07:46 am
لیلۃُ القدر کی فضیلت 

لیلۃُ القدر کی فضیلت 

07:46 am

حضرت ابن عباس  رضی اﷲ عنہ ‘  سے مروی ہے کہ جناب رسول اﷲ  ﷺ  کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکرہو ا جس نے ایک ہزار مہینہ تک اﷲ کی راہ میں ہتھیار اٹھائے رکھے ۔جناب رسول ﷺ کو اس پر تعجب ہو ا اور اپنی امت کے لیے بھی ایسی نیکی کی تمنا کی اوردعا کی : اے رب تعالیٰ  !آپ  نے میری امت کی عمریں سب سے چھوٹی کر دیں او ر اعمال کم کر دیے ۔اﷲ تعالیٰ نے آپ کو لیلۃُ القدر عطافرمائی جو اس اسرائیلی آدمی کے اﷲتعالیٰ کی راہ میں ہزار ماہ تک ہتھیا ر بند ہونے سے زیادہ بہتر ہے اور یہ قیامت تک کے لیے آپ کی امت کو موقع دیدیا ۔ یہ بھی خصوصیات امت محمدیہ  ﷺ سے ہے ۔
 
بنی اسرائیل کے اس آدمی کا نام شمعون تھا ۔انہو ں نے دشمنوں کے ساتھ ایک ہزار ماہ تک جہا د کیا کہ ان کے گھوڑے کے بال بھی خشک نہیں ہوئے اور اﷲ تعالیٰ کی عطاکردہ  قوت و ہمت کے باعث کافروں کا مغلوب کردیا ۔کافر اس کی وجہ سے سخت تنگ آگئے تھے ، انہوں نے اس کی بیوی کے پاس ایک قاصد بھیجا اور ضمانت دی کہ ہم تجھے سونے کا طشت جو سونے سے بھرا ہو گا ، وہ دیں گے ، بشرطیکہ تم اسے پکڑ ادو تاکہ ہم اسے اپنے مکان میں لے آئیں اور اس سے آرام پائیں ،جب وہ رات کو سوگیا تو اس کی بیوی نے رسی کے ساتھ اسے باندھ دیا ،جب وہ بیدار ہو ا،تو اس نے اپنے اعضاء کو ہلایا تو تمام رسیا ں توڑ دیں ۔اس نے بیوی سے پوچھا :یہ کیوں کیا ؟  اس نے کہا میں تمہاری طاقت معلوم کرناچاہتی تھی ۔ جب کافروں کو پتہ چلا ۔تو انہو ں نے ا س کے پا س زنجیر بھیجی ۔اس نے پہلے کی طرح زنجیر کو بھی توڑ دیا ،اب ابلیس کافروں کے پاس آیا اور ان سے کہا : ان کی بیوی سے کہو وہ اس صالح مرد سے پو چھے :وہ کس چیز کو کاٹ نہیں سکتا تاکہ وہی چیز بھیجیں ۔عورت نے پو چھا تو اس نے کہا ۔میری زلفیں ۔اس کی آٹھ لمبی زلفیں تھی ،جو زمین پر گھسٹتی تھیں۔ اب جب وہ سو گیا تو عورت اس کے دونوں پاؤں چار کے ساتھ اور دونوں ہا تھ چار کے ساتھ باند ھ دیئے ۔کافر آئے اور اسے پکڑ کر ذبح خانے میں لے گئے ۔جس کی اونچائی چار سو گز تھی اور اسی قدر طول و عرض تھا ۔اس میں ایک ستون تھا ،انہوں نے اس کے کان اور ہونٹ کاٹ دیئے تمام کافر اس کے سامنے موجود تھے اس نے اﷲتعالیٰ سے دعا کی  اے اﷲ ! اس بندھن کو توڑنے کی ہمت عطافرما ئے اور یہ کہ ستون کو ہلادے اور ان پر گر ا کر انہیں ختم کر دے ۔اﷲ تعالیٰ نے اسے ہمت عطاکر دی وہ ہلا اور بندھن توڑ دیا اور ستون کو ہلایا اور چھت ان پر گر پڑا، اﷲتعالیٰ نے سب کافروں کو ہلاک کر دیا اور وہ اس سے بچ کر واپس آگیا ۔