08:11 am
افغان امن مذاکرات نئے موڑپر

افغان امن مذاکرات نئے موڑپر

08:11 am

طالبان کے ساتھ تسلسل سے جاری مذاکرات کے بعدامریکی مذاکرات کارزلمے خلیل زادنے اعلان کرتے ہوئے کہاکہ
طالبان کے ساتھ تسلسل سے جاری مذاکرات کے بعدامریکی مذاکرات کارزلمے خلیل زادنے اعلان کرتے ہوئے کہاکہ افغانستاملکی تاریخ میں پہلی بار ای کورٹس سسٹم کا آغاز کر دیا گیا ن میں امریکی انسداد دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے بنیادی معاملات طے پاگئے ہیں۔ان طے کیے گئے معاملات میں کوئی بات بھی حیرت میں مبتلاکردینے والی نہیں تھی۔طالبان نے وعدہ کیاکہ وہ اپنی سرزمین عالمی دہشت گرد گروہوں کواستعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اورامریکہ نے  افغانستان سے فوج کے انخلاپررضامندی کا اظہار کیا لیکن ابھی کچھ سوالات کے جوابات دیناباقی ہیں۔ امریکی فوج کتنے عرصے میں افغانستان سے نکلے گی؟ چندماہ میں،جیساکہ طالبان چاہتے ہیں اورکیایہ امریکی فوج کیلئے ممکن نہ ہوگایاپھردوسے ڈھائی سال کے عرصے میں جیساکہ امریکہ چاہتاہے۔کیاامریکی سفارت خانے کی حفاظت کیلئے ایک ہزارامریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے؟اورکیاان فوجیوں کوانسداددہشت گردی کے آپریشن کرنے کی بھی اجازت ہوگی یانہیں؟(یہ تجویزاوباما کے دورمیں بھی سامنے آئی تھی)۔کیاطالبان افغان حکومت سے مذاکرات کیلئے تیارہوجائیں گے؟ کیا طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کے دوران جنگ بندی کیلئے رضامندہوں گے؟کیامعاہدے طے پاجانے تک امریکی فوج افغانستان میں موجودرہے گی؟اوراگرایسانہیں ہوتاتوافغان عوام اورحکومت کو طالبان کے ساتھ خودنمٹناہوگا۔
امریکہ طالبان مذاکرات کے بنیادی نکتے پر طالبان کاراضی ہونااس معاہدے کاآسان ترین ہدف تھا،جوکہ حاصل کرلیاگیا۔وہ بنیادی نکتہ یہ تھاکہ طالبان کواس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ افغانستان سے باہرہونے والے دہشت گردحملوں کی روک تھام میں اپناکرداراداکریں اوریہ کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ طالبان خودکبھی بھی ایسے حملوں میں ملوث نہیں رہے بلکہ طالبان میں ایک گروہ توایسا بھی تھاجوالقاعدہ جیسی تنظیم کوپناہ دینے کامخالف تھااوروہ اس بات پرافسوس کا اظہارکیا کرتاتھاکہ ہم نے انھیں نوے کی دہائی میں پناہ دے کر غلطی کی تھی لیکن عوامی سطح پرالقاعدہ سے لاتعلقی کااعلان کرناابھی بھی ان کیلئے کافی مشکل ہوگاکیونکہ اس جہادی تنظیم کے نام پرپوری دنیاسے نہ صرف مالی امداد حاصل کرسکتے ہیں بلکہ القاعدہ کی وجہ سے ان کوعوام کی ایک بڑی تعدادکی جذباتی حمایت بھی حاصل رہے گی جوکہ امریکہ کے نکل جانے کے بعدہونے والی خانہ جنگی میں ان کے کام آئے گی۔طالبان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ افغان سرزمین کوکسی اورملک میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔اس دفعہ امریکہ بھی طالبان کی اس یقین دہانی کو تسلیم کر رہا ہے۔
طالبان2014ء سے ہی افغانستان میں داعش کے خلاف لڑرہے ہیں۔داعش میں افغان طالبان سے منحرف ہونے والے کمانڈراورافغانستان اورپاکستان میں کارروائیاں کرنے والے ازبک گروپوں کے جنگجو شامل ہیں۔سابق امریکی صدر اوباما کے دورِصدارت میں امریکہ 2014ء تک افغانستان سے اپنی زیادہ ترافواج کوواپس بلانا چاہتاتھاتاہم عراق میں داعش کے بڑھتے ہوئے اقدام سے امریکہ کویہ خطرہ لاحق ہواکہ کہیں افغانستان بھی دوبارہ طالبان کے قبضے میں نہ چلا جائے۔ لیکن ٹرمپ نے دسمبر2018 ء میں اچانک ہی یہ اعلان کردیا کہ امریکا50فیصد افواج افغانستان سے نکال لے گا۔اس اعلان پرابھی تک عمل تونہیں ہواہے لیکن اس سے واضح ہوتاہے کہ اب امریکہ افغانستان سے ہرحال میں نکلنا چاہتاہے۔
امریکہ اورطالبان کے مابین جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کوافغانستان میں سرا ہا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عرصے سے جاری شورش کی وجہ سے لوگ اب امن کے قیام کیلئے بے تاب تھے۔تاہم مذاکرات کے بعدکاممکنہ سیاسی نظام ناصرف اشرف غنی بلکہ سول سوسائٹی،انسانی حقوق کی تنظیموں اور خاص طورپرخواتین کیلئے خدشات کاباعث بنا ہوا ہے۔ ان مذاکرات نے کچھ سوالات کوبھی جنم دیاہے اوروہ یہ کہ ان مذاکرات کاآئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات پرکیااثرہوگااورکیا طالبان بھی ان انتخابات میں حصہ لیں گے ۔اس بات کے امکانات موجودہیں کہ عبوری حکومت میں بھی طالبان کی نمائندگی موجودہوگی۔اشرف غنی اس کے شدیدمخالف ہیں کیونکہ اس سے ان کے اقتدارکو خطرہ ہو سکتا ہے۔
