08:19 am
معیشت کی بحالی،سخت اقدامات کی ضرورت

معیشت کی بحالی،سخت اقدامات کی ضرورت

08:19 am

ملک میں ایک ہی بات زیر بحث  ہے  معاشی بحران،  یہ درست  ہے موجودہ حکومت کو یہ  ورثہ میں ملا،  ہنسی آتی ہے
 ملک میں ایک ہی بات زیر بحث  ہے  معاشی بحران،  یہ درست  ہے موجودہ حکومت کو یہ  ورثہ میں ملا،  ہنسی آتی ہے جب  اپوزیشن  کے راہنما  لوڈ شیڈنگ   نہ ہونے کو اپنا کریڈٹ   اور معاشی بحران  کو موجودہ حکو مت کی ناکامی قرار دیتے ہیں ۔آئی ایم ایف کے پاس جانے کو تنقید کا نشانہ  وہ بنا رہے ہیں جو خود بار بار جاتے رہے۔    موجودہ  حکومت کی تمام توجہ معاشی ترقی اور اقتصادی  اعشاریے بڑہانے   پر  ہے  اور  اس کےلئے سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں ۔ ماضی میں  جن لوگوں نے    دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹا  وہ    حکومت کی معاشی اصلاحات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں  اسی وجہ سے  مہنگائی کے مصنوعی بحران نے سر اٹھایا ہو اہے  ۔ڈالر کو پر لگ گئے جس کا منفی اثر عام شہری کی جیب پر پڑا  اور عوام کی چیخیں نکلنے لگیں مگر عوام سے زیادہ اپوزیشن کی چیخ وپکار سننے کو ملی،ناقدین کی اکثریت تنقید کرتے اخلاقیات کو بھی فراموش کر گئی،کسی نے نہ سوچا کہ تحریک انصاف حکومت جو گنداٹھارہی ہے وہ قوم کے غم میں گھلنے والے انہی اصحاب با کمال کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ حکومت آج جن معاشی اصلاحات پر کام کر رہی ہے وہ عمران خان کے ا اقتدار میں آنے سے  پہلے کا وژن ہے،اخراجات میں کمی اور آمدن میں اضافہ معیشت کی بہتری کا بنیادی اصول ہے،اس بنیادی اصول پر حکومت اور فوج کا اتفاق رائے خوش آئند ہے،مگر ابتدائی طور پر چند اہم اقدامات کو اب بھی نظر انداز کیا گیا ہے،ممکن ہے ان پر بھی ذمہ داروں کی نگاہ مرکوز ہو مگر حیثیت ثانوی دی گئی ہو،مگر اہم ترین ڈالر اور سونے کی خرید وفروخت سرکاری انتظام میں لانے کی  ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہو گی ماضی میں بھی غیر ملکی  کرنسی کی خرید وفروخت اورسونے کی درآمد بر آمد سرکاری سرپرستی میں ہوتی رہی ہے اور تب ڈالر اور سونے کی قیمت میں مصنوعی اضافہ بھی نہیں ہوتا تھا،ڈالرکی غیر معمولی اور غیر ضروری پرواز روکنے کیلئے منی چینجرز اور کرنسی ڈیلرزکی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے مگر نگرانی کا یہ عمل تب ہی فائدہ مند ہو سکتاجب دودھ کی رکھوالی پر بلے نگران نہ ہوں،بد قسمتی سے سیاسی تقرریوں اور ذاتی مفادات کیلئے بنائے گئے اس نگرانی کے نظام نے ملک کو فائدہ دینے کی بجائے نقصان پہنچایا،اس کے باوجود ’’آزمودہ را آزمودن‘‘ کے مصداق وہی راہ اپنائی جا رہی ہے،’’مانو نہ مانو جان جہاں اختیار ہے،ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں‘‘مشورہ ہے کہ ڈالر کی خریدو فروخت اور لین دین ،سونیکی درآمد بر آمد کو براہ راست سٹیٹ بینک کے کنٹرول میں دیدیا جائے،امپورٹ ایکسپورٹ کیلئے ادائیگی بھی سٹیٹ بینک کے ذریعے ہونی چاہئے،سونے اور ڈالر کی سمگلنگ کو سختی سے روکنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔حفیظ شیخ نے معاشی اصلاحات پیش کرتے ہوئے اخراجات میں کمی اور آمدن میں اضافہ کا روڈ میپ دیا ہے،یہ کام ابتداء میں ہی شروع کر دیا جانا چاہئے تھا،مگر دیر آئد درست آئد کے مصداق ابھی کچھ نہیں بگڑا،کچھ عرصہ پیشتر بھی انہی سطور میں تجویز دی گئی تھی کہ ہر قسم کے صوابدیدی اخراجات پر فوری پابندی عائد کر دیجائے،اس نوعیت کے ضروری اورفوری اخراجات کیلئے ایک کمیشن قائم کر دیا جائے،جو فنڈز کیلئے درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد ادائیگی کرنے یا نہ کرنے کا مختصر وقت میں فیصلہ کرے اور یہ فیصلہ حتمی تصور کیا جائے،کوئی حکومتی عہدیدار دبائو ڈالے نہ عہدے کا غلط استعمال کرے،سرکاری عمارات کی سالانہ مرمت کیلئے مخصوص فنڈز کا 50فیصد سے زائد کرپشن کی نذر ہوتا ہے اور یہ کوئی خفیہ راز نہیں،چند سال کیلئے اگر سالانہ مرمت کے فنڈز روک دئیے جائیں تو اس مد سے اربوں روپے کی بچت کی جا سکتی ہے،ان  حوالوں سے اقدامات کے بعد اخراجات میں کمی کی شائد ضرورت نہ رہے۔