08:13 am
تبدیلی آ گئی ہے

تبدیلی آ گئی ہے

08:13 am

کیا لکھوں؟ اور کیا نہ لکھوں؟ تبدیلی آنہیں رہی…تبدیلی تو آ گئی ہے…یہ تبدیلی ساری دنیا نے دیکھ بھی لی اور اِس کی گونج سُن بھی لی
کیا لکھوں؟ اور کیا نہ لکھوں؟ تبدیلی آنہیں رہی…تبدیلی تو آ گئی ہے…یہ تبدیلی ساری دنیا نے دیکھ بھی لی اور اِس کی گونج سُن بھی لی…میرے بڑے بھائی شاہد قادر روز مجھ سے ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ مجھے بتلائو تو سہی کہ پاکستان کے حالات کب بدلیں گے؟ میں ہر روز اُن کے سوال کا جواب دینے سے قاصر رہتا ہوں…میرے سینئر دوست  آصف عفان جو بڑے  زیرک انسان بھی میں جب بھی یہی سوال اُن سے کرتا ہوں تو وہ بھی مجھے تسلی بخش امیدوں کے آنچل کے دامن سے دامن گیر کر کے گفتگو کا موضوع ہی بدل دیتے ہیں۔ اور شاہد قادر کا سوال تشنہ لب رہ جاتا ہے۔ میری پیاس بھڑک اُٹھتی ہوئی۔ سوچ کے کانٹے سوکھے ہوئے ہونٹوں کی طرح پانی نہیں تو خون سے ہی سیراب ہونے کو تڑپتے ہیں۔ یہاں فرشتہ صفت بچیوںکی آبروریزی ہو رہی ہے۔ بم دھماکوں میں بے گناہ لقمہ اجل بن رہے ہیں اِنصاف کے نام پر انصاف کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ ہسپتالوں میںشفا کے نام پر دردِ لا دوا مل رہا ہے۔ درسگاہوں میں علم کی آڑ میں جہالت پھیلائی جا رہی ہے۔
میرے وطن کے 22 کروڑ اِنسانوں کی 44 کروڑ آنکھیں سلگ رہی ہیں۔ بہنیں بھائیوں کی قبروں پرپُھول اور دِل پر انگارے رکھتے ہوئے دیکھی نہیں جاتیں۔ مائوں کی آغوشیں ویران سرائے کی مانند جگر گوشوں کے لمس کے لئے لرزاں و ترساں ہیں۔ بھائی بھائیوں کے لاشے اُٹھائے ہوئے سوئے لحد رواں دواں ہیں۔ باپ خمیدہ کمر ہیں۔ بچے اُداس ہیںکسی کے سر پر باپ کا سایہ نہیں تو کوئی اپنے بچے سے محروم نظر آتا ہے۔ گلی گلی میں وحشت ناچ رہی ہے۔ لاشوں کے ڈھیر پر بارود رقص کر رہا ہے۔ انگارے شراروں میں بدل رہے ہیں۔ انسانی بدن کے گوشت کے ٹکڑے ہوائوں میں بکھر رہے ہیں۔ سڑکوں پر موت رواں دواں ہے۔ موت پر دہشت گردوں کی گرفت ہے۔ زندگی سانسوں کے پنجرے میں قید اذنِ رہائی کی منتظر دکھائی دے رہی ہے۔ چیخیں ہیں…آہیں ہیں‘نالے ہیں‘سسکیاں ہیں‘بے بسی‘ لاچارگی‘ بے کسی‘ چارہ گروں کو صدائیں دے رہی ہیں۔ بلائیں دے رہی ہیںمگر اندھی آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں۔ بہرے کان سننے سے عاری ہیں اور گونگی زبانیں حرفِ ملامت ڈھونڈ رہی ہیں۔ منظر پس منظروں کو نگل رہے ہیں۔ باغ بہاروں سے جدائی کا سبب پوچھ رہے ہیں قمریاں، بلبلیں، شاخ شاخ کو جلتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ گرمیوں کے موسم  یخ بستہ رائیگانی تڑپ رہی ہے۔ مسجد، مندر، کلیسا، گرجاگھر، گردوارہ، امام بارگاہ، عبادت الٰہی کی ساری جگہیں لرزہ براندام ہیں۔ بچے خوف زدہ، مائیں ششدر، باپ مجبور، بہنیں پریشان، بھائی بے بس ہیں۔ یہ کیسی سلطنت ہے؟ یہ کیسی ریاست ہے؟ یہ کیسا مُلک ہے؟ جہاں جینے کے لئے بارود سونگھنا لازم قرار دیدیا گیا ہے۔ یہاں عجیب امور زندگانی دکھائی دیتے ہیں کہ بادشاہ سے لے کر گدا گر تک سبھی کے سبھی غیر محفوظ ہیں۔ سکول جاتے ننھے فرشتے ہوں یا بچوں کے رزق کی خاطر گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے والے محنت کش، افسرانِ بالا ہوں یا معمولی ملازمین، عساکر پاکستان، پولیس، قانون دان، تاجر، حتیٰ کہ بزرگوں کی درگاہوں پر محبت اور امن کے ترانے پڑھنے والے زائرین یہ سب کے سب غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ پورا ملک دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جلنے والے بارود کے نشانے پر ہے۔ کوئی گھر، گلی، بازار، کوچہ، چوراہا، چوبارہ، کوئی سرکاری، غیر سرکاری عمارت، کوئی شاہ راہ، کچھ بھی تو محفوظ نہیں رہا۔یہ پاکستان ان دہشت گردوں کے لئے تو حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ کہ یہاں سانس لینا بھی محال ٹھہرے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ اِن سب حالات و واقعات کی اصل ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ میری ناقص رائے کے مطابق میرے وطن کی قیادت اِن تمام بم دھماکوں کی ذمہ دار ہے۔ جن قوموں کے قائد غافل اور بدعنوان ہو جائیں ان قوموں کے شہر ویران اور راستے سنسان ہو جایا کرتے ہیں۔ میرے وطن کے سنسان راستے اور ویرانی کی طرف بڑھتے ہوئے شہر اِس امر کا اعلانِ عام کر رہے ہیں کہ اِس وطن کی قیادت غفلت کا تاج پہنے ہوئے ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ غافل قیادت جو خود کو اِن بم دھماکوں سے محفوظ سمجھ رہی ہے۔ اور کرپشن کی بُلٹ پروف دیوار کے پیچھے زیست کی رعنائیوں میں کھیلنے، کودنے والی یہ قیادت کہیں بُھول نہ جائے کہ بارود کے جس دھوئیں میں غریب ماں کا بیٹا جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔ اُسی راکھ میں دبی ہوئی کوئی چنگاری ایوانِ اقتدار کو بھی بھسم کر سکتی ہے۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد طاقتور نہیں ہیں حکومت پاکستان کمزور ہو چکی ہے۔ اور حکومتیں اُس وقت کمزور ہوتی ہیں جہاں انصاف کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ جہاں امیر کے لئے اور قانون ہوتا ہے اور غریب کے لئے اور قانون، جہاں شاہ سونے کا نوالہ کھاتا ہے اور گدا بھوک کی ہچکیوں پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
 جہاں مالک اور غلام کے کپڑوں کے رنگوں میں امتیاز آ جائے گا وہاں اقتدار کی رسی ڈھیلی ہونے کے باوجود ضُعف کا شکار ہو جایا کرتی ہے  اور حقیقت امر اِس تصوراتی کہانی کا یوں ابلاغ کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے کا سیاست دان اپنے جونیئر سے ہر رات سونے سے قبل اگلے دِن کے شیڈول کو اپنی دن بھر کی حسرتوں سے مزیّن کرنے کے لئے کتنا بے چین دِکھائی دیتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے معاشرے کے اِس بدکردار، کردار کے اوپر اپنی فی البدیہہ آزاد نظم میں اس امر کو طشت ازبام کیا تھا کہ بہت مصروف ہوتا جا رہا ہوں‘کئی اہداف کھوتا جا رہا ہوں‘تمہیں اِک بات کہنی ہے‘ذرا تم غور سے سن لو‘فردا کے میرے معمول میں لکھ لو‘ میرے شیڈول میں لکھ لو کہ کل میٹنگ سے ذرا پہلے کالی شیروانی میں کون سا کندھا پھنسانا ہے؟کہاں پہ غسل کرنا ہے؟ کہاں نوروں نہانا ہے؟ میرے شیڈول میں لکھ لوکہاں قہقہہ لگانا ہے کہاںپہ مسکرانا ہے؟ کہاں ہنستی ہوئی آنکھوں کو؟ دفعتاً؟ نمناک کرنا ہے بہت غم ناک کرنا ہے؟ کہاں پہ پُھول رکھنے ہیں؟کہاں چادر چڑھانی ہے؟کہاں پہ بیج بونا ہے؟کرپشن کا؟ کہاں پودا لگانا ہے؟
میرے شیڈول میں لکھ لوکہاں تقریر کرنی ہے؟ کہاں خاموش رہنا ہے؟کہاں تکبیر پڑھنی ہے کہاں پہ گنگنانا ہے؟میرے شیڈول میں لکھ لوکہاں پہ چیک دینے ہیں؟لاشوں کے؟ ورثاء کے جنازوں کو؟  کہاں پہ کندھا دینا ہے؟ میرے شیڈول میں لکھ لو  میرے شیڈول میں لکھ لو !
پرسوں بروز ہفتہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا سرگودھا کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دور بھی اِسی لکھے ہوئے شیڈول کا حصہ تھا، ایسے دورے کبھی نوازشریف، اور شہباز شریف بھی کیا کرتے تھے۔ مگر یہ نمائشی دورے کبھی بھی کارگر ثابت نہیں ہوئے۔ اور نہ ہی آج ہوں گے۔ حکمرانوں کے شیڈول اِسی طرح بنتے رہیں گے۔ دورے ہوتے رہیں گے اور اقتدار کے دورے پڑتے رہیں گے۔ مگر عوام پر خوشی اور سکون کا دور دورہ نہ جانے کب آئے گا؟ شائد! تب جب حکمران سیاست دان چارہ گر سب کے سب اِس جہانِ فانی سے کوچ کر جائیں گے۔

 

تازہ ترین خبریں