10:29 am
اللہ کے نیک بندے اور جنت کا حُسن

اللہ کے نیک بندے اور جنت کا حُسن

10:29 am

پھر ایک نعمت بڑھ کر دوسری نعمت ، سبحان اللہ سبحان اللہ !خود اللہ رب العزت ان جنتیوں کو ،اپنے لاڈلے پیارے بندوں کوسلام کریں گے ’’سلام قولامن رب رحیم ‘‘ ایسی عظیم الشان جنت ، ایسی عظیم  بادشاہت ان جنتیوں کوملے گی کہ جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ‘ ہاں محبوب سبحانی اور علماء ربانیین کی زبانی جنت کے کچھ احوال کا تذکرہ اس نیت سے کر دیتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں بھی حصول جنت ، اللہ تعالیٰ کے دیدار اور ملاقات کاشوق وتڑپ پیدا ہوجائے۔ 
 
ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ جنت اور دوزخ برحق ہیں لیکن جنت ہے کیا …؟ کس چیز سے اسکی تعمیر ہوئی ہے …؟کو ن کونسی نعمتیں اس کے اندر ہونگی …؟وغیرہ ۔ان اور ان جیسی دیگر چند باتوں کے بارے جاننے کیلئے آئیے اپنے پیارے آقا حضور نبی کریم ﷺ کی زبانی چنداحادیث مبارکہ پڑھ لیتے ہیں۔
(۱)حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ :اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیزیں تیار کی ہیں …جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے  اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا خطرہ یا خیال ہی گزرا ہے اور اگر تم چاہو توپڑھو قرآن کی یہ آیت :’’فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین ‘‘(جس کا مطلب یہ ہے کہ کو ئی آدمی بھی ان نعمتوںکو نہیںجانتا جو ان بندوںکیلئے (جو راہ خدا میں اپنا محبوب مال خرچ کرنے والے ہیں ،اور راتوں کو عبادت خداوندی میں مصروف رہنے والے ہیں )چھپا کے اور محفوظ کرکے رکھی گئی ہیں جن میں ان کی آنکھوں کے لئے ٹھنڈک کا سامان ہے (مسلم بخاری )
(۲)حضرت ابوہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :’’جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔(بخاری و مسلم )
(یعنی جنت کی تھوڑی سے تھوڑی جگہ بھی دنیا مافیہا سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے اور اس میں کیا شبہ ہے ،دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے فانی ہے اور جنت اور اس کی ہر نعمت باقی ہے ،اورباقی کا کیا مقابلہ ؟)
(۳)حضرت انس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :راہ خدا میں ایک دفعہ صبح کا نکلنا یا شام کا نکلنا دنیا و مافیہاسے بہتر ہے،او راگر اہل جنت کی بیویوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانکے تو ان دونوں کے درمیان (یعنی جنت سے لے کرزمین تک )روشنی ہی روشنی ہو جائے ،اور مہک اور خوشبو سے بھر جائے ،اور اس کے سر کی صرف اوڑھنی بھی دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ۔ (بخاری)
(حدیث کا مقصود یہ بتلانا ہے کہ اے اہل ایمان ! اگر تم اپنے گھروںاور گھروالیوں کو عارضی طور پر چھوڑ کر تھوڑے سے وقت کیلئے بھی راہ خدا میں نکلو گے تو جنت میں ایسی بیویاں ہمیشہ ہمیشہ تمہاری رفیق او ر زندگی کی شریک رہیں گی ،جن کے حسن و جمال کا یہ عالم ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اس زمین کی طرف ذرا جھانکے تو زمین اور آسمان کے درمیان کی ساری فضا روشن اور معطر ہو جائے ، اور جن کا لباس اس قدر قیمتی ہے ،کہ صرف سر کی اوڑھنی اس دنیا و مافیہاسے بہتر اور بیش قیمت ہے ۔)