آمدن میں اضافہ بھی ریاستی اخراجات چلانے اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کیلئے آکسیجن کا درجہ رکھتا ہے،جس ریاست کی اندرونی آمدن نہ ہو اسے آخر کار غیر ملکی قرضے حاصل کر کے مملکت کو چلانا پڑتا ہے،ماضی کی حکومتوں کا اس حوالے سے کردار مجرمانہ رہا،ہر دور میں معاشی اصلاحات حکمرانوں اور ان کے حاشیہ برداروں کے مفادات کو مد نظر رکھ کر تشکیل دی گئیں،ایف بی میں تقرریاں بھی سیاسی مفادات کے تحفظ کیلئے کی گئیں جس کے نتیجے میں کسی بھی دور  میں  وصولیوں کا ہدف پورا نہ ہو سکا اور بجٹ خسارہ بڑھتا گیا،وزیر اعظم بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ٹیکس وصولی کا ذمہ دار ادارہ کالی بھیڑوں سے اٹا پڑا ہے،یہ بات ریکارڈ پرہے کہ اس محکمہ کے اکثروبیشتر ملازمین تاجروں،سرمایہ داروں،درآمد برآمد کنندگان اور بڑے زمینداروں کے پاس جز وقتی ملازمت کرتے ہیں اور بجائے مملکت کے مفادات کے جس کے وہ کل وقتی ملازم ہیں اپنے جزوی آقائوں کے مفادات کو اہمیت دیتے ہیں،انہیں ٹیکس چوری کے راستے بتاتے ہیں اور محکمہ میں ان کیخلاف اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں ،موجودہ حکومت نے ٹیکس وصولی کا ہدف5550ارب روپے مقرر کیا ہے،یہ ہدف اگرحاصل کر لیا جاتا ہے تو بہت بڑی معاشی کامیابی ہو گی،مگر اس کیلئے محکمہ کو کالی بھیڑوں سے نجات دلا کر ٹیکس چوری کو (باقی صفحہ نمبر6بقیہ نمبر1)
فوجداری جرم قرار دینا ہوگا اور سزائوں کو سخت کر کے ٹیکس چوری کو روکنا ہو گا۔     بے نامی جائیدادیں،رئیل سٹیٹ کاروبار ،سمگلنگ بھی معیشت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے،بے نامی جائیدادوںکیخلاف بجٹ کے بعد کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے،یہ اقدام بے فائدہ ہو گا جب تک رئیل سٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں کو نکیل نہیں ڈالی جاتی،پراپرٹی ڈیلر کالے دھن کو کھپانے اور  پھر اس کو قانونی حیثیت دلانے میں ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہیں،اس پر قابو پانے کیلئے معیشت کو دستاویزی بنانا اشد ضروری ہے،مردم شماری اور خانہ شماری ،گاڑیوں کی رجسٹریشن از سر نو کرنا اور زرعی اراضی کی درجہ بندی کرنا اب انتہائی ضروری ہو چکا ہے،آج بھی ملک میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں ہیں جن کے دادوں نے کوڑیوں کے مول سرکاری اراضی لیز پر لی ان کی لیز ڈیڈ ختم ہوئے عشروں کا عرصہ بیت چکا ہے مگر وہ اراضی  پراب بھی قابض ہیں،اراضی کی درجہ بندی سے لاکھوں ایکڑ اراضی واگزار کرا کے معقول معاوضے پر لیز پر دیکر اربوں کمائے جا سکتے ہیں،متروکہ وقف املاک کی قیمتی دکانیں ،فلیٹس،مکانات اور زرعی اراضی ہی اگر با اثر قبضہ گروپوں سے واگزار کرا لیجائے تو محکمہ خود کفیل ہو سکتا ہے۔    حکومت نے آئندہ بجٹ کیلئے حقیقی عشاریئے مقرر کئے ہیں مگر ہدف کے حصول پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،معیشت کی بحالی اور استحکام اس وقت حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے   اوراس کیلئے مزید حقیقی اقدامات کی ضرورت بھی ہے  ۔


 

تازہ ترین خبریں