جب جناب رسول اﷲ ﷺ کے صحا بہ کرام نے یہ سُنا ،تو عرض کیا ،اے اﷲ کے رسول  !  کیا ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ا س کا ثواب کس قدر ہے۔ آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا پھر آپ نے رب تعالیٰ کے حضور دعاکی تو اﷲ نے لیلۃ ُ القدر عطافرمائی ۔
حضرت انس  رضی اﷲتعالیٰ عنہ‘  سے روایت کی کہ جناب رسول اﷲ  ﷺ نے فرمایا جب لیلۃُ القدر آتی ہے  ، تو حضرت جبرئیل علیہ السلام فر شتوں کی جماعت میں اترتے ہیں اور کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر ذکر اﷲ کرنے والے کے لیے دعا کرتے اور اس کو سلام کرتے ہیں ۔حضرت ابو ہریرہ  رضی اﷲتعالیٰ عنہ کا فرمان ہے۔ لیلۃُ القدر کی رات میں زمین پر کنکر سے زیا دہ  تعداد میں فرشتے نازل ہو تے ہیں  ، چنانچہ ان کے نا زل ہو نے کے لئے  آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جیسے کہ مروی ہے کہ کثرت سے انو ارات ہو تے ہیں اور عظیم تجلیا ت ہو تی ہیں اس میں فرشتے اور لوگ متفرق طور پر عیان ہوتے ہیںبعض کو آسمانوں اور زمین کے فرشتے نظر آتے ہیں تو آسمان کے حجاب کھل جاتے ہیں و ہاں فرشتوں کا مکاشفہ ہو تا ہے ۔ بعض کھڑے ہیں ، بعض بیٹھے ہیں ، بعض رکوع میں ہیں بعض سجدہ میں ہیں ، بعض شکر کر رہے ہیں ، بعض سبحا ن اﷲ پڑھ رہے ہیں اور بعض  لا الہ الا اﷲ پڑ ھ رہے ہیں اور بعض کو جنت کا مکاشفہ ہو تا ہے کہ اس میں محلات ، مکانات ، حوریں ، نہریں ، درخت اور پھل ہیں ۔ رحمٰن تعالیٰ کے عرش کا مکا شفہ ہو تا ہے اور اس کی چھت کا کشف ہو تا ہیں  اور انبیاء ، صدیقین ، شہد ا ء اور اولیا ء کے مراتب کا پتہ چلتاہے ، وہ عالم ملکوت اور عالم رحموت کی سیر کرتا ہے ، دوزخ کا مشاہدہ کر تا ہے اور اس کی وادیاں دیکھتا ہے ۔ اس طرح کفار کے حالات سے آگاہ ہو تا ہے، بعض سے اﷲتعالیٰ کے جمال حجابات کھل جاتے ہیں ،چنانچہ اسے صرف اسی کا مشاہدہ ہو تا ہے  ۔
حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ حضور اکرم  ﷺ  نے فرمایا جس نے ماہ رمضان کی ستائیسویں  شب صبح تک زندہ کی (عبادت کی ) تووہ مجھے رمضان کے قیام سے زیادہ عزیز ہے حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے ابا جا ن کمزور مرد عورتیں جو قیام شب پر قادر نہیں وہ کیا کریں  ؟  آپ نے فرمایا وہ تکیے نہ رکھیں کہ جس پر ڈھانسنا لگا تے ہیں اور اسی رات ایک گھڑی بیٹھ کر اﷲ تعالیٰ سے دعا کریں مجھے یہ بات اپنی ساری امت کے قیام رمضان سے زیادہ پسند ہے ۔

تازہ ترین خبریں