(۴)حضر ت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ سوار اس کے سایے میں سوسال چلے اور پھر بھی اس کو پار نہ کرسکے ،اور جنت میں تم میں سے کسی کی کما ن کے بقدر جگہ بھی اس ساری کائنات سے بہتر ہے ، جس پرآفتاب طلوع  ہوتا ہے،یا غروب ہوتاہے ۔ (بخاری ومسلم )
(۵)حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ :اہل جنت جنت میں کھائیں گے بھی اور پیئں گے بھی ، لیکن نہ توا نہیں تھوک آئے گا، اور نہ پیشاپ پاخانہ ہوگا،اور نہ ان کی ناک سے ریزش آئے گی ‘بعض صحابہؓ نے عرض کیا، تو کھانے کا کیاہوگا ؟ (یعنی جب پیشاپ پاخانہ کچھ بھی نہ ہو گا توجو کچھ کھایا جائے گا وہ آخر کہاں جائے گا؟ )آپ نے فرمایا کہ ڈکار او رپسینہ کی طر ح (یعنی غذا کا جو اثر نکلنا ہو گاوہ انہی دو طریقوں سے نکل جایا کرے گا ) اور ان اہل جنت کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کی حمدو تسبیح ا س طرح جاری ہوگی ،جس طرح تمہارا سانس جاری رہتا ہے۔ (مسلم)
(۶)حضرت ابو دسعید ؓاور ابوہریرہؓ سے روایت ہے ، یہ دونوں بیان فرماتے ہیں کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکار نے والا جنت میں جنتیوں کو مخاطب کر کے پکارے گا ،کہ یہاںصحت ہی تمہاراحق ہے، اور تندرستی ہی تمہارے لئے مقدر ہے، اس لئے اب تم کبھی بیمار نہ پڑو گے ،اور یہاں تمہارے لئے زندگی اور حیات ہی ہے، اس لئے اب تمہیں موت کبھی نہ آئے گی ،اور تمہارے واسطے جوانی اور شباب ہی ہے ،اس لئے اب کبھی تمہیں  بڑھاپا نہیں آئے گا ، اور تمہارے واسطے یہاں چین اورعیش ہی ہے اس لئے اب کبھی تمہیں کوئی تنگی اور تکلیف نہ ہوگی ۔ (مسلم)  
(جنت صرف آرام اور راحت کا گھر ہے… اس لئے وہاں تکلیف کا ، اور کسی تکلیف وہ حالت کا گذر نہ ہو گا ، نہ وہاں بیماری ہوگی،نہ موت آئے گی ،نہ بڑھاپا کسی کو ستائے گا ، نہ کسی اور قسم کی کوئی تنگی او رپریشانی کسی کو لاحق ہو گی ، اورجنتی بند ے جب جنت میں پہنچیں گے تو شروع ہی میںاللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی حیات او رابدی راحت کی یہ بشارت سناکر مطمئن کردیا جائے گا۔ )
(۷)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، کہ مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی ؟آپؐ نے فرمایا  پانی سے پھر ہم نے عر ض کیا ،کہ جنت کس چیز سے بنی (یعنی اس کی تعمیر پتھروںسے ہوئی یا اینٹوں سے ،یا کس چیز سے ؟) آپؐ نے فرمایا ،اس کی تعمیر اس طرح سے ہے،کہ ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ،اور ا س کا مسالہ (جس سے اینٹوں کو جوڑا گیا ہے  )تیز خوشبودار مشک ہے ،اور وہاں کے سنگریزے جو بچھے ہوئے ہیں وہ موتی اور یاقوت ہیں ،اور وہاںکی خاک گویا زعفران ہے ،جو لوگ اس جنت میں پہنچیں گے ، ہمیشہ عیش اورچین سے رہیں گے ،اور کوئی تنگی ، تکلیف ، ان کو نہ ہوگی اور ہمیشہ زندہ رہیں گے ،وہاں ان کو موت نہیںآئے گی ،اور کبھی ا ن کے کپڑے پرانے اور خستہ نہ ہوگے ، اور ان کی جوانی کبھی زائل نہ ہوگی ۔  

تازہ ترین خبریں