10:25 am
سانحہ وولر جھیل 

سانحہ وولر جھیل 

10:25 am

 مقبوضہ جموں وکشمیر کے  نہتے اور معصوم عوام کے خلاف قابض بھارتی افواج کے انسانیت سوز مظالم دنیا کی تاریخ  میں بدترین الفاظ میں یاد رکھے جائیں گے۔ انسانوںکی شکل میں ان شیطانوں کی بدکرداری سے  شیطان بھی شرمندہ ہوگا۔کشمیر جنت بے نظیر کاچپہ چپہ بدکردار بھارتیوں کے وجود سے ناپاک ہورہا ہے یہاں تک کہ  مقبوضہ جموں وکشمیر کی موتیوں جیسے پانی والی خوبصورت جھیلیں بھی ان کی بدکرداری اور بھیانک  بربریت سے محفوظ نہیں ۔ وہ بھی ان کے بدبودار وجود سے ناپاک ہورہی ہیں ۔ بھارتی فوج اور نیوی کی بربریت ، دیکھ کر ہندوتوا،کا سبق اور ان کی ادارہ جاتی تربیت دیکھی جاسکتی ہے ۔
 
سمندر میں ذلت ناک شکست سے دوچار،  بھارتی نیوی کی کمانڈوز کہلانے والی فورس نے 30 مئی2006 کو اپنی بدکردار فطرت سے‘  وولرجھیل میں بھارتی فوج اور ہندوتواکی تاریخ میں سیاہ ترین دن کا اضافہ کیا ۔ جب ہندواڑہ کے ایک سکول کے 22 ننھے طلبا اور ان کی خواتین اساتذہ تعلیمی تفریح دورے پر وولر جھیل کی سیر کیلئے آئے ۔
جھیل پر موجود بھارتی نیوی کے افسران اور اہلکاروں نے انہیں جھیل کی سیر کروانے کیلئے کہا   تو معصوم طلبا اور خواتین اساتذہ، انسانی شکل میں ان شیطانوں کی وردیوں پر اعتبار کرگئے ۔ جب یہ   کشتی جھیل کے درمیان پہنچی تو بھارتیوں کی ادارہ جاتی شیطانی فطرت جاگ اٹھی۔  بھارتی نیوی کے افسران اور اہلکاروں نے خواتین اساتذہ اور بچیوں کی عصمت دری کیلئے ان سے دست درازی شروع کردی ۔جس پر با غیرت قوم کی اساتذہ اور بچیوں نے اپنی عزت کی حفاظت کیلئے سخت مزاہمت کی۔ اپنی بدکرداری میں ناکامی کے بعد بدحواس بھارتی فوجیوں نے کشتی کو جھیل کے درمیان  ڈبودیا ۔
 جس میں موجود اساتذہ اورطلبا نے اپنی جان قربان کرکے شہادت کا رتبہ حاصل کیا ۔ حادثے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والی ایک ننھی طالبہ نے بھارتی فوجیوں کا بھیانک چہرہ بے نقاب کیا۔
مقامی لوگوں نے یہ دردناک واقعہ دیکھا انہوںنے انہیں زندہ بچانے کی کوشش کی لیکن بھارتی نیوی اور فوج کے اہلکاروںنے بے نقاب ہونے کے خوف سے انہیں روکا ،  ان پر تشدد کیا  اور فائرنگ کردی ۔جس سے  دوکشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔عینی شاہدین نے بھارتیوں کی بربریت ،حیوانیت اورشیطانیت کے بارے میں بتایا کہ جب ہم نے ڈوبتے ہوئے بچوں اور خواتین اساتذہ کو بچانے کی کوشش کی تو بھارتی نیوی اور فوج کے اہلکاروں نے ہم پر فائرنگ کردی۔
اس دردناک سانحہ میں ایک ہی خاندان کی تین بچیاں وولر جھیل میںشہید ہوگئیں ۔اس خاندان کے  کے سربراہ اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق دمذہب اور اخلاقیات سے عاری قابض بھارتیوں کے بزرگوں ، خواتین اور بچوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک اور بے گناہ نوجوانوں کو شہید کرنے کے عمل نے ہندوتوا کا چہرہ بے نقاب کردیا ہے ۔ریاستی دہش تگردی نے تحریک آزادی میںوہ جوش اور ولولہ پیدا کردیا ہے  جو پہلے دیکھا نہ تھا ۔
یقین محکم نے ،ناقابل یقین کامیابیوں کا راستہ ہموار کردیا ہے ۔ کشمیریوں کی جدوجہد میں وولر جھیل جیسے بے شمارسانحات نے کشمیری قوم کو ایک ہی سبق دیا ہے ۔ انہیں اپنی آئندہ نسلوں کی بقاء کاایک ہی راستہ ہے ۔ بھارت سے آزادی ۔ 

تازہ ترین خبریں