10:27 am
خد شات ہی خد شات 

خد شات ہی خد شات 

10:27 am

پاک چین دوستی  کے طفیل ہی دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب ہورہے ہیں۔ چین پاکستان کی ترقی وتعمیر میں ایک دوست کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرناچاہتا ہے اسی دوستی  نے  سی پیک کو جنم دیاہے ۔ تعمیر وترقی کے بہت سے منصوبے اس سے جڑے ہوئے ہیں سی پیک ناصرف پاکستان ترقی  کیلے بلکہ چین کی توقی کیلے بھی کہیں زیادہ فائدہ مند ہے اس      سی پیک کے منصوبے نے دنیا کی بڑی  سپرپاورکی نیند حرام کی ہوئی ہے اسے خطرہ ہے کہ اس کی سپرمیسی  چین کہیں  اس سے چھین نہ لے کیونکہ چین جس تیزی سے ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔  اس سے صرف امریکہ کوہی نہیں دیگر بڑی طاقتوں کوبھی خطرہ محسوس ہورہاہے چین بڑی پھرتی سے کام لے رہاہے پہلے اپنی سستی مصنوعات سے امریکہ سے لیکر تمام دنیا میں جہاں جہاں اس کی رسائی ممکن ہوسکتی تھی اپنی مصنوعات کاجال پھیلایا اب امریکہ جیسے ملک میں ہرقسم کی مصنوعات سوئی سے لیکر موٹرکار ‘ہوائی جہاز غرض کوئی چیز چھوٹی نہیں امریکہ کوگھرمیں گھس کرمارنے والی بات ہوگی اب پاکستان جسے امریکہ اپنازر خرید سمجھتاآرہاہے وہ بھی اس کے ہاتھوں سے نکلاجارہاہے۔ سی پیک کے ذریعے چین دنیا کے اور قریب آجائے گا وہ اپنی مصنوعات جلدی اور بہتر طریقے سے دنیابھر کی مارکیٹوں تک پہنچا سکے گا اس طرح وہ دنیاپر چھاسکے گا۔
 امریکہ نہیں چاہتا پاک چین معاملات مضبوط بنیادوں پرقائم ہوں۔ سی پیک جو دونوں ملکوں میں شہ رگ کی حیثیت حاصل کرلے گا اس لئے امریکہ نہیں چاہتاکہ ایسا ہو۔ویسے بھی کئی طرح سے اس کے دانت پاکستان پر لگے ہوئے ہیں۔  پاکستان کی جوہری طاقت اوردیگرمعدنیات جن میں سونا‘ تانبا‘ لوہا یورینیم‘ ماربل‘ تیل اور سب سے بڑھ کر اس کامحل وقوع اور  حدوداربعہ ہے۔ امریکہ کی دودشمن یامخالف بڑی طاقتیں چین اور روس کی  سرحد یں  براہ راست اس کی زد میں آتی ہیں۔ موجودہ صورت حال میں  جب سے چین سے معاملہ طے پایا اورسی پیک بنناشروع ہواہے امریکہ کوکسی پل چین نہیں آرہا اس کابس نہیں چل رہا کہ وہ گھڑی کی چوتھائی میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادے۔ پاکستان نے اللہ کے کرم اور اپنے وسائل سے جوہری قوت کیا حاصل کی ہے تب سے پاکستان اس کے حلق میں پھنس کررہ گیا ہے۔  پاکستان ناصرف ایٹمی قوت ہے اور کسی نیم چڑھے کریلے کی مانند مسلمان بھی ہے۔ پاکستانی افواج کی دلیری بہادری کااسے خوب تجربہ ہوچکاہے۔ افغانستان میں جب امریکہ اور اس کی تمام اتحادی افواج جدید ترین اسلحہ سے لیس ہونے کے باوجودافغانیوں کوشکست نہ دے سکیں تو افواج  پاکستان نے ہی  افغانستان کے شرپسندوں کوسبق سکھایا۔ امریکی افواج کوافغانستان سے نکل جانے کاراستہ  بناکردیا۔ اس سے قبل پاک فوج نے روس جیسی سپر پاور کوخاک چٹنے پرمجبور کر دیا تھا اس ساری صورت حا ل کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی ہمت نہیں ہوتی پاکستان پر براہ راست ہاتھ ڈالنے کی۔ امریکہ کو یہ بھی خطرہ ہے کہ چین تو اپنی ایٹمی  قوت سے سپرپاور بن  گیا ہے کہیں پاکستان بھی چین کے ساتھ مل کر اپنی ایٹمی قوت کومزید نہ بڑھالے یہ بات کسی بھی طرح کلیسا کوپسند نہیں ہوگی کسی قیمت پربھی مسلمان ملک کو اتنا مضبوط ہوتا نہیں دیکھ سکتے شاید اس لئے ہی        امریکی انتظامیہ نے اب ایک نئی چال چلی ہے پاکستان میں داخل ہونے کیلئے ایران سے چھیڑ چھاڑ کررکھی ہے پہلے جب اس نے نائن الیون کوبہانا بناکر افغانستان پر حملہ آور ہونے کیلئے پاکستانی صدر مشرف سے راہداری اور ہوائی اڈے مانگے تھے تب  بات نہ مانے کی صورت میں امریکہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس وقت امریکہ کامطالبہ نہ ماناجاتا تو پھر پاکستان کوافغانوں کے حمائتی مان کرافغانستان سے پہلے پاکستان پر حملہ آور ہوناتھا ۔  صدرمشرف نے سار ے حالات کوسمجھتے ہوئے فوری اجازت دے کرہونے والے امریکی حملے کی منصوبہ بندی کوناکام  بنا دیا تھا اس بار معاملہ مختلف ہے افغانستان کی مانند پاکستان اور ایران کی سرحدیں  بھی ملی ہوئی ہیں اس بارایران پرجارحیت کرنے کیلے ایران سے ملحقہ علاقہ گوادر پور ٹ اور گوادر ایئرپورٹ کی امریکہ کوشدید ضرورت پڑے گی ۔ انکار کرنے کے صورت میں امریکہ طاقت کے زور پر گوادر کے علاقے میں داخل ہوکر قابض ہوسکتا ہے اس طرح وہ ناصرف گوادر کی بندر گاہ پرقبضہ کرلے گا اور گوادر ائیرپورٹ بھی اس کے قبضے میں چلاجائے گا۔ یوں سی پیک کی تعمیر برسوں کے لئے رک بھی سکتی ہے اور ختم بھی ہوسکتی ہے امریکہ اس طرح پاکستان کے ساتھ چین کوبھی شدید نقصان سے دوچار کرسکتاہے یوں وہ ایک تیر سے دو شکار کرسکتا ہے اور پاکستانی حکمرانوں کواپنے قدموں میں بیٹھنے پرمجبوربھی  کرسکتاہے دراصل اس ساری منصوبہ بندی میں یہ واضح نظرآرہاہے کہ ایران سے کشیدگی توایک بہانہ ہے ورنہ اس کااصل ٹارگٹ تو پاکستان اور اس کی ایٹمی طاقت کو ختم کرنا ‘پاکستان کوکچل دیناہے۔امریکہ ایسی کوششیں بارہا مختلف اندازوں سے کرتارہاہے۔ کبھی وطن عزیز میں دہشت گردی کی آگ لگا کر ‘کبھی مذہبی  مسلکی فسادات کراکر اور مختلف اندازوں اور طریقوں  سے کرتا کراتا رہتا ہے۔  وطن عزیز کی موجودہ معاشی مشکلات کے پس پردہ بھی وہی نظرآئے گا۔
   آئی ایم ایف ایک اسرائیلی کاروباری ادارہ ہے جو ملکوں کواپنے من پسند طریقے اورشرائط اور بھاری سود پرقرضہ فراہم  کرتاہے یہ ادارہ امریکی نژاد اسرائیلی ادارہ ہے۔ بظاہر یہ ادارہ پاکستان کی درخواست پراور امریکی شہ پر پاکستان کواپنے شکنجے میں جکڑنے کیلے پاکستان آیاہے۔ قرضہ توجانے کب ملے لیکن فی حال اس کی شرائط مان کر اس کے مطابق عمل درآمد کیاجارہاہے جب مطالبات پورے ہوں گے تب ہی شاید ہونے والے معاہدے پرعمل شروع ہوسکے گا۔وزیر یامشیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بنک کی تبدیلی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ابھی تو ابتدائے حساب کتاب ہے آگے آگے دیکھئے ہوتاہے کیا‘ حکمرانوں پر اندرونی بیرونی دبائوبڑھتاجارہاہے ۔
گوادر میں امریکی مداخلت  اور قبضہ کرنے کا شدید خطرہ ہے چین کواپنی سرمایہ کاری اور اپنے وقار کی  حفاظت کیلئے امریکہ کے سامنے گوادر کے میدان میں اترنا ہوگا  ۔چین کایوں مدمقابل  آنا کوئی غیر متوقع بات نہیں ہوگی اگر  ایسا ہوا تو دوبڑی طاقتوںکے ٹکرائو کاخطرہ پیدا  ہوجائے گا۔  اللہ نہ کرے کہ امریکہ کی ہٹ دھرمی  عالمی جنگ کاسبب بن جائے۔ پاکستان بھی ایٹمی قوت رکھتاہے جسے وہ استعمال کرنے کی ہمت اور حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ چین اور امریکہ تو سپر پاور ہیں ہی اگر اللہ نہ کرے ایسا ہوا تو وطن عزیز دوہاتھیوں کے درمیان پس کررہ جائے گا۔ چاہے خربوزہ چھری پرگرے یاچھری خربوزے پر دونوں طرح سے  نقصان خربوزے کاہی ہوگا۔ اللہ نہ  کرے کہ ایسا ہو یہ سارے خدشات صرف خدشات ہی رہیں اللہ وطن عزیز کی پاکستانی قوم کی حفاظت فرمائے۔  آمین  

تازہ ترین خبریں