو نگاہ کرم ڈالتے ہیں اور نہ ہی کان دھرتے ہیں لیکن بہت سے زندہ ضمیر ادارے اور تنظیمیں تعصبات سے بالاتر ہو کر مکمل غیر جانبداری سے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کر رہے ہیں ۔
حال ہی میں جے کے سی سی ایس(جموں کشمیر کولیشین آف سول سوسائٹی ) نامی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دس برس کے عرصے میں بھارت سرکار کے انسانیت سوز مظالم کا پردہ فاش کرتی مفصل رپورٹ جاری کی ہے ۔ چار سو سے زائد صفحات پہ مبنی اس رپورٹ کی بنیاد پہ تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کی  خصوصی تحقیقات کا مطالبہ کیا  ہے ۔ حسب عادت بھارت متوقع تحقیقات سے انکار کر دے گا ۔ کیونکہ اگر تحقیقات ہو گئیں تو دنیا کو یہ پتا چل جائے گا کہ آخر برہان وانی، منان وانی اور ذاکر موسیٰ جیسے طالبعلموں نے کتاب اور قلم پھینک کے بندوق کیوں اُٹھائی؟ ان نوجوانوں نے معاش کے بجائے شہادت کا راستہ کیوں چنا ؟ ماں کی آغوش، باپ کی شفقت اور بہنوں کی محبت ترک کر کے کوہ و بیاباں میں مزاحمت کی خارزار راہوں کا انتخاب کیوں کیا ؟  دلی سرکار امریکہ کی گود میں بیٹھ کے  مظلوم کشمیر یوں کو دہشت گرد  قرار دے کے یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ معاملہ دب جائے گا۔ ایسا ہر گز نہیں ہو گا ۔ کشمیر کے گھر گھر میں بھارتی مظالم کے رد عمل میں آزادی کی طلب اور تڑپ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ کشمیری نوجوان بھارتی غلامی کا طوق قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ بھارت نے تشدد ، ماورائے عدالت قتل ، غیر قانونی حراست ، اجتماعی عصمت دری اور عوامی تذلیل کو ریاستی پالیسی کے طور پہ کشمیر میں نافذ کر رکھا ہے ۔ کشمیری عوام نے بھارت کی ذلت و تعصب پر مبنی ریاستی پالیسی کو مسترد کر دیا ہے ۔ عالمی برادری کی بے حسی کا فطری رد عمل ہے کہ آج کشمیری نوجوان قلم کی جگہ بندوق ہاتھ میں تھامے سر پہ کفن باندھے بھارتی غاسب درندوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ یہ قابل رشک کشمیری نوجوان دہشت گرد نہیں بلکہ حریت پسند مجاہدین ہیں ۔ اصل دہشت گرد  تو بھارت کی ریاست ہے !