07:51 am
رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

07:51 am

 رمضان المبارک کے بعد بحیثیت ِ مسلمان ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ اور چونکہ رمضان ، قرآن اور پاکستان کا آپس میں ایک خاص تعلق ہے ، اس تعلق کی مناسبت سے بحیثیت پاکستانی ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟ اس حوالے سے جاننا ہمارے لیے ازحد ضروری ہے ۔ چنانچہ اسی مناسبت سے آج درج ذیل موضوعات ہمارے زیر مطالعہ ہیں۔
 قرآن مجید کی جس آیت میں روزے کی فرضیت کا حکم ہے اسی میں روزے کااصل حاصل بھی بتایا گیا ہے :  ’’اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘(البقرہ)
یہ دنیا اصل زندگی نہیں ہے بلکہ یہ تو آزمائش ہے جہاں ہر پل ہر لمحہ انسان کو آزمایا جارہا ہے۔ اس آزمائش میں وہی لوگ کامیاب ہوں گے جن کے پاس تقویٰ کی دولت ہوگی ۔ پھر اس آزمائش کے بعد اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں کامیابی کا انحصار دنیا کی آزمائش کے نتائج پر ہے۔یعنی دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا راز صرف تقویٰ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار باور کرا رہا ہے کہ آخرت میں کامیابی کی گارنٹی صرف انہیں لوگوں کے لیے ہے جو متقی ہیں ۔ 
’’وہ تیار کی گئی ہے (اور سنواری گئی ہے) اہل تقویٰ کے لیے۔‘‘ (آل عمران)
’’یقینا اہل ِتقویٰ کے لیے کامیابی ہو گی۔‘‘(النباء)
’’یقینا متقی لوگ باغات میں اور نعمتوں میں ہوں گے۔‘‘(الطور)
انسان کے نفس میں حدود سے تجاوز کرنے کے رجحانات ہیں، گناہ کی طرف میلان ہے، جس کے پاس مواقع ہوتے ہیں وہ داؤ لگانے کی کوشش کرتا ہے ، دنیا کی دوڑ میں آگے نکلنے اور دنیا کی لذات حاصل کرنے کے لیے انسان ہر داؤ پیچ کھیلتا ہے ۔ لیکن یہ ہوشیاری اور یہ چالاکی اس کی دائمی کامیابی کی ضامن ہرگز نہیں ہوسکتی۔ اصل کامیابی انہیں کا نصیب ٹھہرے گی جو دنیا میں اپنے نفس کو لگام دے کر رکھیں اور ایسا صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے دل میں خداخوفی ہوگی کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور میں نے اللہ کے حضور ایک دن حاضر ہونا ہے ۔ لہٰذا مجھے گناہوں ، حرام اور منکرات سے بچنا ہے ۔یہی اصل میں تقویٰ ہے ۔
’’اور جوکوئی ڈرتا رہا اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے (کے خیال) سے اور اُس نے روکے رکھا اپنے نفس کو خواہشات سے۔‘‘(النازعات)
حشر میں تو سب ڈریں گے۔ دنیا میں رہتے ہوئے جس کو اس کا احساس رہا ، ہر کام کرتے ہوئے اسے خیال رہا کہ مجھے اللہ کی عدالت میں کھڑے ہونا ہے اور اس وجہ سے اس نے اپنے نفس کے منہ زور گھوڑے کو لگام دے کر رکھی ۔ ایسے لوگ ہی متقی ہیں اور یہی کامیاب ہوں گے ۔
 ’’تو یقینااُس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے دنیا کی آزمائش میں سرخرو ہوکر آخرت میں دائمی کامیابی کے حقدار بن جائیں چنانچہ اسی مقصد کے تحت اللہ نے انسان میں تقویٰ کے حصول کی ٹریننگ کے لیے ، انسان میں ضبط نفس پیدا کرنے کے لیے روزے کی عبادت فرض کی ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے بہت سارے مسلمان روزے کا اہتمام کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کی خاطر سارا دن کھانے پینے سے اپنے آپ کو روکے رکھتے ہیں ،اپنی بیویوں کے پاس جانے سے رک جاتے ہیں ۔ حالانکہ یہ سب چیزیں عام دِنوں میں طیب ہیں ، حلال ہیں، پاکیزہ ہیں۔لیکن اللہ کو اپنے بندے کی تربیت مطلوب ہے۔ اب اس کا لازمی اور منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ سال کے بقیہ گیارہ مہینے ہم حرام، گناہ ، منکرات اور فواحش سے اپنے آپ کو روکے رکھیں ۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے اپنے ایک مضمون میں  بڑے خوبصورت انداز میں اس بات کو سمجھا یاہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ بندہ ٔمومن کے لیے دو روزے ہیں۔ ایک روزہ تو وہ ہے جس کو ہم سب جانتے ہی ہیںاور وہ ماہ رمضان میں فرض ہے ۔ اس میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک پورا مہینہ کھانے پینے اور  خواہشات پورا کرنے پر پابندی ہے۔ ایک ساری زندگی کا روزہ ہے جس کا خاتمہ موت پرہوگا اور وہ روزہ ہے گناہ ، حرام ، منکرات اور فواحشات سے بچنا۔ جس طرح روزہ اللہ کا حکم ہے اسی طرح ان تمام برائیوں سے بچنا بھی اللہ کا مسلسل حکم ہے اور یہ حکم زندگی کی آخری سانس تک برقرار رہے گا۔چنانچہ رمضان کے بعد ایک روزہ تو ہم پر اب فرض نہیں رہا لیکن دوسرا روزہ آخری سانس تک جاری ہے ۔
قرآن مجید میں سورۃ البقرہ کا 23واں رکوع روزے کی حکمت اور احکام پر مشتمل ہے۔ اس کی آخری آیت (188)میں بڑی عجیب بات کہی گئی ہے اور اکثر لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ اس کا روزے سے تعلق کیا ہے: ’’اور تم اپنے مال آپس میں باطل طریقوں سے ہڑپ نہ کرو اور اس کو ذریعہ نہ بنائو حکام تک پہنچنے کاتاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ہڑپ کر سکو گناہ کے ساتھ اور تم اس کو جانتے بوجھتے کر رہے ہو۔‘‘ 
 یعنی روزے کی عبادت کے بعد اب سب سے بڑا لٹمس ٹسٹ ہے کہ واقعی ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہوا ہے کہ نہیں ۔ کیا پورا مہینہ تقویٰ حاصل کرنے کی ٹریننگ کے بعد اب بھی ہم رشوت دے کرکسی کا حق تو نہیں مار رہے ، جانتے بوجھتے کسی کے حق کو اپنا حق تو نہیں سمجھ رہے ۔ تقویٰ کی پہچان یہیں سے ہوگی۔ یہ نہیں کہ خاص وضع قطع اورخاص لباس سے تقویٰ کا معیار ماپا جائے گا ۔ 
حاصل یہ ہے کہ رمضان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو ٹریننگ دی ہے اس سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اب ہم پوری کوشش کریں کہ گناہ، حرام ، منکرات اور فواحشات سے بچیں ۔ اگر ہم نے اس کی کوشش کی تو پھر رمضان ہمارے لیے پورے سال کے لیے برکت کا باعث بن جائے گا ۔تقویٰ کی بنیاد پر ہی ہم دنیا کی آزمائش میں پورا اُترسکتے ہیں اور اس کٹھن آزمائش میں کامیابی کے لیے قرآن سے ہدایت بھی ہم اسی صورت میں حاصل کر سکتے ہیں جب ہم میں تقویٰ موجود ہوگا ۔     (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں