10:31 am
وزیرستان کا سانحہ! عمران مودی مذاکرات

وزیرستان کا سانحہ! عمران مودی مذاکرات

10:31 am

٭وہی ہوا جس کے خدشہ کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ ملک میں خاص انداز سے جو جنگی فضا بنائی جا رہی تھی اس کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے علاقہ میں خار قمر کی فوجی چوکی پر شر پسندوں کے گروہ نے حملہ کر دیا فائرنگ کے تبادلہ  میں ایک فوجی سپاہی شہید، پانچ زخمی، تین حملہ آور ہلاک 10 زخمی ہو گئے۔ مسلح افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ قومی اسمبلی کے ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں ہوا۔ حملے سے پہلے ان دونوں نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کیا اس پر مشتعل ہو کر ریلی کے مسلح گروہ نے فوجی چوکی پر حملہ کر دیا۔ چوکی میں موجود فوجی جوانوں نے جوابی فائرنگ کی۔ فوج کا ایک سپاہی شہید، 5 زخمی ہو گئے۔ تین حملہ آور ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد محسن داوڑ وہاں سے بھاگ گیا۔ فوج نے علی وزیر اور آٹھ حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا۔ اس واقعہ کے فوری بعد افغانستان کی ایک نیوز ایجنسی نے پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف جعلی تصویریں نشر کر دیں۔ بعد میں اس جعل سازی پر اس ایجنسی نے تصویریں واپس لے کر جعل سازی پر معذرت کر لی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آور اپنے کچھ دہشت گرد ساتھیوں کو چھڑانا چاہتے تھے۔
 
