07:53 am
 قوم پرستوں کے لگائے زخم !

قوم پرستوں کے لگائے زخم !

07:53 am

  شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملے کی خبر سن کے ہر درد مند پاکستانی بے چین ہے! مغربی محاذ پر افغان سرحد سے متصل پاکستانی قبائلی علاقے اب صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ ہیں ! جس وقت عساکر پاکستان نے ان علاقوں پر قابض  غیر ملکی سرمائے پر پلنے والے  دہشت گردوں کے خلاف   تاریخی جنگ کا آغاز کیا تو یہ قبائلی علاقے وفاق کے زیرانتظام تھے۔ حکومت کے اختیار و اعتبار نام کی کوئی چیز فاٹا میں کبھی دکھائی نہ دیتی تھی۔ جمہوریت کی دہائی دینے اور آئین کی بالا دستی کی مالا جپنے والی پی پی پی اور نون لیگ کے دور حکومت میں دہشت گردوں کے خلاف اعصاب شکن جنگ لڑی جاتی رہی ۔ متاثرہ آبادی نے آبائی علاقوں سے کیمپوں میں نقل مکانی کی ۔ سویلین بالادستی کے نعرے مارنے والی سیاسی قیادت نے اپنا آئینی فریضہ پورا کرنے کے بجائے زبانی جمع خرچ پر اکتفا کیا ۔
 کیمپوں کے قیام سے متاثرین کی بحالی تک کا سارا کام اُس فوج کے کاندھوں پر ڈال دیا جو سرحدوں سمیت ملک کے طول و عرض میں دہشت گردوں اور بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں کے خلاف بر سر پیکار تھی ۔ یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ جب قبائلی علاقوں کے غیور عوام گھر سے بے گھر ہو کے کیمپوں میں مصائب کا ٹ رہے تھے تو پاک فوج نے ایک جانب دہشت گردی کے عفریت کا بھی مقابلہ کیا اور دوسری  جانب متاثرہ آبادی کے زخموں پر بھی مرہم رکھا ۔ آزمائش و ابتلاء کی گھڑیوں میں بھی پی پی پی اور نون لیگ نے اپنی نالائقی اور بد عنوانی کی روش نہ بدلی ۔ قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹس کے دفاتر کرپشن اور نالائقی کے گڑھ بنے رہے۔ بد عنوانی اور نااہلی کی یہ گنگا وفاق کی ناک کے نیچے ایسے وقت میں بہہ رہی تھی جبکہ پاک فوج کے جوان ، غیور قبائلی اور وسائل سے محروم پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جہاد میں خون کی ندیاں بہا رہے تھے ۔  قبائلی علاقوں میں پائی جانے والی بے چینی کی وجوہات سمجھنا مشکل نہیں ۔
 گزشتہ ایک عشرے کے دوران  وفاق پر حکومت کرنے والی جماعتیں اپنی ناکامی کا اقرار کرنے کے بجائے افواج پاکستان پر طعنہ زنی اور تنقید کر رہی ہیں ۔ جس وقت پاک فوج کے افسر و جوان مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے تو   عین حالت جنگ میں پی پی پی کا تعینات کردہ سفیر امریکی جاسوسوں اور کرائے کے قاتلوں کو قواعد کے بر خلاف ویزے جاری کر کے پاکستان کی فصیلوں میں نقب لگوا رہا تھا ۔ اسی بھگوڑے سفیر اور پی پی پی کی صفوں میں روپوش کالی بھیڑوں کی سازش سے میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا ۔ یہ میمو گیٹ اسکینڈل کیا تھا ؟ سادہ لفظوں میں پاکستان کی  مایہ ناز خفیہ ایجنسی کو بے دست وپا کر کے دشمنوں کے اشاروں پر نچانے کا گھنائونا منصوبہ تھا ۔ اس سے بد تر روش نون لیگ نے اپنائے رکھی ۔ تاریخ کی پیچیدہ ترین جنگ میں مصروف کار فوج کی پشت پر خنجر گھونپنے کی شدید خواہش چھپائے نہ چھپتی تھی ۔ ڈان لیکس اسکینڈل کیا تھا ؟ اگر حکومت دودھ کی دھلی تھی تو پھر بڑبولے وزیر کو کیوں بر طرف کیا ؟ طارق فاطمی کو کیوں بلی کا بکرا بنایا ؟ بر طرف وزیر اعظم کو ممبئی حملوں سے متعلق بے وقت کی راگنی چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی ؟ کھل بھوشن یادو کے بھیا نک اعترافات کے بعد بھی وزیر اعظم اور اُن کے حواریوں کی زبان پر بھارت کے خلاف تالے کیوں پڑے رہے ؟ 
 یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پی پی پی اور نون لیگ  کی صفوں میں پائے  جانے  والے بعض سازشی  عناصر نے عین حالت جنگ میں اپنی فوج کے خلاف سازشوں کا محاذ گرم کئے رکھا ۔ آج  جب  پی ٹی ایم کی صفوں سے پاک فوج کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے تو پی پی پی اور نون لیگ کی باطنی خوشی چھپائے نہیں چھپتی ! پی ٹی ایم اپنے مطالبات پارلیمان کے فورم پر سیاسی قیادت کے سامنے لانے سے کیوں گریزاں ہے ؟ صوبائی حکومت نے راتوں رات سوشل میڈیا کے بطن سے جنم لینے والی اس تنظیم سے کیا سیاسی رابطے کیے ہیں ؟ افواج پاکستان کے ترجمان نے بڑی ذمہ داری سے پی ٹی ایم کو بھارت اور افغانستان سے ملنے والی امداد اور ریاست مخالف ایجنڈے کے فروغ میں اس کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی تھی ۔ سوال یہ ہے کہ ان الزامات کے بعد ریاست حرکت میں کیوں نہیں آئی ؟ کیا ان عناصر کی گرفتاری ، مقدموں کا قیام اور تفتیش بھی اب پاک فوج کو کرنا ہوگی ؟ آخر اسلام آباد کی فضا میں ایسا کیا نشہ ہے کہ ہر حکمراں گروہ  اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھتا ہے۔ 
شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عوامی مصائب کی آگ پر  لسانی نفرت کا تیل چھڑک کے اندرونی امن  و استحکام کو نذر آتش کرنے کے منصوبوں پر عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس کا ایک واضح ثبوت اسلام آباد میں قتل ہونے والی معصوم بچی فرشتہ کے اندہناک واقعے پر لسانی تعصب بھڑکانے کی ان کاوشوں سے بھی ملتا ہے جس میں پی ٹی ایم سمیت غیرملکی این جی اوز کے راتب پر پلنے والے  وہ لبرل ٹوڈی تھے جو صبح و شام اسلام اور پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف رہتے ہیں ۔ پی ٹی ایم کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے سادہ لوح پشتونوں کی لاشیں درکار ہیں ۔ حالیہ واقعے میں پی ٹی ایم لاشیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان سے لے کے لندن ، امریکہ ، بھارت اور یورپ میں روپوش مفروروں اور پناہ گزینوں نے سوشل میڈیا  پر پاک فوج کے خلاف دشنام طرازی اور جھوٹے الزاما ت کو طوفان اٹھا رکھا ہے۔ 
ریاست اس معاملے کی حساسیت کو سمجھے اور تمام مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ وفاق اور کے پی کے میں پی ٹی آئی حکمران جماعت ہونے کے ناطے اپنی زمہ داریاں نبھانے کے لیے  متحرک  ہونے میں مزید تاخیر نہ کرے ۔ لسانی سیاست کے علمبرداروں نے آج تک پاکستان کے وجود کو زخم ہی دیئے ہیں ۔ شیخ مجیب الرحمان ، الطاف حسین اینڈ کمپنی ، سندھو دیش تحریک کے حامی  ، پشتونستان اور افغانیہ ریاست کے ناٹک رچانے والے سرخے اور  بی ایل اے کے دہشت گرد وں نے ریاست پاکستان اور اس کے مظلوم شہریوں کو زخم ہی دیئے ہیں ۔ یقین نہ آئے تو تاریخ کے صفحات الٹ کے بھارت ، افغانستان ، روس اور امریکہ کی ڈگڈگی پر بندر کی طرح ناچنے والے  ان نام نہاد قوم پرستوں کی کارستانیاں ضرور دیکھ لیں ! پی ٹی ایم کی اٹھان اور انداز سے خیر کی توقع رکھنا حماقت ہو گی۔    

تازہ ترین خبریں