اشرف غنی کے آئندہ ہونے والے صدراتی انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔گزشتہ چارسالوں میں ان کی حکومت کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے اورکئی سیاسی اتحادی بھی ان کا ساتھ چھوڑگئے ہیں۔جب تک افغان انتخابی عمل میں اصلاحات نافذنہیں ہوتیں تب تک انتخابات کے بعددھاندلی کے الزامات بھی لگتے رہیں گے اوراس کے نتیجے میں سیاسی بحران بھی پیداہوتے رہیں گے۔یہ سیاسی بحران طالبان اورافغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کوناکام بھی کر سکتے ہیں۔یہاں یہ سوال اہم ہے کہ امریکی افواج ایسے حالات میں کیا کریں گی؟
ایک بڑاچیلنج یہ بھی ہے کہ طالبان اپنی فوجی قوت کودیکھتے ہوئے کبھی بھی اپنے جنگجوئوں کوغیرمسلح کرنے پرراضی نہیں ہوں گے۔طالبان اپنی عسکری قوت کوبرقراررکھنے یابڑی تعداد میں اپنے جنگجوئوں کوفوج میں  بھرتی کروانے پراصرارکریں گے۔افغانستان میں موجود عسکری گروپوں کی تعدادکودیکھتے ہوئے اس بات کاامکان کم ہے کہ طالبان غیرمسلح ہونے پر راضی ہو جائیں گے۔یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیاامریکی کانگریس ایسی افغان فوج کی مالی امداد کرے گی جس میں طالبان جنگجو شامل ہوں؟اس بات کے امکانات موجودہیں کہ طالبان جنگجوئوں کے فوج میں شامل ہونے کے باوجودافغان فوج کی افرادی قوت میں کمی آئے گی۔معاشی لحاظ سے تویہ اچھاہی ہے کیونکہ افغانستان ایک بڑی فوج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتالیکن خطرے کی بات یہ ہے کہ اس سے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگااوربے روزگارافرادعسکری گروہوں کیلئے آسان ہدف ہوں گے۔
یہاں یہ سوال بھی پیداہوتاہے کہ کیاطالبان کواپنی عسکری کاروائیوں کی وجہ سے کسی قانونی کاروائی کاسامناکرناہوگایااسے یکسربھلادیاجائیگا؟ یقینا طالبان  قانونی کارروائی کیلئے تیارنہیں ہوں گے کیونکہ عبدالرشیددوستم سے گلبدین حکمت یارتک کسی کمانڈر کو قانونی کارروائیوں کاسامنانہیں کرناپڑا۔
افغانستان میں طاقت کے توازن اورنئے آئین کی تیاری کے معاملات بھی کافی پیچیدہ ہیں۔ طالبان صرف انتخابات میں حصہ لینے اورکچھ مخصوص نشستوں کے اختیارپرکبھی راضی نہیں ہوں گے۔وہ حکومت میں اپنی مناسب نمائندگی پرزوردیں گے۔اس بات کاامکان بھی موجودہے کہ طالبان ملک کے جنوبی علاقوں کا کنٹرول مانگیں۔ماضی میں طالبان کایہ مطالبہ شمال اورجنوب کے دیگراسٹیک ہولڈرزکومنظورنہیں تھا۔یہ اسٹیک ہولڈرمستقبل میں ہونے والے کسی بھی امن معاہدے کوخراب کرسکتے ہیں۔ایسامحسوس ہوتاہے کہ کرزئی، شیرازی اوراخوندزادہ جیسے بااثر خاندانوں اوربسم اللہ خان محمدی،عطامحمدنوراور امراللہ صالح جیسے سیاستدانوں کے ساتھ طالبان کے تعلقات کشیدہ ہی رہیں گے۔
اس بات کاقوی امکان موجودہے کہ بیرونی عناصرممکنہ امن معاہدے کونقصان پہنچاسکتے ہیں۔ان عناصر میں ایران،روس،بھارت اورسعودی عرب بھی شامل ہیں۔روس اورایران طالبان کے ساتھ تعلقات برقراررکھنے کیلئے انہیں خفیہ معلومات اورہتھیار فراہم کرتے رہے ہیں۔روس طالبان کوداعش کی نسبت کم خطرناک سمجھتا ہے۔تاہم بھارت افغانستان میں اپنے اسٹریٹیجک اثاثے بچانے کی بھرپورکوشش کریگاکیونکہ وہ افغان سرزمین کوآئندہ بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنا چاہتاہے۔
امن معاہدے کے بعد بننے والی حکومت کی کامیابی پربھی سوالیہ نشان موجودہے۔اس بات کابھی امکان ہے کہ افغانستان میں بھی ویتنام جیسی صورتحال پیدا ہو جائے۔ویتنام میں امریکانے مزاحمت کاروں سے معاہدہ کرکے اپنی افواج نکال لی تھیں لیکن مزاحمت کاروں اورویتنام کی حکومت کے درمیان ہونے والا معاہدہ اور جنگ بندی زیادہ عرصے برقرار نہیں رہی۔ نتیجے کے طورپرملک میں دوبارہ خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔ ضروری نہیں ہے کہ افغانستان میں بھی دوبارہ خانہ جنگی شروع ہوجائے لیکن امریکہ کاطالبان سے مذاکرات کرنے اورجلد بازی میں افغانستان سے نکلنے کا قدم افغان عوام کیلئے عدم اطمینان کا باعث ہے۔