08:04 am
اللہ کے نیک بندے اور جنت کا حُسن

اللہ کے نیک بندے اور جنت کا حُسن

08:04 am

سیاست اور سیاستدانوں کے موضوع  سے قلم کی جان چھڑا کر آج اللہ کے نیک بندوں اور جنت کے حسن کا ذکر کرتے ہیں
سیاست اور سیاستدانوں کے موضوع  سے قلم کی جان چھڑا کر آج اللہ کے نیک بندوں اور جنت کے حسن کا ذکر کرتے ہیں …سورہ فرقان کے آخر میں اللہ تعالی نے اپنے نیک اور پیارے بندوں کے ان اوصاف کو ذکر فرمایا ہے جن کی وجہ سے وہ خاص ’’عباد الرحمن ‘‘کے لقب اور انعامات باری تعالیٰ کے مستحق بنتے ہیں…ان مقبول  بندگان میں پائی جانے والی صفات کا خلاصہ یہ ہے کہ (۱)وہ اپنے آپ کوا اللہ کا بندہ اور غلام بناکر رکھتے ہیں ، اپنی من مانی کے بجائے ہر چیز میںاپنے رب کی مان کر چلتے ہیں اور اسی میں اپنی سعادت دنیوی واخروی سمجھتے ہیں (۲)ان کا قول وفعل تو کیا پورے مزاج میں ہی تواضع ہے خشونت اور سختی والا مزاج نہیں رکھتے کہ دوسرے انسان انہیں دیکھ کرہی ان سے نفرت کریں (۳)وہ حلیم اور بردبار ہیں ،غصہ پی جانے والے ہیں ، جاہل کے ساتھ جاہل نہیںہوجاتے بلکہ ایسی بات کرکے جاہل اور جہالت سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں کہ جس سے شردفع ہو جاتا ہے۔(۴)پانچوں نمازوں کی پابندی تو کرتے ہی ہیں لیکن اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھتے ہیں اور تنہائی میں اپنے رب کے سا تھ جی بھر کر ملاقات کرتے ہیں (۵)اپنی عبادت پر فخرو غرور نہیں کرتے بلکہ ہروقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں اور عذاب جہنم سے،اللہ پاک کی ناراضی سے پناہ مانگتے ہیں ۔(۶)عبادات کی طر ح معاملات میں بھی دین و شرع کے پابند رہتے ہیں خصوصاً خرچ کرنے کے معاملے میں نہ تو بخل اور کنجوسی کرتے ہیں اور نہ ہی حد سے زیادہ خرچ کرتے ہیں بلکہ اعتدال پر قائم رہتے ہیں (۷)اور عقیدے کے ایسے پکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شریک نہیں جانتے یہ سچے اور حقیقی عابد ہیں کہ جن کا معبود ایک ہی ہے (۸)عقیدئہ توحید کو اپنا لینے کے بعد نہ کسی کو ناحق قتل کرتے ہیں(۹) اور نہ زنا کرتے ہیں ۔(۱۰)اوراگر کوئی گناہ غلطی سے ہو بھی جائے تو اسے صحیح او رحق ثابت کرنے کیلئے الٹی سیدھی تاویلوں کا سہارا نہیں لیتے بلکہ فوراًاپنی غلطی کا اقرار و اعتراف کر کے نادم ہوتے ہیں اور رب کے حضور گریہ وزاری کرکے توبہ واستغفار کرتے ہیں… اور اس ایک توبہ کے آسرے بیٹھے نہیںرہتے بلکہ پھر خوب نیک اعمال بھی کرتے ہیں کہ یہ علامت اورنشانی ہے توبہ قبول ہوجانے کی ۔(۱۱)عام کبیرہ گناہو ں سے بچنے کے ساتھ ساتھ جھوٹ سے ، جھوٹی گواہی سے بھی اپنے آپ کوبچاتے ہیں کہ یہ مسلمان کی شان سے بہت بعید ہے ۔(۱۲)اور جب انہیں بھلائی کے کاموںکی نصیحت کی جاتی ہے تو اِتراتے نہیںبلکہ خوب توجہ سے سنتے ہیںاور پھر دل و جان سے اس پر عمل پیراہوتے ہیں (۱۳)اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو خودہی اپنے پیارے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرکے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس انداز سے اپنی حاجت رکھتے ہیں… کہ وہ پوری ہو جاتی ہے ، ہاں !بندے جو اللہ کے ہوئے ، خاص اللہ کے بندے تو اللہ کے ہوتے ہوئے غیراللہ کے سامنے اپنی حاجت کیوںرکھیں…؟