٭یہ عام معمولی واقعہ نہیں ہے، اس کے بعد صورت حال خاصی الجھتی دکھائی دے رہی ہے۔ چند روز قبل آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے واضح الفاظ میں کہاتھا کہ ’پشتین حقوق تحریک‘ کو بھارت اورافغانستان سے بھاری مالی امداد مل رہی ہے۔ اس تنظیم نے ایک عرصے سے پشتونوں کے حقوق کے نام پر پاکستان کے خلاف کھلی باغیانہ تحریک چلا رکھی ہے۔ ایک ریلی میں پاکستان کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور اس کے قومی پرچم کو قدموں تلے روندا گیا۔ ایک نوجوان نے روکا تو اس پر تشدد کر کے اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا گیا۔ گلا لئی اسماعیل نام کی ایک خاتون نے فوج کے خلاف ناقابل بیان گندے الزامات لگائے، اس کے خلاف پہلے بھی ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیوںکا مقدمہ درج تھا، مزید دو مقدمات درج ہو گئے ہیں۔ وہ روپوش ہو گئی ہے، اس کا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔
٭حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس واقعہ پر پاک فوج کی حمائت اور اس پر حملہ کی مذمت کی بجائے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تمسخر اڑایا ہے کہ محسن داوڑ کس طرح فوج پر حملہ کر سکتا ہے؟ مریم نواز نے مذمت کی بجائے ’قیمتی جانوں‘ کے ضا’ئع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے (اس وقت تک ایک فوجی کی شہادت کی خبر نہیں آئی تھی) یہ دونوں نوخیز سیاست دان ابھی سیاسی بلوغت تک نہیں پہنچے۔ بلاول اُردو بلکہ سندھی بھی نہ لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے۔ اسے تاریخ کے مطالعہ کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ برخوردار کسی سے پوچھ لو کہ بلوچستان میں تقریباً 45 برسوں سے جو باغیانہ شورش جاری ہے اس کا آغاز کس نے کیا تھا؟ سنو! یہ چشم دید واقعات ہیں۔ 1971ء کے آخر میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد تمہارے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر حکومت سنبھالی۔ بلوچستان اور صوبہ سرحد (اب پختونخوا) میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومتیں بنیں۔ بلوچستان میں بھٹو کی مرضی کے خلاف غوث بخش بزنجو گورنر، عطاء اللہ مینگل وزیراعلیٰ بنے۔ ایک سال بعد اس حکومت کے خلاف طے شدہ منصوبہ کے مطابق کراچی سے ملنے والے بلوچستان کے علاقے ’’حب‘‘ میں بغاوت کرا دی گئی۔ عطاء اللہ مینگل اپنی نئی قائم کردہ لیوی فورس کا لشکر لے کر ’حب‘ پہنچ گئے۔ اس کارروائی کو جواز بنا کر بھٹو نے 13 فروری 1973ء کو گورنر بزنجو اور مینگل حکومت کو برطرف کر دیا۔ اس سے پہلے لندن میں سیاسی پناہ والے بلوچ سردار اکبر بگٹی کے ذریعے ’لندن پلان‘ اعلان کرایا گیا اس میں بزنجو اور عطاء اللہ مینگل پر بلوچستان کی آزادی کی سرگرمیو ںکا ’انکشاف‘ کیا گیا تھا۔ اسی دوران اسلام آباد میں عراق کے سفارت خانے پر چھاپہ مار کر اسلحہ کی بھاری تعداد برآمد کرنے کااعلان بھی ہوا۔ اس اسلحہ (چند درجن رائفلیں اور چند ہزار گولیاں، کچھ بم) کی ملک بھر میں ریلوے ٹرین کے ذریعے نمائش کرائی گئی۔ میں نے کوئٹہ میںیہ نمائش دیکھی۔ لندن پلان کے مطابق اس اسلحہ کے ذریعے اسلام آباد پر قبضہ کیا جانا تھا! ان ’شواہد‘ کی بنا پر غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر بلوچ طلبا  بلوچستان میں ہنگامے شروع کر دیئے۔ برخوردار بلاول اب ذرا غور سے سنو! ان ہنگاموں کو دبانے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کے حکم پر فوج نے مختلف مقامات پر کارروائیاں شروع کر دیں۔ مخالف گروہ پہاڑوں پر بھاگ گئے۔ ان پہاڑوں پر پاکستان کی فضائیہ نے بم باری کی۔ بہت نقصان ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاک فوج اور فضائیہ کو اس طرح استعمال کیا گیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ بلوچستان میں شورش ختم ہونے کی بجائے مختلف انداز میں بڑھتی چلی گئی، 45 سال گزرنے کے بعد اب بھی جاری ہے۔ یہ سب کچھ تمہارے نانا جان کے ہاتھوں ہوا۔ اگر اس وقت مینگل حکومت کو اس طرح جبراً ختم نہ کیا جاتا تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔ پاکستان کی افواج ملک کی اندرونی و بیرونی سلامتی کی ضامن ہیں۔ ملک کا دفاع ان کی پیشہ ورانہ ذمے داری ہے۔ ماضی کی نسبت موجودہ صورتحال اس لئے زیادہ گمبھیر اور نازک ہے کہ ملک دشمن سرگرمیوں میں بھارت اور افغانستان کھلم کھلا ملوث ہیں۔ ایسے عالم میں پاک افواج خاموش نہیں رہ سکتیں۔
اور سنو بلاول! عطاء اللہ مینگل نے رہائی کے بعد زیادہ عمر کراچی اور لندن میں گزاری۔ وہ آخر تک پاکستان کے وفادار رہے۔ ان کے بیٹے اختر مینگل بلوچستان کے وزیراعلیٰ بھی بنے۔ 2013ء میں جنرل پرویز مشرف کی علیحدگی کے بعد عطاء اللہ مینگل پاکستان کا صدارتی انتخاب لڑنا چاہتے تھے۔ عطاء اللہ مینگل صدر بن جاتے تو بلوچستان میں مستقل امن قائم ہو جاتا مگر ایک پراسرار وصیت کے ساتھ تمہارے والد آصف زرداری صدر بن گئے۔ ان کے عہد صدارت میں سوات میں پاک فوج نے صوفی محمد کی باغیانہ تحریک کے خلاف آپریشن کیا۔ حیرت ہے کہ فوجی چوکی پر حملے کی مذمت کی بجائے اس واقعہ کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے کہ محسن داوڑ کیسے حملہ کر سکتا ہے؟
اور اب مریم نواز!! ایک عرصہ خاموش رہ کر اپنے والد نوازشریف کی رہائی کے لئے ہر طرف سے مایوس ہو کر کھلے عام محاذ آرائی پر اتر آئی ہیں۔ یہ قابل فہم نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے کہ وزیرستان کی محاذ  آرائی میں دونوں طرف پاکستانی افراد شامل تھے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ مریم نواز نے دونوں فریقوں سے تحمل اور افہام و تفہیم کی اچھی بات بھی کی ہے مگر یہ بھی کہہ دیا کہ پاکستان کی قیمتی جانوں کا نقصان افسوسناک ہے۔  (اس وقت تک صرف 3 حملہ ااوروں کی ہلاکت کی خبرآئی تھی) بی بی! ذرا یہ بتائیں کہ چار سال قبل ماڈل ٹائون لاہور میں کس حکومت کے دور میں پولیس نے 14 افراد (ایک خاتون) شہید کئے تھے؟ وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنرل راحیل شریف کو فوجی آپریشن کا حکم کس وزیراعظم نے دیا تھا؟ کس وزیراعظم کے دور میں پشاورآرمی سکول کا الم ناک سانحہ پیش آیا اور فوج نے اس کے ردعمل میں بھرپور کارروائی کی اور کس وزیراعظم کے دور میں سپریم کورٹ پر حملہ ہوا اور ججوں نے اپنے چیمبرز میں چھپ کر جان بچائی؟ بات لمبی ہو گئی،کالم ختم ہو رہا ہے مگر یہ بات بھی ضرور ہے کہ موجودہ ساری صورت حال میں فوج ہی ملکی سلامتی کے تحفظ کے لئے سینہ سپر ہے، حکومت کہاں ہے؟ بلکہ یہ کہ کوئی حکومت ہے بھی یا نہیں؟ بھانت بھانت کے اینٹ روڑوں پر مشتمل ایسی کمزور حکومت پہلے کبھی نہیں آئی۔ بے شمار اعلانات پھر ان کے الٹ اعلانات! کابینہ میں 17 غیر منتخب مشیر اور خصوصی معاونین جن کا کوئی انتخابی حلقہ ہی نہیں۔ وہ کیسے عوام کے پاس جا سکتے ہیں؟؟عوام کی بات کر سکتے ہیں؟

تازہ ترین خبریں