واضح رہے کہ ان اوصاف کا مجموعہ  ،علوّ درجات کا مدار ہے‘ یعنی جس خوش بخت بندے کے اندر یہ تمام اوصاف و کمالات پائے جائیں جو اوپر مذکور ہوئے تو اس کی خوش بختی اور سعادت مندی کے کیاہی کہنے …!وہ تو بلند و بالا محلات میں جائے گا اور یہ محلات جنت کے عمدہ ترین اور قیمتی ترین محلات ہوں گے جو انہی (عبادالرحمن )کے لیے خاص ہوںگے۔ یہ انعام کیو ں ملا؟ ’’بماصبروا‘‘ صبر کرنے کی وجہ سے ‘صبر کا مفہوم  بہت وسیع ہے کئی چیزیں اس میں داخل ہیں مثلاً عبادات و طاعات پر دل نہیں لگتا لیکن اپنے نفس کو مار کربندہ نماز پڑھتا ہے ،جہاد کرتاہے اور نیکی کے دیگرکام کرتاہے تو یہ اس شخص کا صبر اور استقامت ہے ورنہ اگر عبادات میں اس حد تک دل لگنے لگ جائے کہ وہ عبادت ’’عادت ‘‘بن جائے تو اس سے زیادہ اجراس عبادت میںہے جو نفس کے خلاف کی جائے ،دل تو نہیں کرتا مگرپھر بھی عبادت کررہا ہے ایسے شخص کو دوہرا اجر ملے گا‘ ایک عبادت کا فریضہ بجا لانے کا ،دوم محنت اور مشقت کا‘اسی طرح گناہوں سے اپنے آپ کو زبردستی روکنا ، کفار ومشرکین کی طرف سے آنے والے مظالم کو مردا نگی کیساتھ برداشت کرنا ، دین کی سربلندی کیلئے کی جانے والی کوششوں میں آنے والی تکا لیف کوسہہ جانا ، حق پر ثابت قدم رہنا ، محرمات سے بچتے رہنا، حد ود اللہ سے تجاوز نہ کرنا ،مال ودولت کی فراوانی نہیں تنگدستی ہے ، فقر وفاقہ ہے تو اس پر قناعت کرنا وغیرہ یہ سب صبر کے مفہوم کے تحت داخل ہیں… تو اللہ تعالیٰ کے ان مقبول بندوں کو اتنے اونچے محلات صبر واستقامت کی بدولت ملیں گے ۔وہ بھی چند دنوں کیلئے نہیںبلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے، نہ تو وہاں ان کو موت آئے گی ، نہ جنت سے نکالا جائے گا‘ ہمیشہ ہمیشہ کی لذتوں اور نعمتوں میں رہیں گے‘ ایک دوسرے کو تحفے تحائف دیا کریں گے ، سلام کلام کیا کریں گے ،خوش گپیاں ہونگی اور یہی نہیں بلکہ فرشتے بھی آتے جاتے اللہ تعالیٰ کے ان محبوب بندوں کو ، جنتیوں کوسلام، سلام کررہے ہوںگے ’’والملائکۃ یدخلون علیہم من کل باب سلام علیکم بماصبر تم فنعم عقبی الدار‘‘پھر ایک نعمت بڑھ کر دوسری نعمت ، سبحان اللہ سبحان اللہ !خود اللہ رب العزت ان جنتیوں کو ،اپنے لاڈلے پیارے بندوں کوسلام کریں گے ’’سلام قولامن رب رحیم ‘‘ ایسی عظیم الشان جنت ، ایسی عظیم  بادشاہت ان جنتیوں کوملے گی کہ جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ‘ ہاں محبوب سبحانی اور علماء ربانیین کی زبانی جنت کے کچھ احوال کا تذکرہ اس نیت سے کر دیتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں بھی حصول جنت ، اللہ تعالیٰ کے دیدار اور ملاقات کاشوق وتڑپ پیدا ہوجائے۔
(جاری ہے)